اہم خبریں

11سالہ امریکی بچے نے ’’خدا اور سائنس‘‘ پر سٹیفن ہاکنگ کو غلط ثابت کردیا کائنات میں خدا کا وجود ہے ،دنیا کا نظام کیسے چل رہا ہے؟دلائل کیساتھ ثبوت پیش

  پیر‬‮ 28 مئی‬‮‬‮ 2018  |  16:59
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )11 سالہ ذہین ترین امریکی بچے نے خدا اور سائنس کے معاملے پر معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے مطالعے کو غلط ثابت کر دیا۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ولیم میلس نامی یہ 11سالہ بچہ اپنی عمر کے اعتبار سے کافی ذہین اور قابل ہے۔ ولیم نے اپنی ذہانت سے معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی اس تھیوری کو غلط ثابت کردیا جس میں سٹیفن نے دعویٰ کیا تھا کہ کائنات میں خدا کا وجود نہیں ہے۔ایک پروگرام کےدوران ولیم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم تھیوری آف ریلٹیویٹی کی بات کریں تو آئن سٹائن سے

(خبر جا ری ہے)

ہی واقف ہیں،آئن سٹائن نے اپنی تھیوری میں کہا کہ زماں و مکاں میں ہٹاؤ کشش ثقل کی وجہ سے ہے ۔ اگر یہ بات درست ہے تو کشش ثقل کی غیر موجودگی یا زماں و مکاں کی غیر موجودگی میں مکمل طور پر کشش ثقل کا راج ہونا چاہئیے کیونکہ بہاؤ کے قانون کی وجہ سے چیزیں ایسے مقام کی جانب جائیں گی جہاں مزاحمت کم ہو۔ اگر مزاحمت موجود نہ ہو تو یہ مقام پوائنٹ آف لیسٹ ریسسٹنس کہلائے گا ۔ اس لیے زماں و مکاں کی عدم موجودگی میں کشش ثقل ہی باقی بچے گی۔ بلیک ہولز میں زماں و مکاں موجود نہیں ہوتے اور ان کی کشش ثقل سے کچھ بھی حتیٰ کہ روشنی بھی نہیں نکل سکتی۔ مزید یہ کہ اگر تمام کائنات اور مادہ زماں و مکاں اور ہگز فیلڈ پر مبنی ہے تو پھر کائنات سے باہر جو کچھ بھی ہو وہ لازمی طور پر زماں و مکاں سے مبراء ہوگا۔اس صورت میں جہاں کائنات absolute void ( عدم ) کے بیچ میں نہیں پھیل رہی، وہ دراصل گر رہی ہے۔ اگر ہم وقت کے آغاز کی بات کریں تو ہم سب کو اس بات کا علم ہے کہ کائنات کی بھی ایک عمر ہے جو 13.8بلین سال تصور کی جاتی ہے۔لہٰذا 13.8بلین سال قبل پوری کائنات ایک ذرے پر مبنی تھی، ایک ایسا ذرا جس کاحجم ذیلی ایٹمی ذرے کوارک سے بھی چھوٹا تھا۔ تاہم اگر کشش ثقل ہمیشہ سے کام کررہی ہے ، مثال کے طور پر اگر آپ بلڈنگ سے چھلانگ لگا دیں تو آپ 15 سیکنڈ بعد نہیں گریں گے ،بلکہ آپ فی الفور گر جائیں گے۔اس لیے کشش ثقل ہمیشہ کام کرتی رہتی ہے اور اگر سینگولیریٹی یا عدم ہمیشہ سے موجود تھا جیسا کہ کچھ ملحدین کہتے ہیں تو کائنات کی کوئی عمر نہیں ہونی چاہیے اور اس کی عمر لامحدود ہونی چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔بلکہ کائنات کی عمر ہے اور وہ 13عشاریہ 8 ارب سال ہے اور کوئی چیز "عدم" سے وجود میں نہیں آسکتی کیونکہ اس کو وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز خود پہلے سے موجود ہو۔یہ غیر منطقی ہے ۔ اس لیے لازمی طور پر کسی اور شے نے سینگولیریٹی کو بنایا ہوگا۔ یہ وہ شے جسے ہم "خدا" کہتے ہیں ۔ہاکنگ کی تھیوری ہے کہ کشش کی ثقل کی وجہ سے ایسا ہونا ضروری نہیں۔ لیکن کشش ثقل کوئی چیز بنا نہیں سکتی اور کشش ثقلاس وقت تک کچھ نہیں کرسکتی جب تک اسے اثرانداز ہونے کے لیے کچھ میسر نہ ہو۔ملحدین یہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خدا موجود نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بات پر ایمان لانا کہ خدا موجود نہیں زیادہ مشکل ہے بانسبت اس کہ خدا کی موجودگی پر ایمان لایا جائے۔واضح رہے کہ ولیم نے سات ماہ کی عمر میں ہی بولنا شروع کر دیا تھا۔ 9 سال کی عمر میں ولیم نے ہائی سکول سے گریجوایشن مکمل کر لی اور اب ایک کمیونٹی کالج میں زیر تعلیم ہے۔اس اعتبار سے ولیم کو امریکہ میں کم عمر ترین یونیورسٹی طالبعلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )11 سالہ ذہین ترین امریکی بچے نے خدا اور سائنس کے معاملے پر معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے مطالعے کو غلط ثابت کر دیا۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ولیم میلس نامی یہ 11سالہ بچہ اپنی عمر کے اعتبار سے کافی ذہین اور قابل ہے۔ ولیم نے اپنی ذہانت سے معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی اس تھیوری کو غلط ثابت کردیا جس میں سٹیفن نے دعویٰ کیا تھا

