اہم خبریں

مرگی کے دورے سے قبل آگاہ کرنے والی ڈیوائس تیار

  بدھ‬‮ 11 فروری‬‮ 2015  |  13:43
ٹوکیو: جاپانی محققین نے ایک ایسی ڈیوائس اور اس سے جڑی اسمارٹ فون ایپ تیار کی ہے جو مرگی کے دورے سے 30 سیکنڈ قبل ہی مریض کو خبردار کرسکتی ہے۔ محقیقن اس حوالے سے پر امید ہیں کہ اس ایپ کے ذریعے مریض مرگی کے دوروں سے بروقت آگاہ ہو کر چوٹوں اور زخموں سے بچ سکتے ہیں۔ جاپانی اخبار نکی ایشین ریویو میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کیوٹو اور کیماموٹو یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ٹوکیو میڈیکل اہینڈ ڈینٹل یونیورسٹی کے ماہرین کے اشتراک سے تیار کیا گیا یہ سسٹم 2020 تک کمرشل استعمال کے لیے

(خبر جا ری ہے)

استعمال کے لیے دستیاب ہوگا۔ اس ایجاد میں ایک چھوٹا سا سنسر موجود ہے جو مریض کی گردن یا دل کے قریب لگایا جائے گا، تاکہ مرگی کے دورے سے قبل دل کی دھڑکن اور اعصابی خلیوں کی حرکت میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی نوٹ کیا جا سکے۔ سنسرز کی مدد سے علامات کا علم ہوتے ہی ڈیوائس مریض کے اسمارٹ فون کو سگنل بھیجے گی، جو ان کے جائزے کے لیے خصوصی ایپلیکیشن استعمال کرے گا اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی صورت میں آواز یا وائبریشن کی مدد سے مریض کو آگاہ کردے گا۔ اس سلسلے میں ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی میں مریضوں پر کیے گئے تجربے میں ماہرین اس ڈیوائس کی مدد سے چھ میں سے پانچ مریضوں میں مرگی کے دوروں سے 30 سیکنڈ قبل آگاہ ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واضح رہے کہ مرگی ایک دماغی بیماری ہے اور اس کا دورہ دماغ میں برقی خلل کی وجہ سے پڑتا ہے جو پورے جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس مرض نے پوری دنیا میں 50 ملین افراد کو متاثر کر رکھا ہے۔

ٹوکیو: جاپانی محققین نے ایک ایسی ڈیوائس اور اس سے جڑی اسمارٹ فون ایپ تیار کی ہے جو مرگی کے دورے سے 30 سیکنڈ قبل ہی مریض کو خبردار کرسکتی ہے۔ محقیقن اس حوالے سے پر امید ہیں کہ اس ایپ کے ذریعے مریض مرگی کے دوروں سے بروقت آگاہ ہو کر چوٹوں اور زخموں سے بچ سکتے ہیں۔ جاپانی اخبار نکی ایشین ریویو میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کیوٹو اور کیماموٹو یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ٹوکیو میڈیکل اہینڈ ڈینٹل یونیورسٹی کے ماہرین کے اشتراک سے تیار کیا گیا یہ سسٹم 2020 تک کمرشل استعمال کے لیے دستیاب ہوگا۔ اس ایجاد میں ایک چھوٹا سا سنسر موجود ہے جو مریض کی گردن یا دل کے قریب لگایا جائے گا، تاکہ مرگی کے دورے سے قبل دل کی دھڑکن اور اعصابی خلیوں کی حرکت میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی نوٹ کیا جا سکے۔ سنسرز کی مدد سے علامات کا علم ہوتے ہی ڈیوائس مریض کے اسمارٹ فون کو سگنل بھیجے گی، جو ان کے جائزے کے لیے خصوصی ایپلیکیشن استعمال کرے گا اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی صورت میں آواز یا وائبریشن کی مدد سے مریض کو آگاہ کردے گا۔ اس سلسلے میں ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی میں مریضوں پر کیے گئے تجربے میں ماہرین اس ڈیوائس کی مدد سے چھ میں سے پانچ مریضوں میں مرگی کے دوروں سے 30 سیکنڈ قبل آگاہ ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واضح رہے کہ مرگی ایک دماغی بیماری ہے اور اس کا دورہ دماغ میں برقی خلل کی وجہ سے پڑتا ہے جو پورے جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس مرض نے پوری دنیا میں 50 ملین افراد کو متاثر کر رکھا ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں