اہم خبریں

12سالہ پیدائشی نابینا سعودی بچے نے عزم و ہمت کی عظیم مثال قائم کر دی،بینائی سے محرومی کے باوجود ٹیکنالوجی کا ماہر اور حافظ قرآن بن کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا

  جمعرات‬‮ 5 جولائی‬‮ 2018  |  15:02
ریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب میں ایک 12 سالہ بچّے نے پیدائشی طور پر نابینا ہونے کے باوجود اس محرومی کو اپنی زندگی میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔مازن الحربی نے کمپیوٹر اور اسمارٹ ڈیوائسز کی ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کےعلاوہ ونڈوز اور میکنٹوش سسٹمز میں پروگرامز انسٹال کرنا بھی سیکھ لیا۔عرب ٹی وی کے مطابق مازن کو اپنے بھائیوں، عزیز و اقارب اوراسکول میں دوستوں کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل رہی اور وہ مستقبل میں کمپیوٹر یا انگریزی زبان کے میدان میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔گفتگو کرتے ہوئے مازن کے والد مطر ابراہیم الحربی نے

(خبر جا ری ہے)

مازن کے پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہونے کا جان کر ہمیں بہت صدمہ پہنچا تھا۔ ابتدا میں ہمیں اس کی زندگی کے حوالے سے خوف اور اندیشے رہے تاہم اب مازن 12 برس کا ہو چکا ہے اور اور اپنی تعلیم اور کمپیوٹر کے میدان میں امتیازی صلاحیت کا حامل ہے۔ اسمارٹ ڈیوائسز پر کام کرنا اس کا مشغلہ ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی تعلیم اور قرآن کریم کے حفظ کے سلسلے میں بھی ہونہار ثابت ہوا ہے۔ مازن کو بریدہ میں نابینا افراد کی سوسائٹی کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل ہے جہاں آنکھوں کی روشنی سے محروم افراد کو اسمارٹ ڈیوائسز کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔ مازن کے والد مطر ابراہیم الحربی نے بتایا کہ مازن کے پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہونے کا جان کر ہمیں بہت صدمہ پہنچا تھا۔ ابتدا میں ہمیں اس کی زندگی کے حوالے سے خوف اور اندیشے رہے تاہم اب مازن 12 برس کا ہو چکا ہے اور اور اپنی تعلیم اور کمپیوٹر کے میدان میں امتیازی صلاحیت کا حامل ہے۔ اسمارٹ ڈیوائسز پر کام کرنا اس کا مشغلہ ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی تعلیم اور قرآن کریم کے حفظ کے سلسلے میں بھی ہونہار ثابت ہوا ہے۔

ریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب میں ایک 12 سالہ بچّے نے پیدائشی طور پر نابینا ہونے کے باوجود اس محرومی کو اپنی زندگی میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔مازن الحربی نے کمپیوٹر اور اسمارٹ ڈیوائسز کی ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کےعلاوہ ونڈوز اور میکنٹوش سسٹمز میں پروگرامز انسٹال کرنا بھی سیکھ لیا۔عرب ٹی وی کے مطابق مازن کو اپنے بھائیوں،

عزیز و اقارب اوراسکول میں دوستوں کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل رہی اور وہ مستقبل میں کمپیوٹر یا انگریزی زبان کے میدان میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔گفتگو کرتے ہوئے مازن کے والد مطر ابراہیم الحربی نے بتایا کہ مازن کے پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہونے کا جان کر ہمیں بہت صدمہ پہنچا تھا۔ ابتدا میں ہمیں اس کی زندگی کے حوالے سے خوف اور اندیشے رہے تاہم اب مازن 12 برس کا ہو چکا ہے اور اور اپنی تعلیم اور کمپیوٹر کے میدان میں امتیازی صلاحیت کا حامل ہے۔ اسمارٹ ڈیوائسز پر کام کرنا اس کا مشغلہ ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی تعلیم اور قرآن کریم کے حفظ کے سلسلے میں بھی ہونہار ثابت ہوا ہے۔ مازن کو بریدہ میں نابینا افراد کی سوسائٹی کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل ہے جہاں آنکھوں کی روشنی سے محروم افراد کو اسمارٹ ڈیوائسز کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔ مازن کے والد مطر ابراہیم الحربی نے بتایا کہ مازن کے پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہونے کا جان کر ہمیں بہت صدمہ پہنچا تھا۔ ابتدا میں ہمیں اس کی زندگی کے حوالے سے خوف اور اندیشے رہے تاہم اب مازن 12 برس کا ہو چکا ہے اور اور اپنی تعلیم اور کمپیوٹر کے میدان میں امتیازی صلاحیت کا حامل ہے۔ اسمارٹ ڈیوائسز پر کام کرنا اس کا مشغلہ ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی تعلیم اور قرآن کریم کے حفظ کے سلسلے میں بھی ہونہار ثابت ہوا ہے۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں