اہم خبریں

ملکی تعلیمی اداروں کو غیر ملکی دبائو کے باعث تباہ نہ کیا جائے

  بدھ‬‮ 26 دسمبر‬‮ 2018  |  16:51
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاک ترک ایک بہترین تعلیمی نظام ہے جو گزشتہ 20 برس سے پاکستانی طلبہ و طالبات کو جدید خطوط پر استوار تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انھیں شدت پسندی اور دھوکہ دہی جیسی سماجی برایئوں سے بچاوکے لیے کوشاں ہے۔ پاک ترک اسکولز ہمیشہ سے قومی دھارے کا حصہ رہے ہیں جنھیں معاشرے کے تمام طبقات کا اعتماد حاصل رہا ہے اور یہاںسرکاری افسران، سیاستدانوں اس نظام کے قیام کا اصل سہرا پاکستانی مخیرحضرات کے سر ہے جنھوں نے ابتدائی دنوں میں ترک رضا کاروں کے ساتھ اس نظام کی داغ بیل ڈالی۔ یہ دردِ دل

(خبر جا ری ہے)

والے وہ پاکستانی حضرات ہی تھے جنھوں نے جانی، مالی، سماجی اور جذباتی انداز میں اس تعلیمی ادارے کو پروان چڑھایا۔ ان اسکولوں میں کام کرنے والے مٹھی بھرترک اساتذہ اب پاکستان سے جا چکے ہیں اور یہ نظام مکمل طور پر پاکستانی اساتذہ اور انتظامیہ کی نگرانی میں کامیابی کے نئے مراحل طے کر رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج اس کامیاب نظام کو غیر ملکی سیاست کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں میڈیا رپورٹس آیئں کہ سپریم کورٹ میں ذاتی حیثیت میں دائر کی جانے والی ایک درخواست پر سرسری سماعت کے بعد میں عدالت نے پاک ترک اسکولوں کا انتظام وفاقی حکومت کے ذریعے ایک غیر ملکی نوزایئدہ تنظیم ترک معارف فاونڈیشن کے حوالے کر دینے کا حکم سنا دیا ہے۔ اس درخواست دہندہ نے نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ پاک ترک اسکول دہشت گرد چلا رہے ہیں۔پاک ترک اسکولوں کے 8000 سے زائد فارغ التحصیل طلبہ، 12000 موجودہ طلبہ و طالبات اور 1800 اساتذہ و دیگر سٹاف ممبران پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی کوشش کی گئی ہے جو بنیادی شہری و انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ اس درخواست دہندہ نے اپنا موقف کچھ یوں پیش کیا ہے گویا اس کے اپنے شہری حقوق سلب ہوئے ہوں جو انتہائی مضحکہ خیز ہے کیونکہ نہ تو یہ خود اور نہ ہی اس کے بچے ان اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور نہ ہی کبھی ماضی میں رہے ہیں۔ اپنی درخواست کے دوسرے پیرا گراف میں اس شخص نے یہ درخواست بھی کی کہ ان اسکولوں کو ترک معارف تنظیم کے حوالے کر دیا جائے۔ اس سے بد نیتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل کلاں اس ترک معارف تنظیم پر خود دہشت گردی کا لیبل لگ جائے اور ایک مرتبہ پھر طلبہ و طالبات، والدین اور اساتذہ و انتظامیہ کو اسی کرب سے گزرنا پڑے جس کا سامنا انھیں اِس وقت کرنا پڑ رہا ہے۔ پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن سیکشن 42 کےتحت قائم ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کے زیرانتظام اس وقت کئی اسکول کام کررہے ہیں۔ اس ادارے کے بورڈ کے تمام ڈائریکٹرز پاکستانی شہری ہیں۔ 20سال قبل انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار پاکستانی اور ترک رضاکاروں نے یہ ادارے قائم کیے جو تعلیمی میدان میں ایک روشن باب بن کر سامنے آئے ۔ مختلف بورڈز میں پوزیشنوں کے علاوہ قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں0 30 سے زائد میڈل ان اساتذہ اور انتظامیہ کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ علم و ہنر کے ساتھ ساتھ تربیت کےجوہر سے آراستہ ان اداروں کے اساتذہ اور منتظمین مثبت روایات کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ ادارے کبھی بھی ترک یا پاکستانی حکومت کے ماتحت نہیں رہے لہٰذا آج انھیں ایک نوزائیدہ غیر ملکی تنظیم (ترک معارف فاؤنڈیشن) کے حوالے کیے جانے کی بات ناقابلِ فہم ہے۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت جراتمندانہ موقف اختیار کیا جب ماضی میں یہ ترک معارف تنظیم اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے کاندھوں پر سوار ہو کر ان اداروں پر قبضہ کر نےآئی۔ ایسے وقت میں عمران خان نے اعلان کیا: اُس وقت کے ایسے رہنماوں، طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور معاشرے کے دیگر سرکردہ افراد کی قربانیاں قابل تحسین ہیں جو ان مذموم ارادوں کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہو گئے ۔ ایسے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس وقت کے منصفین کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنھوں نے ہر طرح کے دباو کو مسترد کرتے ہوئے پاک ترک کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کر نے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔پاکستان کے عوام اور خصوصا آج بھی وزیر اعظم پاکستان سے بھر پور انصاف کی امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب ترین پاکستانی ادارے کو ایک ایسی غیر ملکی تنظیم کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جس کے تحت یہ ادارہ شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ جائے۔ اس کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک ترک اسکولوں کی موجودہ انتظامیہ کو موقع دیا جائے کہ وہ ان اداروں کو ملک بھر میں پھیلا دیں اور اس تعلیمی انقلاب میں حکومت کے شانہ بشانہ کام کرنے کا موقع دیں جو موجودہ حکومت کا عزم ہے۔ اگر حکومت ترکی واقعی پاکستان میں تعلیمی فروغ کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے تعلیمی ریفارمز کے مختلف پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جاسکتی ہے جن میں مدرسہ اصلاحات، تدریس اساتذہ اور آوٹ آف اسکول چلڈرن کے مسائل سر فہرست ہیں نہ کہ پاک ترک ایجوکیشن فاونڈیشن جیسے مثالی اداروں کو ان ناتجربہ کار ہاتھوں میں دےدیا جائے۔ ایسا عمل ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے بھی شدید خطرے کا باعث ہے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاک ترک ایک بہترین تعلیمی نظام ہے جو گزشتہ 20 برس سے پاکستانی طلبہ و طالبات کو جدید خطوط پر استوار تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انھیں شدت پسندی اور دھوکہ دہی جیسی سماجی برایئوں سے بچاوکے لیے کوشاں ہے۔ پاک ترک اسکولز ہمیشہ سے قومی دھارے کا حصہ رہے ہیں جنھیں معاشرے کے تمام طبقات کا اعتماد حاصل رہا ہے اور یہاںسرکاری افسران، سیاستدانوں اس نظام کے قیام کا اصل سہرا پاکستانی مخیرحضرات کے سر ہے جنھوں نے ابتدائی دنوں میں ترک رضا کاروں کے ساتھ اس نظام کی داغ بیل ڈالی۔ یہ دردِ دل رکھنے والے وہ پاکستانی حضرات ہی تھے جنھوں نے جانی، مالی،

سماجی اور جذباتی انداز میں اس تعلیمی ادارے کو پروان چڑھایا۔ ان اسکولوں میں کام کرنے والے مٹھی بھرترک اساتذہ اب پاکستان سے جا چکے ہیں اور یہ نظام مکمل طور پر پاکستانی اساتذہ اور انتظامیہ کی نگرانی میں کامیابی کے نئے مراحل طے کر رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج اس کامیاب نظام کو غیر ملکی سیاست کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں میڈیا رپورٹس آیئں کہ سپریم کورٹ میں ذاتی حیثیت میں دائر کی جانے والی ایک درخواست پر سرسری سماعت کے بعد میں عدالت نے پاک ترک اسکولوں کا انتظام وفاقی حکومت کے ذریعے ایک غیر ملکی نوزایئدہ تنظیم ترک معارف فاونڈیشن کے حوالے کر دینے کا حکم سنا دیا ہے۔ اس درخواست دہندہ نے نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ پاک ترک اسکول دہشت گرد چلا رہے ہیں۔پاک ترک اسکولوں کے 8000 سے زائد فارغ التحصیل طلبہ، 12000 موجودہ طلبہ و طالبات اور 1800 اساتذہ و دیگر سٹاف ممبران پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی کوشش کی گئی ہے جو بنیادی شہری و انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ اس درخواست دہندہ نے اپنا موقف کچھ یوں پیش کیا ہے گویا اس کے اپنے شہری حقوق سلب ہوئے ہوں جو انتہائی مضحکہ خیز ہے کیونکہ نہ تو یہ خود اور نہ ہی اس کے بچے ان اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور نہ ہی کبھی ماضی میں رہے ہیں۔ اپنی درخواست کے دوسرے پیرا گراف میں اس شخص نے یہ درخواست بھی کی کہ ان اسکولوں کو ترک معارف تنظیم کے حوالے کر دیا جائے۔ اس سے بد نیتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل کلاں اس ترک معارف تنظیم پر خود دہشت گردی کا لیبل لگ جائے اور ایک مرتبہ پھر طلبہ و طالبات، والدین اور اساتذہ و انتظامیہ کو اسی کرب سے گزرنا پڑے جس کا سامنا انھیں اِس وقت کرنا پڑ رہا ہے۔ پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن سیکشن 42 کےتحت قائم ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کے زیرانتظام اس وقت کئی اسکول کام کررہے ہیں۔ اس ادارے کے بورڈ کے تمام ڈائریکٹرز پاکستانی شہری ہیں۔ 20سال قبل انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار پاکستانی اور ترک رضاکاروں نے یہ ادارے قائم کیے جو تعلیمی میدان میں ایک روشن باب بن کر سامنے آئے ۔ مختلف بورڈز میں پوزیشنوں کے علاوہ قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں0 30 سے زائد میڈل ان اساتذہ اور انتظامیہ کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ علم و ہنر کے ساتھ ساتھ تربیت کےجوہر سے آراستہ ان اداروں کے اساتذہ اور منتظمین مثبت روایات کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ ادارے کبھی بھی ترک یا پاکستانی حکومت کے ماتحت نہیں رہے لہٰذا آج انھیں ایک نوزائیدہ غیر ملکی تنظیم (ترک معارف فاؤنڈیشن) کے حوالے کیے جانے کی بات ناقابلِ فہم ہے۔

موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت جراتمندانہ موقف اختیار کیا جب ماضی میں یہ ترک معارف تنظیم اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے کاندھوں پر سوار ہو کر ان اداروں پر قبضہ کر نےآئی۔ ایسے وقت میں عمران خان نے اعلان کیا:

اُس وقت کے ایسے رہنماوں، طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور معاشرے کے دیگر سرکردہ افراد کی قربانیاں قابل تحسین ہیں جو ان مذموم ارادوں کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہو گئے ۔ ایسے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس وقت کے منصفین کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنھوں نے ہر طرح کے دباو کو مسترد کرتے ہوئے پاک ترک کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کر نے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔پاکستان کے عوام اور خصوصا آج بھی وزیر اعظم پاکستان سے بھر پور انصاف کی امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب ترین پاکستانی ادارے کو ایک ایسی غیر ملکی تنظیم کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جس کے تحت یہ ادارہ شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ جائے۔ اس کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک ترک اسکولوں کی موجودہ انتظامیہ کو موقع دیا جائے کہ وہ ان اداروں کو ملک بھر میں پھیلا دیں اور اس تعلیمی انقلاب میں حکومت کے شانہ بشانہ کام کرنے کا موقع دیں جو موجودہ حکومت کا عزم ہے۔ اگر حکومت ترکی واقعی پاکستان میں تعلیمی فروغ کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے تعلیمی ریفارمز کے مختلف پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جاسکتی ہے جن میں مدرسہ اصلاحات، تدریس اساتذہ اور آوٹ آف اسکول چلڈرن کے مسائل سر فہرست ہیں نہ کہ پاک ترک ایجوکیشن فاونڈیشن جیسے مثالی اداروں کو ان ناتجربہ کار ہاتھوں میں دےدیا جائے۔ ایسا عمل ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے بھی شدید خطرے کا باعث ہے۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں