اہم خبریں

’’سندھی بولنا دور کی بات مگر اردو بھی نہیں آتی،نقلی بھٹو اب اصلی بھٹو کے آگے نہیں ٹھہر سکے گا ‘‘ بلاول کو بڑی مزاحمت کا سامنا، تحریک انصاف میں شامل ہونیوالے بینظیر کے کزن نے بڑا چیلنج دیدیا

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  17:30
لاڑکانہ (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر امیر بخش خان بھٹو صوبائی صدر منتخب ہونے کے بعدگزشتہ روز کراچی سے سکھر ایئرپورٹ پہنچے، جہاں ان کا سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے پارٹی کارکنان اور ہمدردوں نے شاندار اور تاریخی استقبال کرتے ہوئے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس موقعے پر امیر بخش خان بھٹو نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سکھراور لاڑکانہ ڈویژن کے مختلف شہروں سے استقبال کے لئے آنے والے کارکنان کا بیحد مشکور ہوں جنہوں نے سکھر ایئرپورٹ پہنچ کر میرا تاریخی پرتباک استقبال کرتے ہوئے مجھے عزت بخشی اور میری ہمت

(خبر جا ری ہے)

ہے، میری یہ کوشش ہوگی کہ بند کمروں میں بیٹھ کر سیاست کرنے کے بجائے عوام کے پاس جاکر پارٹی قائد وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کا پیغام در در پہنچائیں، سندھ میں پارٹی کی تنظیم سازی از سر نو کریں گے۔ میں نے تنظیم سازی کرنے میں جان بوجھ کر جلد بازی نہیں کی کیونکہ میں ماضی کی غلطیاں دھرانا نہیں چاہتا، میں چاہتا ہوں کہ پوری سندھ میں بہتر، اثرائتی اور منظم تنظیم سازی ہو، تاکہ پی ٹی آئی سندھ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے، تقریباً ایک سال کے بعد بلدیاتی انتخابات آنے والے ہیں انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، کارکنان کی دعائوں اور حمایت سے پیپلز پارٹی کو ہم سندھ بھر میں عبرتناک شکست دے کر سندھ سے اس کا صفایا کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے کارکنان و عوام کی مدد، محنت اور حمایت سے 2023ء کی سندھ میں الیکشن بھی پی ٹی آئی ہی جیتے گی اور وزیراعلیٰ بھی پی ٹی آئی کا ہوگا۔ امیر بخش خان بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی چال بازیاں اب نہیں چلیں گیں، نقلی بھٹو اب اصلی بھٹو کے آگے نہیں ٹھہر سکے گا، اسے تو سندھی بولنا دور کی بات مگر اردو بھی نہیں آتی، اسے تو یہ بھی پتہ نہیں ہےکہ نوابزادہ نصراللہ خان وہ شخص ہے جس نے اس کے شہید نانا کو پھانسی کے تختہ دار پر چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ اسی کی برسی میں مہمانِ خصوصی بن کر اس کے گیت گاتے ہوئے تعریفیں کرتے ہوئے تھکتا نہیں، لہٰذا پیپلوں کے جھوٹے نعرے اب نہیں چلیں گے، نقلی بھٹو اصلی بھٹو کے آگے نہیں ٹک پائے گا۔ امیر بخش بھٹو نے مزید کہا کہ ہمیں محنت کرنی ہے، عوام سےمزید قریبی روابط رکھ کر ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا اور عوام کے دکھ و درد کو اپنا سمجھ کر اس میں برابر کا شریک ہونا پڑے گا، اس کے ساتھ پی ٹی آئی کے ہر ورکر کو سوشل بننا پڑے گا، کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی، مگر ہم کسی کی زیادتی بھی برداشت نہیں کریں گے، ہمیں سندھ میں چوروں اور لٹیروں سے مقابلہ کرنا ہے۔ امیر بخش بھٹو نےمزید کہا کہ کسی کو بھی اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اسے گھر بیٹھے عہدہ ملے گا، عہدہ ان کو ملے گا جو پارٹی، ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوگا، پی ٹی آئی وڈیروں کی پارٹی نہیں، عوامی پارٹی ہے، اس کو حقیقی عوامی پارٹی بنانے کے لئے دن رات محنت کرنے کی ضرورت ہے، تب ہی جاکر پارٹی مضبوط ہوگی، کارکنان کو چاہئے کہ وہ آپس میں نظم ضبط قائم کر کے متحد ہوکر چلیں۔

لاڑکانہ (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر امیر بخش خان بھٹو صوبائی صدر منتخب ہونے کے بعدگزشتہ روز کراچی سے سکھر ایئرپورٹ پہنچے، جہاں ان کا سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے پارٹی کارکنان اور ہمدردوں نے شاندار اور تاریخی استقبال کرتے ہوئے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس موقعے پر امیر بخش خان بھٹو نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سکھراور لاڑکانہ ڈویژن کے مختلف شہروں سے استقبال کے لئے آنے والے کارکنان کا بیحد مشکور ہوں جنہوں نے سکھر ایئرپورٹ پہنچ کر میرا تاریخی پرتباک استقبال کرتے ہوئے مجھے عزت بخشی اور میری ہمت

افزائی کی ہے، میری یہ کوشش ہوگی کہ بند کمروں میں بیٹھ کر سیاست کرنے کے بجائے عوام کے پاس جاکر پارٹی قائد وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کا پیغام در در پہنچائیں، سندھ میں پارٹی کی تنظیم سازی از سر نو کریں گے۔ میں نے تنظیم سازی کرنے میں جان بوجھ کر جلد بازی نہیں کی کیونکہ میں ماضی کی غلطیاں دھرانا نہیں چاہتا، میں چاہتا ہوں کہ پوری سندھ میں بہتر، اثرائتی اور منظم تنظیم سازی ہو، تاکہ پی ٹی آئی سندھ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے، تقریباً ایک سال کے بعد بلدیاتی انتخابات آنے والے ہیں انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، کارکنان کی دعائوں اور حمایت سے پیپلز پارٹی کو ہم سندھ بھر میں عبرتناک شکست دے کر سندھ سے اس کا صفایا کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے کارکنان و عوام کی مدد، محنت اور حمایت سے 2023ء کی سندھ میں الیکشن بھی پی ٹی آئی ہی جیتے گی اور وزیراعلیٰ بھی پی ٹی آئی کا ہوگا۔ امیر بخش خان بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی چال بازیاں اب نہیں چلیں گیں، نقلی بھٹو اب اصلی بھٹو کے آگے نہیں ٹھہر سکے گا، اسے تو سندھی بولنا دور کی بات مگر اردو بھی نہیں آتی، اسے تو یہ بھی پتہ نہیں ہےکہ نوابزادہ نصراللہ خان وہ شخص ہے جس نے اس کے شہید نانا کو پھانسی کے تختہ دار پر چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ اسی کی برسی میں مہمانِ خصوصی بن کر اس کے گیت گاتے ہوئے تعریفیں کرتے ہوئے تھکتا نہیں، لہٰذا پیپلوں کے جھوٹے نعرے اب نہیں چلیں گے، نقلی بھٹو اصلی بھٹو کے آگے نہیں ٹک پائے گا۔ امیر بخش بھٹو نے مزید کہا کہ ہمیں محنت کرنی ہے، عوام سےمزید قریبی روابط رکھ کر ان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا اور عوام کے دکھ و درد کو اپنا سمجھ کر اس میں برابر کا شریک ہونا پڑے گا، اس کے ساتھ پی ٹی آئی کے ہر ورکر کو سوشل بننا پڑے گا، کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی، مگر ہم کسی کی زیادتی بھی برداشت نہیں کریں گے، ہمیں سندھ میں چوروں اور لٹیروں سے مقابلہ کرنا ہے۔ امیر بخش بھٹو نےمزید کہا کہ کسی کو بھی اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اسے گھر بیٹھے عہدہ ملے گا، عہدہ ان کو ملے گا جو پارٹی، ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوگا، پی ٹی آئی وڈیروں کی پارٹی نہیں، عوامی پارٹی ہے، اس کو حقیقی عوامی پارٹی بنانے کے لئے دن رات محنت کرنے کی ضرورت ہے، تب ہی جاکر پارٹی مضبوط ہوگی، کارکنان کو چاہئے کہ وہ آپس میں نظم ضبط قائم کر کے متحد ہوکر چلیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں