اہم خبریں

سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے کے الزام میں باپ بیٹے سمیت 4 افراد گرفتار،جانتے ہیں ان سے حکمرانِ وقت کیخلاف کیا گستاخی سرزدہوئی؟

  جمعرات‬‮ 14 فروری‬‮ 2019  |  17:24
ملتان (اے این این ) ملتان کے علاقے سیتل ماڑی سے حکومت کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے 4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں امام مسجد، متولی سمیت 6 افراد اور دیگر 45 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا۔گرفتار ہونے والے افراد میں حنظلہ ولد عبدالقہار، عبدالقہار ولد محمد شفیق، وقاص ولد عبدالغفار اور عبدالرف یزدانی شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق عبدالرف یزدانی تعصب اور فرقہ واریت پر مبنی تقریر کر کے لوگوں کے دینی جذبات مشتعل کررہا تھا جبکہ

(خبر جا ری ہے)

بھی اس کی معاونت کررہے تھے۔اس کے علاوہ حکمرانِ وقت کے خلاف بھی نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگوائے گئے۔بعدازاں ملزمان نے مذکورہ تقریر کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھی اپلوڈ کی جس پر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈان کے اعلان کے بعد یہ پہلی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔خیال رہے کہ ایک روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدی نے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈان کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان میں قوانین کی حاکمیت کو یقینی بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔فواد چوہدی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا مطمع نظر ہے کہ انہیں ہر چیز کی آزادی ہے لیکن ایسا نہیں ہے، ہر کسی کی آزادی کی ایک حد ہوتی ہے اور اس سے دوسرے کی آزادی سلب نہیں ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا تھا کہ ہمارے ہاں قوانین ہے، ان پر عملدرآمد کروانا ایک چیلنج رہا، کیونکہ ہمارے سیاسی و سیکیورٹی حالات اسے پورا نہیں کر رہے تھے لیکن اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان قوانین کو نافذ کریں اور کسی کو نفرت انگیز تقریر کی اجازت نہیں دے۔انہوں نے دعوی کیا تھا کہ ہم نے غیرملکی میڈیا پر نفرت انگیز بیانیے کو کافی حد تک ریگولرائز کیا اور عام میڈیا پر اس طرح کے بیانیے کو کافی حد تک کنٹرول کرلیا۔وفاقی وزیر نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے ایک میکانزم تیار کرلیا ہے جہاں ہم سوشل میڈیا پر بھی نفرت انگیز بیانیے کو کنٹرول کریں گے کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا عام میڈیا پر حاوی ہورہا ہے لہذا ضروری تھا کہ ہم اسے ریگولرائز کریں۔

ملتان (اے این این ) ملتان کے علاقے سیتل ماڑی سے حکومت کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے 4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں امام مسجد، متولی سمیت 6 افراد اور دیگر 45 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا۔گرفتار ہونے والے افراد میں حنظلہ ولد عبدالقہار، عبدالقہار ولد محمد شفیق، وقاص ولد عبدالغفار اور عبدالرف یزدانی شامل ہیں۔

ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق عبدالرف یزدانی تعصب اور فرقہ واریت پر مبنی تقریر کر کے لوگوں کے دینی جذبات مشتعل کررہا تھا جبکہ دیگر ملزمان بھی اس کی معاونت کررہے تھے۔اس کے علاوہ حکمرانِ وقت کے خلاف بھی نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگوائے گئے۔بعدازاں ملزمان نے مذکورہ تقریر کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھی اپلوڈ کی جس پر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈان کے اعلان کے بعد یہ پہلی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔خیال رہے کہ ایک روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدی نے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈان کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان میں قوانین کی حاکمیت کو یقینی بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔فواد چوہدی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا مطمع نظر ہے کہ انہیں ہر چیز کی آزادی ہے لیکن ایسا نہیں ہے، ہر کسی کی آزادی کی ایک حد ہوتی ہے اور اس سے دوسرے کی آزادی سلب نہیں ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا تھا کہ ہمارے ہاں قوانین ہے، ان پر عملدرآمد کروانا ایک چیلنج رہا، کیونکہ ہمارے سیاسی و سیکیورٹی حالات اسے پورا نہیں کر رہے تھے لیکن اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان قوانین کو نافذ کریں اور کسی کو نفرت انگیز تقریر کی اجازت نہیں دے۔انہوں نے دعوی کیا تھا کہ ہم نے غیرملکی میڈیا پر نفرت انگیز بیانیے کو کافی حد تک ریگولرائز کیا اور عام میڈیا پر اس طرح کے بیانیے کو کافی حد تک کنٹرول کرلیا۔وفاقی وزیر نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے ایک میکانزم تیار کرلیا ہے جہاں ہم سوشل میڈیا پر بھی نفرت انگیز بیانیے کو کنٹرول کریں گے کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا عام میڈیا پر حاوی ہورہا ہے لہذا ضروری تھا کہ ہم اسے ریگولرائز کریں۔

loading...