اہم خبریں

سانحہ ساہیوال ، متاثرین کی فریاد سن لی گئی لاہور ہائیکورٹ نے زبردست حکم جاری کردیا

  جمعرات‬‮ 14 فروری‬‮ 2019  |  17:19
لاہور(اے این این ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم نے سانحہ ساہیوال کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ جمعرات کو ساہیوال واقعے کی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر چیف جسٹس سردار شمیم خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر جسٹس سردار شمیم نے استفسار کیا کہ 'اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے'، عدالت نے لسٹ دی اور حکم دیا تھا کہ سب کو فون کر کے طلب کریں اور بیان ریکارڈ کریں لیکن افسوس کی بات ہے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اس

(خبر جا ری ہے)

سربراہ جے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں جبکہ کل 7 لوگوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں، مقتول خلیل کے ورثا کے بیانات بھی ریکارڈ ہوچکے ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ وہ کیس ڈائری دکھا دیں جس میں درج ہے کہ فلاں فلاں کو طلب کیا ہے، جو لسٹ عدالت نے فراہم کی تھی اس کے مطابق ان افراد کو طلب کیا گیا، جو کارروائی آپ کرتے ہیں کیا وہ کیس ڈائری میں لکھا جاتا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا 'کیوں نہ آپ کو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر نوٹس کردیں'۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بہت افسوس ہے، آپ لوگ کیا کررہے ہیں، ہم نے تحریری آرڈر جاری کیا تھا کہ فون کرکے بلوائیں، چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو سمجھائیں یہ اپنے آفس کی طرح قانون کو سمجھتے ہیں، یہ کون سا قانون ہے کہ 161 میں عینی شاہد کا بیان نہ لکھا جائے، عینی شاہدین کے بیانات 161 کے تحت ریکارڈ کیے جائیں۔جسٹس صداقت علی خان نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سے استفسار کیا 'کیا آپ کبھی دفتر سے باہر بھی نکلتے ہیں'۔اس موقع پر استغاثہ کے وکیل احتشام نے استدعا کی کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیں۔عدالت نے سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا اور چیف جسٹس سردار شمیم نے کہا سیشن جج ساہیوال انکوائری کے لیے مجسٹریٹ تعینات کریں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا جو لوگ بیان ریکارڈ کرانا چاہیں وہ جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کرائیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ساہیوال کے سیشن جج عدالتی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔عدالت نے ہدایت دی کہ ساہیوال کے سیشن جج، مجسٹریٹ مقرر کریں اور ایک ماہ میں تحقیقات سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 روز تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو 19 فروری تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے جب کہ پنجاب فارنزک لیبارٹری مں سی ٹی ڈی اہلکاروں کے زیر استعمال بھیجے گئے ہتھیاروں میں رد و بدل کا بھی انکشاف ہوا ہے۔گزشتہ ماہ 19 جنوری کی سہہ پہر پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک مشکوک مقابلے کے دوران گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری خلیل، اس کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوئے جبکہ 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعوی کیا گیا۔واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیئے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا گیا، تاہم بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا، دوسری جانب واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، جس کی رپورٹ میں مقتول خلیل اور اس کے خاندان کو بے گناہ قرار دے کر سی ٹی ڈی اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔جے آئی ٹی نے عدالت سے مکمل انکوائری رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت لے رکھی ہے۔

لاہور(اے این این ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم نے سانحہ ساہیوال کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ جمعرات کو ساہیوال واقعے کی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر چیف جسٹس سردار شمیم خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر جسٹس سردار شمیم نے استفسار کیا کہ ‘اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے’، عدالت نے لسٹ دی اور حکم دیا تھا کہ سب کو فون کر کے طلب کریں اور بیان ریکارڈ کریں لیکن افسوس کی بات ہے

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر سربراہ جے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں جبکہ کل 7 لوگوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں، مقتول خلیل کے ورثا کے بیانات بھی ریکارڈ ہوچکے ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ وہ کیس ڈائری دکھا دیں جس میں درج ہے کہ فلاں فلاں کو طلب کیا ہے، جو لسٹ عدالت نے فراہم کی تھی اس کے مطابق ان افراد کو طلب کیا گیا، جو کارروائی آپ کرتے ہیں کیا وہ کیس ڈائری میں لکھا جاتا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ‘کیوں نہ آپ کو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر نوٹس کردیں’۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بہت افسوس ہے، آپ لوگ کیا کررہے ہیں، ہم نے تحریری آرڈر جاری کیا تھا کہ فون کرکے بلوائیں، چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو سمجھائیں یہ اپنے آفس کی طرح قانون کو سمجھتے ہیں، یہ کون سا قانون ہے کہ 161 میں عینی شاہد کا بیان نہ لکھا جائے، عینی شاہدین کے بیانات 161 کے تحت ریکارڈ کیے جائیں۔جسٹس صداقت علی خان نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سے استفسار کیا ‘کیا آپ کبھی دفتر سے باہر بھی نکلتے ہیں’۔اس موقع پر استغاثہ کے وکیل احتشام نے استدعا کی کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیں۔عدالت نے سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا اور چیف جسٹس سردار شمیم نے کہا سیشن جج ساہیوال انکوائری کے لیے مجسٹریٹ تعینات کریں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا جو لوگ بیان ریکارڈ کرانا چاہیں وہ جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کرائیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ساہیوال کے سیشن جج عدالتی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔عدالت نے ہدایت دی کہ ساہیوال کے سیشن جج، مجسٹریٹ مقرر کریں اور ایک ماہ میں تحقیقات سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 روز تک ملتوی کردی۔یاد رہے

کہ حکومت پنجاب نے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو 19 فروری تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے جب کہ پنجاب فارنزک لیبارٹری مں سی ٹی ڈی اہلکاروں کے زیر استعمال بھیجے گئے ہتھیاروں میں رد و بدل کا بھی انکشاف ہوا ہے۔گزشتہ ماہ 19 جنوری کی سہہ پہر پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک مشکوک مقابلے کے دوران گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری خلیل، اس کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور

تین بچے زخمی ہوئے جبکہ 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعوی کیا گیا۔واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیئے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا گیا، تاہم بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا،

دوسری جانب واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، جس کی رپورٹ میں مقتول خلیل اور اس کے خاندان کو بے گناہ قرار دے کر سی ٹی ڈی اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔جے آئی ٹی نے عدالت سے مکمل انکوائری رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت لے رکھی ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں