اہم خبریں

استعفیٰ دیں گے یا نہیں؟ نجم سیٹھی نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

  ہفتہ‬‮ 11 اگست‬‮ 2018  |  17:19
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان کے وزیراعظم بننے سے قبل ہی چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے عہدہ چھوڑنے کا عندیہ دیدیا۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعظم عمران خان بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ہوں گے اور اگر وہ اپنے کسی شخص کو پی سی بی میں لانا چاہتے ہیں تو مجھے اشارہ کردیں میں استعفیٰ دے دوں گا۔انہوں نے کہا کہ نیا چیئرمین مقرر کرنا، پیٹرن ان چیف کا استحقاق ہے لیکن ابھی میں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے

(خبر جا ری ہے)

مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ عمران خان کی حکومت آنے کی صورت میں کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو جائے گا؟پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا آپ عمران خان کے آنے کے بعد چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں کہا کہ 'میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ذات کی خاطر عدم استحکام اور انتشار سے دوچار نہیں کرنا چاہتا، اگر مجھے عمران خان یا ان کے کسی بھی مشیر کی جانب سے یہ اشارہ مل گیا کہ وہ مجھے چیئرمین کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہتے اور اپنا آدمی لانا چاہتے ہیں تو میں از خود پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیر باد کہہ کر گھر چلا جاؤں گا'۔عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد نجم سیٹھی کا اپنے مستقبل کے حوالے سے یہ پہلا انٹرویو ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر کھل کر اظہار کرنے سے گریز کیا لیکن تاہم واضح طور پر اپنا پیغام پہنچادیا۔نجم سیٹھی نے کہا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاوں گا جس سے پی سی بی کو نقصان ہو،کرکٹ سے میری روزی روٹی وابستہ نہیں ہے، میں ٹی وی پر اپنا شو بھی شروع کرسکتا ہوں، میں نے کوئی کوئی غلط کام نہیں کیا ہے کہ گھبراؤں۔خیال رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں پنجاب اسمبلی کی نو منتخب آزاد رکن جگنو محسن نے جہاں اپنے سیاسی مقاصد واضح کیے وہیں اپنے شوہر نجم سیٹھی کے مستقبل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نجم سیٹھی آئندہ 8 سے 10 دنوں میںاس بارے میں اہم فیصلہ کریں گے اور وہ یہ فیصلہ اپنی عزت نفس کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔اس حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ ابھی تک میرا بورڈ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے لیکن میں اسی صورت میں کام کروں گا جب عمران خان یا ان کے لوگ مجھے کام جاری رکھنے کے بارے میں کہیں گے، اپنے مستقبل کے بارے میں کسی دباؤ پر کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔نجم سیٹھی نے کہا کہمیں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات شفاف انداز میں چلائیں ہیں اور ہر سال بورڈ کا آڈٹ بھی باقاعدگی سے کرایا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے دو ایڈیشنز کے آڈٹ ہوچکے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پہلے پی ایس ایل کا آڈٹ مکمل کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے جس دن بورڈ میں تبدیلی کا اشارہ مل گیا میں پی سی بی کو خیر باد کہہ دوں گا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما جاوید بدر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کے خلاف تحقیقات کیلئے نیب کو خط ارسال کر دیا۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ میں بے پناہ کرپشن کی ۔ نجم سیٹھی پی ایس ایل آڈٹ رپورٹ منظر عام پر نہیںآنے دے رہے ۔نجم سیٹھی کو آڈٹ رپورٹ عام کرنے کے لئے خط بھی لکھا گیا لیکن رپورٹس پبلک نہیں کی گئیں۔خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی ایس ایل کا سارا فنانشل ریکارڈ فوری قبضے میں لیا جائے۔ بطور چیئرمین پی سی بی پی ایس ایل کو کامیاب کرنے میں بھی ناکام رہے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان کے وزیراعظم بننے سے قبل ہی چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے عہدہ چھوڑنے کا عندیہ دیدیا۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعظم عمران خان بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ہوں گے اور اگر وہ اپنے کسی شخص کو پی سی بی میں لانا چاہتے ہیں تو مجھے اشارہ کردیں میں استعفیٰ دے دوں گا۔انہوں نے کہا کہ نیا چیئرمین مقرر کرنا، پیٹرن ان چیف کا استحقاق ہے لیکن ابھی میں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج

ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ عمران خان کی حکومت آنے کی صورت میں کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو جائے گا؟پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا آپ عمران خان کے آنے کے بعد چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں کہا کہ ‘میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ذات کی خاطر عدم استحکام اور انتشار سے دوچار نہیں کرنا چاہتا، اگر مجھے عمران خان یا ان کے کسی بھی مشیر کی جانب سے یہ اشارہ مل گیا کہ وہ مجھے چیئرمین کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہتے اور اپنا آدمی لانا چاہتے ہیں تو میں از خود پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیر باد کہہ کر گھر چلا جاؤں گا’۔عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد نجم سیٹھی کا اپنے مستقبل کے حوالے سے یہ پہلا انٹرویو ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر کھل کر اظہار کرنے سے گریز کیا لیکن تاہم واضح طور پر اپنا پیغام پہنچادیا۔نجم سیٹھی نے کہا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاوں گا جس سے پی سی بی کو نقصان ہو،کرکٹ سے میری روزی روٹی وابستہ نہیں ہے، میں ٹی وی پر اپنا شو بھی شروع کرسکتا ہوں، میں نے کوئی کوئی غلط کام نہیں کیا ہے کہ گھبراؤں۔خیال رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں پنجاب اسمبلی کی نو منتخب آزاد رکن جگنو محسن نے جہاں اپنے سیاسی مقاصد واضح کیے وہیں اپنے شوہر نجم سیٹھی کے مستقبل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نجم سیٹھی آئندہ 8 سے 10 دنوں میںاس بارے میں اہم فیصلہ کریں گے اور وہ یہ فیصلہ اپنی عزت نفس کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔اس حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ ابھی تک میرا بورڈ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے لیکن میں اسی صورت میں کام کروں گا جب عمران خان یا ان کے لوگ مجھے کام جاری رکھنے کے بارے میں کہیں گے، اپنے مستقبل کے بارے میں کسی دباؤ پر کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔نجم سیٹھی نے کہا کہمیں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات شفاف انداز میں چلائیں ہیں اور ہر سال بورڈ کا آڈٹ بھی باقاعدگی سے کرایا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے دو ایڈیشنز کے آڈٹ ہوچکے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پہلے پی ایس ایل کا آڈٹ مکمل کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے جس دن بورڈ میں تبدیلی کا اشارہ مل گیا میں پی سی بی کو خیر باد کہہ دوں گا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما جاوید بدر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کے خلاف تحقیقات کیلئے نیب کو خط ارسال کر دیا۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ میں بے پناہ کرپشن کی ۔ نجم سیٹھی پی ایس ایل آڈٹ رپورٹ منظر عام پر نہیںآنے دے رہے ۔نجم سیٹھی کو آڈٹ رپورٹ عام کرنے کے لئے خط بھی لکھا گیا لیکن رپورٹس پبلک نہیں کی گئیں۔خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی ایس ایل کا سارا فنانشل ریکارڈ فوری قبضے میں لیا جائے۔ بطور چیئرمین پی سی بی پی ایس ایل کو کامیاب کرنے میں بھی ناکام رہے۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں