اہم خبریں

زرداری اور نواز شریف کی امیدوں پر پانی پھر گیا!! حکومت شاید مان بھی جاتی مگر چیئرمین نیب اٹھ کھڑے ہوئے این آر او دئیے جانے کے حوالے سےکیا دھماکہ خیز بیان دیدیا

  جمعرات‬‮ 10 جنوری‬‮ 2019  |  18:21
لاہور(نیوز ڈیسک ) قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ این آر او کسی بھی شکل میں کوئی بھی دے کسی کو بھی دے نیب اس کا حصہ نہیںہوگا ،کبھی ایسی بات یا اقدام نہیں کیا جس کی وجہ سے نیب کو منشا بم سے تشبیہ دی جائے،نیب نہ کبھی منشابم تھا اور نہ کبھی ہوگا البتہ ہائیڈروجن اورنائیٹروجن بم ضرور ہے جو صرف اور صرف بد عنوانی کے خاتمے کیلئے آیا ہے ، ہماری وابستگی اور ہمدردی کسی گروہ ،کسی

(خبر جا ری ہے)

یا حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ہماری وفاداری اور وابستگی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستان کی عوام کے ساتھ ہے ، اگر کسی سے جرم سر زد ہوا ہے تو اس کی قانون کے مطابق تفتیش اور انکوائری سے نیب کو کوئی روک نہیں سکتا اس لئے یہ کہنا کہ نیب کا رجحان اور جھکائو کسی طرف ہے تو یہ بالکل درست نہیں،میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے ،نیب کام، کام اور صرف کام پر یقین رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے فیروز پور ہائوسنگ سوسائٹی کے متاثرین میں 59 کروڑ روپے کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیئرمین نیب نے لاہور کے دفتر کا دورہ بھی کیا جہاں انہیں ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے میگا کرپشن کے مقدمات پر بریفنگ دی۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب لاہور کی کارکردگی نے مجموعی کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ ہائوسنگ سوسائٹیوں اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی بھی نیب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ نیب بدعنوان عناصر کیقانون کے مطابق گرفتاری کے علاوہ ان سے قوم کی لوٹی گئی297 ارب روپے کی رقوم قومی خزانے میں جمع کروانے والا واحد قومی ادارہ ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی ہائوسنگ سوسائٹی ہو اور وہ کسی کی بھی ہو اگراس نے عوام کے رزق حلال کے ساتھ جو ڈکیتی کی ہے تویہ پیسہ واپس آنا ہے اور وہ پیسہ واپس آئے گااور واپس آبھی رہا ہے ۔نیب کی تاریخ میںسب سے بڑا پلی بارگین ہے جو کہ تقریباً دو ارب 22کروڑ روپے کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں آپکے وہ خواب اورسپنے نہیں لٹا سکتا اور میں اس کی تعبیر بھی نہیں دے سکتا جو آپ نے پلاٹ کیلئے یا یا اپنی چھت کیلئے تھے ۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے رزق حلال سے کمائی ہوئی رقم جو ڈوب گئی تھی اس رقم کاواپس آنا بھی پروردگار کا بہت بڑا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ،باقی سب وسیلے ہیں یہ اس ذات کی مہربانی ہے جس نے آپ کی دعائوں کو مستجاب کیا اور آپ کی رقم واپس مل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے پاکستان کے تمام سیاستدا ن چاہے ان کا تعلق حزب اختلاف یا حزب اقتدار سے ہوقابل احترام بھی ہیں اور برابری کا درجہ بھی رکھتے ہیں اورکبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے حزب اقتدار کو احزب اختلاف پر کسی قسم کی ترجیح دی ہو ۔میںحزب اختلافکو اتنا ضرور کہوںگا کہ تھوڑا سا با ذوق ہونے کی نشانی ہونی چاہیے ،نیب کو کم از کم منشا بم تو نہیں کہنا چاہیے ،ہم نے کبھی ایسی بات یا اقدام نہیں کیا جس کی وجہ سے ہمیں منشا بم سے تشبیہ دی جائے ،نیب نہ کبھی منشابم تھا اور نہ نیب کبھی منشا بم ہوگا البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہائیڈروجن اور نائیٹروجن بم ضرور ہے جو صرف اور صرف بد عنوانی کے خاتمے کیلئے آیا ہے اور ہمار اکوئی مقصد اور کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ نیب کا احتساب تو اسی دن شروع ہو جاتا ہے جب کسی کوگرفتار کرنے کے بعد پہلی مرتبہ ریمانڈ کیلئے لیجایا جاتا ہیں۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ریمانڈ عدالتیں دیتی ہیں اورریمانڈ اس لئے نہیں دیا جاتا کہ نیب درخواست کر رہا ہے بلکہ پورا ریکارڈ دیکھا جاتا ہے شہادتیں دیکھی جاتی ہیں کیا تفتیش کیا جانا مقصود ہے ،اس کا لوجیکل اختتام کیا ہوگاوہ دیکھا جاتا ہے اور اس وقت کتنی شہادتیں ہیں وہ دیکھا جاتا ہے اس کے بعد پھر ریمانڈ دیا جاتا ہے ، ایسا نہیں ہوتا کہ صرف نیب کی درخواست پر ریمانڈ دیدیا جائے۔ اس کے بعد احتساب عدالتیں ہیں ،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس ہیں ،کبھی ایسی بات ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہو گی کہ جس میں انتقام کا یا زیادتی کا کوئی تصور ہو ۔ہم نے کسی سے کیوں انتقام لینا ہے اس میں نیب کا کسی کے ساتھ جائیداد کامسئلہ تو نہیں ہے ۔لیکن جہاں پاکستان کا مسئلہ آئے گا تو بات ہو گی کیونکہ ہم نے کہا تھا کہ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی اورہمدردی کسی گروپ ،کسی گروہ ،کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے ساتھ نہیں ، ہماری وفاداری اور وابستگی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستان کی عوام کے ساتھ ہے ۔ اگر ایک جرم سر زد ہوا ہے تو اس کی قانون کے مطابق تفتیش اور انکوائری سے نیب کوکوئی روک نہیں سکتا اس لئے یہ کہنا کہ نیب کا رجحان اور جھکائو کسی طرف ہے تو یہ بالکل درست نہیں ہے ۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ این آر او کسی بھی شکل میں کوئی بھی دے کسی کو بھی دے نیب اس کا حصہ نہیںہوگا ، ہمارے لئے صرف اور صرف پاکستان کے مفادات مقدم ہیں او رہم نے صرف ان کا تحفظ کرنا ہے ۔انہوںنے کہا کہ طلب کرنے یہ ہیڈ لائنز بنیں کہنیب نے وزیر اعظم کی توہین کر دی۔ اس میں تووزیر اعظم کی عزت اور توقیر ہوئی ہے کہ پاکستان میں رول آف لاء ہے پاکستان میں آئین اور قانون کی حکومت ہے اگر قائد حزب اختلاف نیب کی پروسیڈنگ کا سامنا کر سکتا ہے تو اس طرح کا کوئی استحقاق وزیر اعظم پاکستان کو نہیں ہے کہ وہ نیب کی کارروائی کا سامنا نہ کرے اس لئے یہ توہین نہیں ہے بلکہ ان کی عزت میں کئی گنا اضافہ ہوا ۔ان کا جومینڈیٹ تھا بلکہ ان کا جو نعرہ تھا کہ ہم ملک سے بد عنوانی کو ختم کریں گے ان کی طرف سے پہلا انتہائی اہم عملی قدم ہے جو ظاہر کرتا وہ پاکستان سے بد عنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ نیب پر آج تک یہ دبائو نہیں آیا کہ حزب اقتدار کے ساتھ کچھ رعایت کریں ، فرض کریں ایسا دبائو آ بھی جاتا ہے تو نیب کبھی بھی اس قسم کے دبائو کے سامنے سر نگوں نہیں ہوگا۔ میں نے روز اولکہا تھاکہ ہمً نے اپنا کام قانون اورآئین کے مطابق کرنا ہے اور دوبارہ کہہ رہا ہوں وزیر عظم پاکستان کی عزت افزائی ہوئی ہے ان کی توقیر اور قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اس سے نہ صرف اندرون ملک بلکہ پوری دنیا میں تاثر ہے کہ پاکستان میں بد عنوانی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں اور پاکستان میں رول آف لاء بھی ہے ۔پاکستان میں رول آف لاء کو لانے میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر ججز صاحبان کو خراج تحسین پیش نہ کروں تویہ مناسب نہیں ہوگا۔

لاہور(نیوز ڈیسک ) قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ این آر او کسی بھی شکل میں کوئی بھی دے کسی کو بھی دے نیب اس کا حصہ نہیںہوگا ،کبھی ایسی بات یا اقدام نہیں کیا جس کی وجہ سے نیب کو منشا بم سے تشبیہ دی جائے،نیب نہ کبھی منشابم تھا اور نہ کبھی ہوگا البتہ ہائیڈروجن اورنائیٹروجن بم ضرور ہے جو صرف اور صرف بد عنوانی کے خاتمے کیلئے آیا ہے ،

ہماری وابستگی اور ہمدردی کسی گروہ ،کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ہماری وفاداری اور وابستگی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستان کی عوام کے ساتھ ہے ، اگر کسی سے جرم سر زد ہوا ہے تو اس کی قانون کے مطابق تفتیش اور انکوائری سے نیب کو کوئی روک نہیں سکتا اس لئے یہ کہنا کہ نیب کا رجحان اور جھکائو کسی طرف ہے تو یہ بالکل درست نہیں،میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے ،نیب کام، کام اور صرف کام پر یقین رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے فیروز پور ہائوسنگ سوسائٹی کے متاثرین میں 59 کروڑ روپے کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیئرمین نیب نے لاہور کے دفتر کا دورہ بھی کیا جہاں انہیں ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے میگا کرپشن کے مقدمات پر بریفنگ دی۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب لاہور کی کارکردگی نے مجموعی کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ ہائوسنگ سوسائٹیوں اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی بھی نیب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ نیب بدعنوان عناصر کیقانون کے مطابق گرفتاری کے علاوہ ان سے قوم کی لوٹی گئی297 ارب روپے کی رقوم قومی خزانے میں جمع کروانے والا واحد قومی ادارہ ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی ہائوسنگ سوسائٹی ہو اور وہ کسی کی بھی ہو اگراس نے عوام کے رزق حلال کے ساتھ جو ڈکیتی کی ہے تویہ پیسہ واپس آنا ہے اور وہ پیسہ واپس آئے گااور واپس آبھی رہا ہے ۔نیب کی تاریخ میںسب سے بڑا پلی بارگین ہے جو کہ تقریباً دو ارب 22کروڑ روپے کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں آپکے وہ خواب اورسپنے نہیں لٹا سکتا اور میں اس کی تعبیر بھی نہیں دے سکتا جو آپ نے پلاٹ کیلئے

یا یا اپنی چھت کیلئے تھے ۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے رزق حلال سے کمائی ہوئی رقم جو ڈوب گئی تھی اس رقم کاواپس آنا بھی پروردگار کا بہت بڑا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ،باقی سب وسیلے ہیں یہ اس ذات کی مہربانی ہے جس نے آپ کی دعائوں کو مستجاب کیا اور آپ کی رقم واپس مل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے پاکستان کے تمام سیاستدا ن چاہے ان کا تعلق حزب اختلاف یا حزب اقتدار سے ہوقابل احترام بھی ہیں اور برابری کا درجہ بھی رکھتے ہیں اورکبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے حزب اقتدار کو احزب اختلاف پر کسی قسم کی ترجیح دی ہو ۔میںحزب اختلافکو اتنا ضرور کہوںگا کہ تھوڑا سا با ذوق ہونے کی نشانی ہونی چاہیے ،نیب کو کم از کم منشا بم تو نہیں کہنا

چاہیے ،ہم نے کبھی ایسی بات یا اقدام نہیں کیا جس کی وجہ سے ہمیں منشا بم سے تشبیہ دی جائے ،نیب نہ کبھی منشابم تھا اور نہ نیب کبھی منشا بم ہوگا البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہائیڈروجن اور نائیٹروجن بم ضرور ہے جو صرف اور صرف بد عنوانی کے خاتمے کیلئے آیا ہے اور ہمار اکوئی مقصد اور کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ نیب کا احتساب تو اسی دن شروع ہو جاتا ہے جب کسی کوگرفتار کرنے کے بعد پہلی مرتبہ ریمانڈ کیلئے لیجایا جاتا ہیں۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ریمانڈ عدالتیں دیتی ہیں اورریمانڈ اس لئے نہیں دیا جاتا کہ نیب درخواست کر رہا ہے بلکہ پورا ریکارڈ دیکھا جاتا ہے شہادتیں دیکھی جاتی ہیں کیا تفتیش کیا جانا مقصود ہے ،اس کا لوجیکل اختتام کیا ہوگاوہ دیکھا جاتا ہے

اور اس وقت کتنی شہادتیں ہیں وہ دیکھا جاتا ہے اس کے بعد پھر ریمانڈ دیا جاتا ہے ، ایسا نہیں ہوتا کہ صرف نیب کی درخواست پر ریمانڈ دیدیا جائے۔ اس کے بعد احتساب عدالتیں ہیں ،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس ہیں ،کبھی ایسی بات ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہو گی کہ جس میں انتقام کا یا زیادتی کا کوئی تصور ہو ۔ہم نے کسی سے کیوں انتقام لینا ہے اس میں نیب کا کسی کے ساتھ جائیداد کامسئلہ تو نہیں ہے ۔لیکن جہاں پاکستان کا مسئلہ آئے گا تو بات ہو گی کیونکہ ہم نے کہا تھا کہ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی اورہمدردی کسی گروپ ،کسی گروہ ،کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے ساتھ نہیں ، ہماری وفاداری اور وابستگی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستان کی عوام کے ساتھ ہے ۔ اگر ایک جرم سر زد

ہوا ہے تو اس کی قانون کے مطابق تفتیش اور انکوائری سے نیب کوکوئی روک نہیں سکتا اس لئے یہ کہنا کہ نیب کا رجحان اور جھکائو کسی طرف ہے تو یہ بالکل درست نہیں ہے ۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ این آر او کسی بھی شکل میں کوئی بھی دے کسی کو بھی دے نیب اس کا حصہ نہیںہوگا ، ہمارے لئے صرف اور صرف پاکستان کے مفادات مقدم ہیں او رہم نے صرف ان کا تحفظ کرنا ہے ۔انہوںنے کہا کہ طلب کرنے یہ ہیڈ لائنز بنیں کہنیب نے وزیر اعظم کی توہین کر دی۔ اس میں تووزیر اعظم کی عزت اور توقیر ہوئی ہے کہ پاکستان میں

رول آف لاء ہے پاکستان میں آئین اور قانون کی حکومت ہے اگر قائد حزب اختلاف نیب کی پروسیڈنگ کا سامنا کر سکتا ہے تو اس طرح کا کوئی استحقاق وزیر اعظم پاکستان کو نہیں ہے کہ وہ نیب کی کارروائی کا سامنا نہ کرے اس لئے یہ توہین نہیں ہے بلکہ ان کی عزت میں کئی گنا اضافہ ہوا ۔ان کا جومینڈیٹ تھا بلکہ ان کا جو نعرہ تھا کہ ہم ملک سے بد عنوانی کو ختم کریں گے ان کی طرف سے پہلا انتہائی اہم عملی قدم ہے جو ظاہر کرتا وہ پاکستان سے بد عنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ نیب پر آج تک یہ دبائو نہیں آیا کہ حزب اقتدار کے ساتھ کچھ

رعایت کریں ، فرض کریں ایسا دبائو آ بھی جاتا ہے تو نیب کبھی بھی اس قسم کے دبائو کے سامنے سر نگوں نہیں ہوگا۔ میں نے روز اولکہا تھاکہ ہمً نے اپنا کام قانون اورآئین کے مطابق کرنا ہے اور دوبارہ کہہ رہا ہوں وزیر عظم پاکستان کی عزت افزائی ہوئی ہے ان کی توقیر اور قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اس سے نہ صرف اندرون ملک بلکہ پوری دنیا میں تاثر ہے کہ پاکستان میں بد عنوانی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں اور پاکستان میں رول آف لاء بھی ہے ۔پاکستان میں رول آف لاء کو لانے میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر ججز صاحبان کو خراج تحسین پیش نہ کروں تویہ مناسب نہیں ہوگا۔

loading...