اہم خبریں

حضرت عثمانؓ بن عفان سے منسوب تاریخی الشعیبہ بندرگاہ سیاحوں کا پسندیدہ مقام،جانتے ہیں یہ کہاں واقع ہے؟

  بدھ‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2019  |  17:30
جدہ(این این آئی)سعودی عرب کے مغرب میں واقع الشعیبہ بندرگاہ کو مملکت میں سیاحتی سنگ میل کا درجہ حاصل ہے۔ اس کا شمار ملک کی تاریخی بندرگاہوں میں ہوتا ہے۔ یہ بندرگاہ بحیرہ احمر میں مچھلی کے شکار اور خوطہ خوری کے شوقین حضرات اور سیاحوں کے لیےخاص کشش رکھتی ہے۔تاریخی بندرگاہ شعیبہ مکہ معظمہ سے جنوب میں 90 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ساحل سمندر پر فطرت کے حسین اور قدیم نظاروں کے ساتھ اس بندرگاہ کا جزیرہ گھنے درختوں سے بھرا ہوا ہے۔تاریخی مصادر سے پتا چلتا ہے کہ خلیفہ سوم حضرت عْثمانؓ بن عفان کے دور

(خبر جا ری ہے)

کو جدہ منتقل کیا گیا۔ زمانہ جاھلیت اور اوائل اسلام میں یہ مکہ المکرمہ کی اہم ترین بندرگاہ سمجھی جاتی تھی۔جدہ میں سوسائٹی آف کلچر اینڈ آرٹس کی فوٹوگرافی کمیٹی کے چیئرمین عمر النھدی بھی اس بندرگاہ اور ساحل سمندر سے بہت متاثر ہیں۔ انہوں نے شعیبہ بندرگاہ کے دورے کے دوران ایک ٹوٹے ہوئے بڑے بحری جہاز کی ایک تصویر بھی شیئر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بندرگاہ سمندری غوطہ خوروں کے لیے لطف اٹھانے کا پسندیدہ مقام ہے۔ اس کے علاوہ یہاں آنے والے سیاح اس کی قدرتی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور یہاں پر موجود ایک پرانے اور ٹوٹے ہوئے جہاز کی یادگاری تصاویر ضرور بناتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ الفہد نامی یہ بحری جہاز 32 سال سے یہاں کھڑا ہے۔ لوگ اس کی تصاویر لینے کے ساتھ اس کے یہاں پر رکنے کے راز جاننے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شعیبہ بندرگاہ بحری جہازوں کے قبرستان کے طور پر مشہور ہے۔ یہاں پر ناکارہ ہونے والے جہاز لائے جاتے ہیں۔ اس وقت بھی یہاں تین ایسے جہاز موجود ہیں جو اب صرف سیاحوں کی فوٹو گرافی کے لیے بچ گئے ہیں۔

جدہ(این این آئی)سعودی عرب کے مغرب میں واقع الشعیبہ بندرگاہ کو مملکت میں سیاحتی سنگ میل کا درجہ حاصل ہے۔ اس کا شمار ملک کی تاریخی بندرگاہوں میں ہوتا ہے۔ یہ بندرگاہ بحیرہ احمر میں مچھلی کے شکار اور خوطہ خوری کے شوقین حضرات اور سیاحوں کے لیےخاص کشش رکھتی ہے۔تاریخی بندرگاہ شعیبہ مکہ معظمہ سے جنوب میں 90 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ساحل سمندر پر فطرت کے حسین اور قدیم نظاروں کے ساتھ اس بندرگاہ کا جزیرہ گھنے درختوں سے بھرا ہوا ہے۔تاریخی مصادر سے پتا چلتا ہے کہ خلیفہ سوم حضرت عْثمانؓ بن عفان کے دور میں

بندرگاہ کو جدہ منتقل کیا گیا۔ زمانہ جاھلیت اور اوائل اسلام میں یہ مکہ المکرمہ کی اہم ترین بندرگاہ سمجھی جاتی تھی۔جدہ میں سوسائٹی آف کلچر اینڈ آرٹس کی فوٹوگرافی کمیٹی کے چیئرمین عمر النھدی بھی اس بندرگاہ اور ساحل سمندر سے بہت متاثر ہیں۔ انہوں نے شعیبہ بندرگاہ کے دورے کے دوران ایک ٹوٹے ہوئے بڑے بحری جہاز کی ایک تصویر بھی شیئر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بندرگاہ سمندری غوطہ خوروں کے لیے لطف اٹھانے کا پسندیدہ مقام ہے۔ اس کے علاوہ یہاں آنے والے سیاح اس کی قدرتی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور یہاں پر موجود ایک پرانے اور ٹوٹے ہوئے جہاز کی یادگاری تصاویر ضرور بناتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ الفہد نامی یہ بحری جہاز 32 سال سے یہاں کھڑا ہے۔ لوگ اس کی تصاویر لینے کے ساتھ اس کے یہاں پر رکنے کے راز جاننے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شعیبہ بندرگاہ بحری جہازوں کے قبرستان کے طور پر مشہور ہے۔ یہاں پر ناکارہ ہونے والے جہاز لائے جاتے ہیں۔ اس وقت بھی یہاں تین ایسے جہاز موجود ہیں جو اب صرف سیاحوں کی فوٹو گرافی کے لیے بچ گئے ہیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں