اہم خبریں

اسلام کا چھٹا رکن

  ہفتہ‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2020  |  1:05
ساتویں صدی ہجری میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ حضرت خواجہ صاحبؒ حضرت گنج شکرؒ کے مرید تھے۔ حضرت بابا گنج شکرؒ کا مزار پنجاب کے شہر پاک پتن میں ہے۔ اس کا پرانا نام اجودھن تھا اور حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا مزار دلی بھارت میں ہے۔ حضرت خواجہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس زمانے میں اجودھن کا قصبہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کی تبلیغ اور ہدایت کے نور سے جگمگا رہا تھا ایک قریبی گاؤں میں

(خبر جا ری ہے)

صاحب رہتے تھے جن کو اپنے علم کا بڑا گھمنڈ تھا اور علم کے غرور میں وہ کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ درویشوں کو تو وہ بہت حقیر جانتے تھے۔ ایک دن ملا صاحب حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی مجلس میں حاضر ہوئے اور ایسے انداز میں گفتگو شروع کی گویا وہ علم کا سمندر ہیں اور دوسرے ان کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ جب وہ کافی دیر مجلس کے حاضرین پر اپنے علم کا رعب جمانے کی کوشش کر چکے تو بابا صاحب نے ان سے پوچھا:’ْمولوی صاحب! اسلام کے کتنے رکن ہیں؟‘‘ملا صاحب نے کڑک کر جواب دیا:’’پانچ پہلا کلمہ، دوسرا نماز، تیسرا روزہ، چوتھا زکوٰۃ اور پانچواں حج‘‘۔بابا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا:میں نے سنا ہے کہ ایک چھٹا رکن بھی ہے۔ ملا صاحب بگڑ کر بولے:آپ نے جو کچھ سنا ہے غلط ہے۔بابا صاحب نے فرمایا:’’میں نے بعض عالموں سے سنا ہے کہ اسلام کا چھٹا رکن روٹی ہے‘‘۔یہ سن کر ملا صاحب کو سخت غصہ آیا اور وہ بولے۔’’آپ جیسے کم علم لوگ خواہ مخواہ ایسے مسئلے گھڑ لیتے ہیں آپ کو علمی اور دینی مسئلوں میں دخل نہیں دینا چاہئے‘‘۔یہ کہہ کر وہ سخت ناراضی کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ بابا صاحب نے ان کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ غصے میں بھرے ہوئے چلے گئے۔ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ملا صاحب حج کیلئے مکہ معظمہ گئے اور وہاں سات سال قیام کرنے کے بعد بحری جہاز کے ذریعے وطن کیلئے روانہ ہوئے۔ راستے میں جہاز کو طوفان نے آ لیا اور خوفناک سمندری لہروں نے اسے غرق کر دیا۔ ملا صاحب کی زندگی ابھی باقی تھی۔ جہاز کے ایک ٹوٹے ہوئے تختے پر بہتے ہوئے کنارے آ لگے اور تختے سے اتر کر خشکی پر پہنچے۔ یہ ایک بے آباد ویران جزیرہ تھا۔ ہر طرف خشک پہاڑ تھے سبزہ کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ ملا صاحب ایک پہاڑ کی کھوہ میں بیٹھ گئے۔ بھوک پیاس سے نڈھال تھے لیکن کھانے پینے کا کوئی سامان نہ تھا۔ دو تین دن اسی طرح گزرے یہاں تک کہ ان کی جان لبوں پر آ گئی۔ یکایک انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف آ رہا ہے اس کے سر پر ایک خوان ہے اور وہ آواز لگا رہا ہے۔ روٹی بیچتا ہوں روٹی۔یہ آواز سن کر ملا صاحب کی جان میں جان آئی لیکن ایک پیسہ بھی پاس نہ تھا۔ روٹی کیسے خریدتے۔ بڑی عاجزی کے ساتھ اس آدمی سے کہنے لگے۔’’بھائی میں مسافر ہوں، میرا جہاز سمندر میں غرق ہو گیا، میں یہاں تین دن سے بھوکا پیاسا ایڑیاں رگڑ رہا ہوں، روٹی خریدنے کیلئے میرے پاس کچھ نہیں ہے‘‘۔اس آدمی نے کہا ’’میرے پاس روٹی بھی ہے اور پانی بھی لیکن میں دکاندار ہوں بغیر قیمت لئے کسی کو روٹی پانی نہیں دیتا۔ملا صاحب نے پوچھا، کیا تم مسلمان ہو؟اس نے جواب دیا: الحمد للہ میں مسلمان ہوں۔ملا صاحب نے کہا، میں بھی مسلمان ہوں، دین کا عالم ہوں اور اللہ کے فضل سے سات بار حج کر چکا ہوں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مسافروں اور بھوکوں، پیاسوں کی مدد کرو۔ اس وقت میں مغتاج ہوں، اگر مجھے کھانا پانی دو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو گا۔اس آدمی نے کہا:آپ جو فرماتے ہیں وہ ٹھیک ہے لیکن میں اس طرح مفت روٹی بانٹنے لگوں تو میری دکانداری ختم ہو جائے گی۔یہ کورا جواب سن کر ملا صاحب رو کر کہنے لگے۔’’بھائی! اللہ کے لئے مجھ پر رحم کرو اور کھانا پانی دے کر میری جان بچا لو۔اس شخص نے کہا: اچھا اگر آپ سات حج کا ثواب مجھے دے دیں تو آپ کو روٹی پانی دے دوں گا ملا صاحب کی جان پر بنی ہوئی تھی فوراً بولے۔ ’’بھائی میں خوشی سے سات حج کا ثواب تجھے بخشتا ہوں‘‘۔اب اس شخص نے خوان سر سے اتار کر ملا صاحب کے سامنے رکھ دیا۔انہوں نے سیر ہو کر روٹی کھائی اور پانی پیا۔ اس کے بعد وہ شخص خالی برتن لے کر پہاڑوں کے اندر غائب ہو گیا‘‘۔ملا صاحب نے اس کے گھر کا پتہ لگانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ آخر تھک ہار کر سمندر کے کنارے بیٹھ گئے کہ کہ کوئی جہاز یا کشتی ادھر سے گزرے تو اشارہ دے کر اسے اپنی طرف بلائیں لیکن دو تین دن گزر گئے، کسی جہاز یا کشتی کا ادھر سے گزر نہ ہوا۔ ملا صاحب اب پھر بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو گئے۔ اس وقت پھر وہی روٹی پانی والا آدمی نمودار ہوا اور روٹی پانی کے بدلے میں ملا صاحب سے ساری عمر کے روزوں کا ثواب لے لیا۔ تین چار دن کے بعد پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اب کی بار ملا صاحب اپنی ساری عمر کی نمازوں اور زکوٰۃ کا ثواب اس شخص کو روٹی پانی کے بدلے میں دے بیٹھے۔ چوتھی بار جب وہ شخص اسی طرح آیا تو ملا صاحب کہنے لگے۔بھائی! اب تو میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا جو تجھے دے کر روٹی پانی لوں۔ میرے پاس اب صرف اللہ کا نام ہے‘‘۔ اس شخص نے کہا:’’مولوی صاحب! پہلے تو آپ نے اپنی عمر بھر کی نمازوں، زکوٰۃ اور سات حج کا ثواب زبانی بخشا۔ آج میں قلم دوات ساتھ لایا ہوں، اگر آپ لکھ دیں کہ ان ساری عبادتوں کا ثواب میں نے ایک ایک وقت کی روٹی کے لئے فروخت کر دیا ہے تو آج میں صرف اس تحریر کے بدلے میں آپ کو کھانا کھلا دوں گا‘‘۔ملا صاحب اس وقت بھی بھوک پیاس سے ہلکان ہو رہے تھے فوراً جو کچھ اس شخص نے کہا، وہی لکھ کر اسے دے دیا۔اس شخص نے کھانا کھلا کر اپنی راہ لی۔اس واقعہ کے تھوڑی دیر بعد ملا صاحب کو سمندر میں ایک جہاز نظر آیا۔ انہوں نے اپنی پگڑی کھول کر اسے زور زور سے لہرایا جہاز والوں نے ایک کشتی بھیج کر ملا صاحب کو جہاز پر سوارکر لیا۔ یہ ہندوستان کے حاجیوں کا جہاز تھا۔ ملا صاحب ان کے ساتھ اپنے وطن واپس پہنچے اور چند دن اپنے گھر میں آرام کیا۔ پھر ایک دن بابا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے سات حج کرنے کا حال بابا صاحب کو سنایا۔ وہ سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا:حج پر جانے سے پہلے آپ یہاں تشریف لائے تھے تو میں نے اسلام کے ایک رکن روٹی کا ذکر کیا تھا اس پر آپ ناراض ہو گئے تھے ہمیں آپ کی ناراضگی کا بہت صدمہ تھا اور آپ اکثر ہم کو یاد آتے تھے۔ ملا صاحب نے کہا:’’اوہو مجھے تو یہ واقعہ یاد ہی نہ رہا تھا لیکن میرا خیال اب بھی یہی ہے کہ اسلام کا چھٹا رکن کوئی نہیں ہے‘‘۔بابا صاحب نے فرمایا:مولانا! میں سنی سنائی بات نہیں کر رہا، میں نے تو یہ بات لکھی ہوئی دیکھی ہے‘‘۔ملا صاحب نے کہا:’’اگر واقعی ایسا ہے تو آپ مجھے بھی یہ بات لکھی ہوئی دکھا دیجئے‘‘۔بابا صاحب نے اپنے ایک خادم کو آواز دی کہ میری فلاں کتاب لانا جب وہ ایک ضخیم کتاب لے کر حاضر ہوا تو آپؒ نے ملا صاحب کے سوا باقی سب لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا اور کتاب کے ورق الٹتے ہوئے ایک جگہ ہاتھ رکھ کر فرمایا:’’لیجئے مولانا یہ عبارت پڑھ لیجئے‘‘۔ملا صاحب نے غور سے دیکھا تو یہ عبارت ان کی اپنی لکھی ہوئی تھی اسے دیکھتے ہی ملا صاحب چیخ مار کر بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو بابا صاحب کے قدموں پر گر پڑے۔ اپنے علم کے گھمنڈ سے توبہ کی اور باباصاحب کے مرید ہو گئے۔ اس دن کے بعد وہ اکثر خاموش رہتے تھے اور اللہ کے خوف سے روتے رہتے تھے۔اصل میں بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اسلام کے پانچ ہی رکن تھے۔ چھٹے رکن والی بات آپ نے ملا صاحب کو سبق دینے کیلئے کی تھی کہ اپنے علم پر غرور نہیں کرنا چاہئے۔

ساتویں صدی ہجری میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ حضرت خواجہ صاحبؒ حضرت گنج شکرؒ کے مرید تھے۔ حضرت بابا گنج شکرؒ کا مزار پنجاب کے شہر پاک پتن میں ہے۔ اس کا پرانا نام اجودھن تھا اور حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا مزار دلی بھارت میں ہے۔ حضرت خواجہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس زمانے میں اجودھن کا قصبہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کی تبلیغ اور ہدایت کے نور سے جگمگا رہا تھا ایک قریبی گاؤں میں ایک

ملا صاحب رہتے تھے جن کو اپنے علم کا بڑا گھمنڈ تھا اور علم کے غرور میں وہ کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ درویشوں کو تو وہ بہت حقیر جانتے تھے۔ ایک دن ملا صاحب حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی مجلس میں حاضر ہوئے اور ایسے انداز میں گفتگو شروع کی گویا وہ علم کا سمندر ہیں اور دوسرے ان کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ جب وہ کافی دیر مجلس کے حاضرین پر اپنے علم کا رعب جمانے کی کوشش کر چکے تو بابا صاحب نے ان سے پوچھا:’ْمولوی صاحب! اسلام کے کتنے رکن ہیں؟‘‘ملا صاحب نے کڑک کر جواب دیا:’’پانچ پہلا کلمہ، دوسرا نماز، تیسرا روزہ، چوتھا زکوٰۃ اور پانچواں حج‘‘۔بابا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا:میں نے سنا ہے کہ ایک چھٹا رکن بھی ہے۔ ملا صاحب بگڑ کر بولے:آپ نے جو کچھ سنا ہے غلط ہے۔بابا صاحب نے فرمایا:’’میں نے بعض عالموں سے سنا ہے کہ اسلام کا چھٹا رکن روٹی ہے‘‘۔یہ سن کر ملا صاحب کو سخت غصہ آیا اور وہ بولے۔’’آپ جیسے کم علم لوگ خواہ مخواہ ایسے مسئلے گھڑ لیتے ہیں آپ کو علمی اور دینی مسئلوں میں دخل نہیں دینا چاہئے‘‘۔یہ کہہ کر وہ سخت ناراضی کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ بابا صاحب نے ان کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ غصے میں بھرے ہوئے چلے گئے۔ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ملا صاحب حج کیلئے مکہ معظمہ گئے اور وہاں سات سال قیام کرنے کے بعد بحری جہاز کے ذریعے وطن کیلئے روانہ ہوئے۔ راستے میں جہاز کو طوفان نے آ لیا اور خوفناک سمندری لہروں نے اسے غرق کر دیا۔ ملا صاحب کی زندگی ابھی باقی تھی۔ جہاز کے ایک ٹوٹے ہوئے تختے پر بہتے ہوئے کنارے آ لگے اور تختے سے اتر کر خشکی پر پہنچے۔ یہ ایک بے آباد ویران جزیرہ تھا۔ ہر طرف خشک پہاڑ تھے سبزہ کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ ملا صاحب ایک پہاڑ کی کھوہ میں بیٹھ گئے۔ بھوک پیاس سے نڈھال تھے لیکن کھانے پینے کا کوئی سامان نہ تھا۔ دو تین دن اسی طرح گزرے یہاں تک کہ ان کی جان لبوں پر آ گئی۔ یکایک انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف آ رہا ہے اس کے سر پر ایک خوان ہے اور وہ آواز لگا رہا ہے۔ روٹی بیچتا ہوں روٹی۔یہ آواز سن کر ملا صاحب کی جان میں جان آئی لیکن ایک پیسہ بھی پاس نہ تھا۔ روٹی کیسے خریدتے۔ بڑی عاجزی کے ساتھ اس آدمی سے کہنے لگے۔’’بھائی میں مسافر ہوں، میرا جہاز سمندر میں غرق ہو گیا، میں یہاں تین دن سے بھوکا پیاسا ایڑیاں رگڑ رہا ہوں، روٹی خریدنے کیلئے میرے پاس کچھ نہیں ہے‘‘۔اس آدمی نے کہا ’’میرے پاس روٹی بھی ہے اور پانی بھی لیکن میں دکاندار ہوں بغیر قیمت لئے کسی کو روٹی پانی نہیں دیتا۔ملا صاحب نے پوچھا، کیا تم مسلمان ہو؟اس نے جواب دیا: الحمد للہ میں مسلمان ہوں۔ملا صاحب نے کہا، میں بھی مسلمان ہوں، دین کا عالم ہوں اور اللہ کے فضل سے سات بار حج کر چکا ہوں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مسافروں اور بھوکوں، پیاسوں کی مدد کرو۔ اس وقت میں مغتاج ہوں، اگر مجھے کھانا پانی دو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو گا۔اس آدمی نے کہا:آپ جو فرماتے ہیں وہ ٹھیک ہے لیکن میں اس طرح مفت روٹی بانٹنے لگوں تو میری دکانداری ختم ہو جائے گی۔یہ کورا جواب سن کر ملا صاحب رو کر کہنے لگے۔’’بھائی! اللہ کے لئے مجھ پر رحم کرو اور کھانا پانی دے کر میری جان بچا لو۔اس شخص نے کہا: اچھا اگر آپ سات حج کا ثواب مجھے دے دیں تو آپ کو روٹی پانی دے دوں گا ملا صاحب کی جان پر بنی ہوئی تھی فوراً بولے۔ ’’بھائی میں خوشی سے سات حج کا ثواب تجھے بخشتا ہوں‘‘۔اب اس شخص نے خوان سر سے اتار کر ملا صاحب کے سامنے رکھ دیا۔انہوں نے سیر ہو کر روٹی کھائی اور پانی پیا۔ اس کے بعد وہ شخص خالی برتن لے کر پہاڑوں کے اندر غائب ہو گیا‘‘۔ملا صاحب نے اس کے گھر کا پتہ لگانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ آخر تھک ہار کر سمندر کے کنارے بیٹھ گئے کہ کہ کوئی جہاز یا کشتی ادھر سے گزرے تو اشارہ دے کر اسے اپنی طرف بلائیں لیکن دو تین دن گزر گئے، کسی جہاز یا کشتی کا ادھر سے گزر نہ ہوا۔ ملا صاحب اب پھر بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو گئے۔ اس وقت پھر وہی روٹی پانی والا آدمی نمودار ہوا اور روٹی پانی کے بدلے میں ملا صاحب سے ساری عمر کے روزوں کا ثواب لے لیا۔ تین چار دن کے بعد پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اب کی بار ملا صاحب اپنی ساری عمر کی نمازوں اور زکوٰۃ کا ثواب اس شخص کو روٹی پانی کے بدلے میں دے بیٹھے۔ چوتھی بار جب وہ شخص اسی طرح آیا تو ملا صاحب کہنے لگے۔بھائی! اب تو میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا جو تجھے دے کر روٹی پانی لوں۔ میرے پاس اب صرف اللہ کا نام ہے‘‘۔ اس شخص نے کہا:’’مولوی صاحب! پہلے تو آپ نے اپنی عمر بھر کی نمازوں، زکوٰۃ اور سات حج کا ثواب زبانی بخشا۔ آج میں قلم دوات ساتھ لایا ہوں، اگر آپ لکھ دیں کہ ان ساری عبادتوں کا ثواب میں نے ایک ایک وقت کی روٹی کے لئے فروخت کر دیا ہے تو آج میں صرف اس تحریر کے بدلے میں آپ کو کھانا کھلا دوں گا‘‘۔ملا صاحب اس وقت بھی بھوک پیاس سے ہلکان ہو رہے تھے فوراً جو کچھ اس شخص نے کہا، وہی لکھ کر اسے دے دیا۔اس شخص نے کھانا کھلا کر اپنی راہ لی۔اس واقعہ کے تھوڑی دیر بعد ملا صاحب کو سمندر میں ایک جہاز نظر آیا۔ انہوں نے اپنی پگڑی کھول کر اسے زور زور سے لہرایا جہاز والوں نے ایک کشتی بھیج کر ملا صاحب کو جہاز پر سوارکر لیا۔ یہ ہندوستان کے حاجیوں کا جہاز تھا۔ ملا صاحب ان کے ساتھ اپنے وطن واپس پہنچے اور چند دن اپنے گھر میں آرام کیا۔ پھر ایک دن بابا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے سات حج کرنے کا حال بابا صاحب کو سنایا۔ وہ سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا:حج پر جانے سے پہلے آپ یہاں تشریف لائے تھے تو میں نے اسلام کے ایک رکن روٹی کا ذکر کیا تھا اس پر آپ ناراض ہو گئے تھے ہمیں آپ کی ناراضگی کا بہت صدمہ تھا اور آپ اکثر ہم کو یاد آتے تھے۔ ملا صاحب نے کہا:’’اوہو مجھے تو یہ واقعہ یاد ہی نہ رہا تھا لیکن میرا خیال اب بھی یہی ہے کہ اسلام کا چھٹا رکن کوئی نہیں ہے‘‘۔بابا صاحب نے فرمایا:مولانا! میں سنی سنائی بات نہیں کر رہا، میں نے تو یہ بات لکھی ہوئی دیکھی ہے‘‘۔ملا صاحب نے کہا:’’اگر واقعی ایسا ہے تو آپ مجھے بھی یہ بات لکھی ہوئی دکھا دیجئے‘‘۔بابا صاحب نے اپنے ایک خادم کو آواز دی کہ میری فلاں کتاب لانا جب وہ ایک ضخیم کتاب لے کر حاضر ہوا تو آپؒ نے ملا صاحب کے سوا باقی سب لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا اور کتاب کے ورق الٹتے ہوئے ایک جگہ ہاتھ رکھ کر فرمایا:’’لیجئے مولانا یہ عبارت پڑھ لیجئے‘‘۔ملا صاحب نے غور سے دیکھا تو یہ عبارت ان کی اپنی لکھی ہوئی تھی اسے دیکھتے ہی ملا صاحب چیخ مار کر بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو بابا صاحب کے قدموں پر گر پڑے۔ اپنے علم کے گھمنڈ سے توبہ کی اور باباصاحب کے مرید ہو گئے۔ اس دن کے بعد وہ اکثر خاموش رہتے تھے اور اللہ کے خوف سے روتے رہتے تھے۔اصل میں بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اسلام کے پانچ ہی رکن تھے۔ چھٹے رکن والی بات آپ نے ملا صاحب کو سبق دینے کیلئے کی تھی کہ اپنے علم پر غرور نہیں کرنا چاہئے۔

loading...