کہ کائنات میں خدا کا وجود نہیں ہے۔ایک پروگرام کےدوران ولیم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم تھیوری آف ریلٹیویٹی کی بات کریں تو آئن سٹائن سے تو سب ہی واقف ہیں،آئن سٹائن نے اپنی تھیوری میں کہا کہ زماں و مکاں میں ہٹاؤ کشش ثقل کی وجہ سے ہے ۔ اگر یہ بات درست ہے تو کشش ثقل کی غیر موجودگی یا زماں و مکاں کی غیر موجودگی میں مکمل طور پر کشش ثقل کا راج ہونا چاہئیے کیونکہ بہاؤ کے قانون کی وجہ سے چیزیں ایسے مقام کی جانب جائیں گی جہاں مزاحمت کم ہو۔ اگر مزاحمت موجود نہ ہو تو یہ مقام پوائنٹ آف لیسٹ ریسسٹنس کہلائے گا ۔ اس لیے زماں و مکاں کی عدم موجودگی میں کشش ثقل ہی باقی بچے گی۔ بلیک ہولز میں زماں و مکاں موجود نہیں ہوتے اور ان کی کشش ثقل سے کچھ بھی حتیٰ کہ روشنی بھی نہیں نکل سکتی۔ مزید یہ کہ اگر تمام کائنات اور مادہ زماں و مکاں اور ہگز فیلڈ پر مبنی ہے تو پھر کائنات سے باہر جو کچھ بھی ہو وہ لازمی طور پر زماں و مکاں سے مبراء ہوگا۔اس صورت میں جہاں کائنات absolute void ( عدم ) کے بیچ میں نہیں پھیل رہی، وہ دراصل گر رہی ہے۔ اگر ہم وقت کے آغاز کی بات کریں تو ہم سب کو اس بات کا علم ہے کہ کائنات کی بھی ایک عمر ہے جو 13.8بلین سال تصور کی جاتی ہے۔لہٰذا 13.8بلین سال قبل پوری کائنات ایک ذرے پر مبنی تھی، ایک ایسا ذرا جس کاحجم ذیلی ایٹمی ذرے کوارک سے بھی چھوٹا تھا۔ تاہم اگر کشش ثقل ہمیشہ سے کام کررہی ہے ، مثال کے طور پر اگر آپ بلڈنگ سے چھلانگ لگا دیں تو آپ 15 سیکنڈ بعد نہیں گریں گے ،بلکہ آپ فی الفور گر جائیں گے۔اس لیے کشش ثقل ہمیشہ کام کرتی رہتی ہے اور اگر سینگولیریٹی یا عدم ہمیشہ سے موجود تھا جیسا کہ کچھ ملحدین کہتے ہیں تو کائنات کی کوئی عمر نہیں ہونی چاہیے اور اس کی عمر لامحدود ہونی چاہیے۔

لیکن ایسا نہیں ہے۔بلکہ کائنات کی عمر ہے اور وہ 13عشاریہ 8 ارب سال ہے اور کوئی چیز “عدم” سے وجود میں نہیں آسکتی کیونکہ اس کو وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز خود پہلے سے موجود ہو۔یہ غیر منطقی ہے ۔ اس لیے لازمی طور پر کسی اور شے نے سینگولیریٹی کو بنایا ہوگا۔ یہ وہ شے جسے ہم “خدا” کہتے ہیں ۔ہاکنگ کی تھیوری ہے کہ کشش کی ثقل کی وجہ سے ایسا ہونا ضروری نہیں۔ لیکن کشش ثقل کوئی چیز بنا نہیں

سکتی اور کشش ثقلاس وقت تک کچھ نہیں کرسکتی جب تک اسے اثرانداز ہونے کے لیے کچھ میسر نہ ہو۔ملحدین یہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خدا موجود نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بات پر ایمان لانا کہ خدا موجود نہیں زیادہ مشکل ہے بانسبت اس کہ خدا کی موجودگی پر ایمان لایا جائے۔واضح رہے کہ ولیم نے سات ماہ کی عمر میں ہی بولنا شروع کر دیا تھا۔ 9 سال کی عمر میں ولیم نے ہائی سکول سے گریجوایشن مکمل کر لی اور اب ایک کمیونٹی کالج میں زیر تعلیم ہے۔اس اعتبار سے ولیم کو امریکہ میں کم عمر ترین یونیورسٹی طالبعلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں