اہم خبریں

’’پی ایس ایل میں اب وہی غیر ملکی کھلاڑی کھیلے گا جو یہ کام کر سکتا ہو‘‘ فرنچائز مالکان نے کن غیر ملکی کھلاڑیوں کو صاف جواب دیدیا، پاکستانی کھلاڑیوں پرغیر ملکی لیگ کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کیلئے بھی بڑا قدم اٹھا لیا گیا، بڑی خبر آگئی

  جمعہ‬‮ 4 مئی‬‮‬‮ 2018  |  17:05
لاہور(آئی این پی)آئندہ سال پاکستان سپر لیگ کے میچ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں ہوں گے، ملتان میں فائیو اسٹار ہوٹل نہ ہونے کی وجہ سے ملتان کو پی ایس ایل میچز کی میزبانی ملنا مشکل ہے۔پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز اس بار متحدہ عرب امارات کے بجائے پاکستان سے ہوگا۔ تین سال بعد افتتاحی تقریب پاکستان میں ہوگی تاہم سیکیورٹی معاملات کی وجہ سے تمام میچز پاکستان میں کرانے کی تجویز پر اتفاق نہیں ہوسکا۔تین سال میں پہلی بار غیر ملکی کھلاڑیوں کو ادا کئے جانے والے معاوضے سے ٹیکس کی کٹوتی کی جائے گی جبکہ

(خبر جا ری ہے)

اور فرنچائز نمائندے پی ایس ایل کھلاڑیوں کی نئی رینکنگ بھی جاری کریں گے۔ لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے اگلے ایڈیشن کے لئے پالیسی معاملات طے کرنے کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ اور 6 فرنچائز کے نمائندوں کا اجلاس ہوا۔پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل پراجیکٹ ڈائریکٹر نائیلہ بھٹی،جنرل منیجر انٹرنیشنل عثمان واہلہ اور عمران احمد خان نے شرکت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں متعدد تجاویز سامنے آئیں اور بہت سارے معاملات پر جلد فیصلہ ہوجائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تیسرے ایڈیشن میں امپائرنگ کے خراب معیار پر تقریبا تمام فرنچائز نے تحفظات ظاہر کئے۔بورڈ کے ایک افسر نے امپائروں کے حق میں بولنے کی کوشش کی لیکن انہیں فرنچائز نمائندوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید تنقید کے بعد بورڈ نے ہتھیار ڈال دیے اور مستقبل میں امپائرنگ کے معیار میں بہتری لانے کا عندیہ دیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا آغاز پہلی بار پاکستان سے ہوگا، کراچی، لاہور اور پنڈی میں میچز ہوں گے، ملتان اسٹیڈیم انٹرنیشنل معیار کے مطابق ہے لیکن ہوٹل کی وجہ سے اس بار ملتان میں پی ایس ایل میچ نہ کرانے کی تجویز ہے۔اجلاس فرنچائزوں نے پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں کرانے کی تجویز دی لیکن پی سی بی نے کہا کہ سیکیورٹی کی وجہ سے اس وقت ایسا ممکن نہیں ہے۔ ٹورنامنٹ کے اگلے ایڈیشن میں ہر ٹیم21 میں سے 12 کھلاڑیوں کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ ہر ٹیم 21 کے بجائے 20 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی۔ٹورنامنٹ کے دوران اگر کوئی کھلاڑی ان فٹ ہوجاتا ہے تو وہ مکمل طور پر ٹورنامنٹ سے باہر ہوجائے گا، ایک ار کسی کھلاڑی کا متبادل لینے کے بعد وہ کھلاڑی ٹورنامنٹ میں واپس نہیں آسکے گا۔ پاکستان سپر لیگ میں آئندہ وہی غیر ملکی کھلاڑی شریک ہوگا جو پاکستان آنے کے لئے تیار ہوگا۔ اگر کوئی کھلاڑی حامی بھرنے کے باوجود پاکستان نہیں آتا ہے تو فرنچائز نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ فرنچائز کے نقصان کا ازالہ پاکستان کرکٹ بورڈ کرے اور کھلاڑی کو پیسے فرنچائز نہیں پاکستان کرکٹ بورڈ ادا کرے۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان سپر لیگ 4 کی ڈرافٹ رینڈم طریقے سے ہوگی جبکہ کھلاڑیوں کی مختلف کٹیگریز میں معاوضے کی ادائیگی کی تجویز ہے۔فرنچائز نمائندوں نے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کے حوالے سے ڈائریکٹر ہارون رشید کی اجلاس سے غیر حاضری پر ناراضی کا اظہار بھی کیا۔دوسری جانبپاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی ) نے قومی کرکٹرز کی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کو محدود رکھنے کیلئے قانون سازی شروع کردی ہے۔مجوزہ قانون کے تحت کرکٹ بورڈ کا کنٹریکٹ رکھنے والا کوئی بھی کھلاڑی ایک سال میں پی ایس ایل سمیت دو سے زائد ٹی 20 لیگز نہیں کھیل سکے گا۔اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا اجلاس چیئرمین نجم سیٹھی کی سربراہی میں ہوا، جس میں ہارون رشید، مدثر نذر، سبحان احمد اورنائلہ بھٹی سمیت دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ قومی کرکٹرز کی لیگز میں شرکت کے حوالے سے قانون سازی شروع کر دی گئی ہے۔ اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹرکچر کو تبدیل نہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا اور ریجنل پلیئرز کی میچ فیس بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی جب کہ مقامی ٹی ٹوئنٹی لیگز کے انعقاد کو بھی قانون کے ضابطے میں لانے پر اتفاق کیا گیا۔تمام تجاویز پر حتمی رپورٹ منظوری کیلئے جلد چیئرمین کرکٹ بورڈ کو پیش کی جائے گی۔

لاہور(آئی این پی)آئندہ سال پاکستان سپر لیگ کے میچ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں ہوں گے، ملتان میں فائیو اسٹار ہوٹل نہ ہونے کی وجہ سے ملتان کو پی ایس ایل میچز کی میزبانی ملنا مشکل ہے۔پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز اس بار متحدہ عرب امارات کے بجائے پاکستان سے ہوگا۔ تین سال بعد افتتاحی تقریب پاکستان میں ہوگی تاہم سیکیورٹی معاملات کی وجہ سے تمام میچز
پاکستان میں کرانے کی تجویز پر اتفاق نہیں ہوسکا۔تین سال میں پہلی بار غیر ملکی کھلاڑیوں کو ادا کئے جانے والے معاوضے سے ٹیکس کی کٹوتی کی جائے گی جبکہ قومی سلیکٹرز اور فرنچائز نمائندے پی ایس ایل کھلاڑیوں کی نئی رینکنگ بھی جاری کریں گے۔ لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے اگلے ایڈیشن کے لئے پالیسی معاملات طے کرنے کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ اور 6 فرنچائز کے نمائندوں کا اجلاس ہوا۔پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل پراجیکٹ ڈائریکٹر نائیلہ بھٹی،جنرل منیجر انٹرنیشنل عثمان واہلہ اور عمران احمد خان نے شرکت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں متعدد تجاویز سامنے آئیں اور بہت سارے معاملات پر جلد فیصلہ ہوجائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تیسرے ایڈیشن میں امپائرنگ کے خراب معیار پر تقریبا تمام فرنچائز نے تحفظات ظاہر کئے۔بورڈ کے ایک افسر نے امپائروں کے حق میں بولنے کی کوشش کی لیکن انہیں فرنچائز نمائندوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید تنقید کے بعد بورڈ نے ہتھیار ڈال دیے اور مستقبل میں امپائرنگ کے معیار میں بہتری لانے کا عندیہ دیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا آغاز پہلی بار پاکستان سے ہوگا، کراچی، لاہور اور پنڈی میں میچز ہوں گے، ملتان اسٹیڈیم انٹرنیشنل معیار کے مطابق ہے لیکن ہوٹل کی وجہ سے اس بار ملتان میں پی ایس ایل میچ نہ کرانے کی تجویز ہے۔اجلاس فرنچائزوں نے پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں کرانے کی تجویز دی
لیکن پی سی بی نے کہا کہ سیکیورٹی کی وجہ سے اس وقت ایسا ممکن نہیں ہے۔ ٹورنامنٹ کے اگلے ایڈیشن میں ہر ٹیم21 میں سے 12 کھلاڑیوں کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ ہر ٹیم 21 کے بجائے 20 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی۔ٹورنامنٹ کے دوران اگر کوئی کھلاڑی ان فٹ ہوجاتا ہے تو وہ مکمل طور پر ٹورنامنٹ سے باہر ہوجائے گا، ایک ار کسی کھلاڑی کا متبادل لینے کے بعد وہ کھلاڑی ٹورنامنٹ میں واپس نہیں آسکے گا۔
پاکستان سپر لیگ میں آئندہ وہی غیر ملکی کھلاڑی شریک ہوگا جو پاکستان آنے کے لئے تیار ہوگا۔ اگر کوئی کھلاڑی حامی بھرنے کے باوجود پاکستان نہیں آتا ہے تو فرنچائز نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ فرنچائز کے نقصان کا ازالہ پاکستان کرکٹ بورڈ کرے اور کھلاڑی کو پیسے فرنچائز نہیں پاکستان کرکٹ بورڈ ادا کرے۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان سپر لیگ 4 کی ڈرافٹ رینڈم طریقے
سے ہوگی جبکہ کھلاڑیوں کی مختلف کٹیگریز میں معاوضے کی ادائیگی کی تجویز ہے۔فرنچائز نمائندوں نے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کے حوالے سے ڈائریکٹر ہارون رشید کی اجلاس سے غیر حاضری پر ناراضی کا اظہار بھی کیا۔دوسری جانبپاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی ) نے قومی کرکٹرز کی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کو محدود رکھنے کیلئے قانون سازی شروع کردی ہے۔مجوزہ قانون کے تحت کرکٹ بورڈ

کا کنٹریکٹ رکھنے والا کوئی بھی کھلاڑی ایک سال میں پی ایس ایل سمیت دو سے زائد ٹی 20 لیگز نہیں کھیل سکے گا۔اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا اجلاس چیئرمین نجم سیٹھی کی سربراہی میں ہوا، جس میں ہارون رشید، مدثر نذر، سبحان احمد اورنائلہ بھٹی سمیت دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ قومی کرکٹرز کی لیگز میں شرکت کے حوالے سے قانون سازی شروع کر دی گئی ہے۔

اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹرکچر کو تبدیل نہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا اور ریجنل پلیئرز کی میچ فیس بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی جب کہ مقامی ٹی ٹوئنٹی لیگز کے انعقاد کو بھی قانون کے ضابطے میں لانے پر اتفاق کیا گیا۔تمام تجاویز پر حتمی رپورٹ منظوری کیلئے جلد چیئرمین کرکٹ بورڈ کو پیش کی جائے گی۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں