اہم خبریں

مراد علی شاہ کوحلقے کے عوام نے گھیر لیا،سابق وزیراعلیٰ سندھ کو جان چھڑانا پڑگئی، واقعہ کی ویڈیو بناتے شخص کیساتھ کیا سلوک کر دیا؟

  بدھ‬‮ 27 جون‬‮ 2018  |  15:47
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمال لغاری اور سکندر بوسن کے بعد سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی ووٹرز کے غصے کا نشانہ بن گئے، ووٹر کو مطمئن نہ کر سکنے پر ویڈیو بناتے شخص پر غصہ نکال دیا، ہاتھ مار کرموبائل کیمرہ بند کروا دیا۔تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2018کے سلسلے میں انتخابی امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں اپنے حلقوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں جہاں کئی رہنمائوں کو اپنے حلقے کے ووٹرز کی جانب سے شدید ردعمل بھی دیکھنے میں مل رہا ہے اور ووٹرز کے اسی غصے کا

(خبر جا ری ہے)

لیگ کے جمال لغاری اور آزاد امیدوار سکندر بوسن بھی بن چکے ہیں اور اب خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے بعد پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی گھر سے نکلتے ہی ووٹر کے سخت سوالات کوبرداشت نہ کر سکے اور انہوں نے واقعہ کی ویڈیو بناتے ایک شخص سے پر اپنا غصے نکالتے ہوئے اس کا موبائل فون زبردستی بند کروا دیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ اپنی رہائش گاہ واہڑواقع سیہون سے باہر نکلے تو ایک ووٹر نے ان سے شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟ میرے والد پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں لیکن ہمارے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ووٹر کے سوال پر مراد علی شاہ نے پہلے تو اسے بہلانے پھسلانے کی کوشش کی لیکن ووٹر کےبار بار اصرار پر سابق وزیراعلیٰ نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئےکہ مجھے بھی سنو گے یا نہیں؟ووٹر کو بار بار ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ناکامی پر مراد علی شاہ وہاں سے چل دیئے جب کہ اس موقع پر ایک صحافی ویڈیو بنارہا تھا جسے سابق وزیراعلیٰ نے ویڈیو بنانے سے بھی منع کیا اور اس کے نہ ماننے پر کیمرے پر ہاتھ دے مارا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ پنوں عاقل کے دورے پر گئے جہاں ووٹرز نے ان سے تندو تیز سوالات کیے اور پوچھا کہ 10 سال حکومت میں رہنے کے باوجود آپ نے علاقے کے لیے کیا کیا؟نوجوان کے سوال پر خورشید شاہ جواب دینے سے قاصر رہے اور مسکرا کر چل دیئے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمال لغاری اور سکندر بوسن کے بعد سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی ووٹرز کے غصے کا نشانہ بن گئے، ووٹر کو مطمئن نہ کر سکنے پر ویڈیو بناتے شخص پر غصہ نکال دیا، ہاتھ مار کرموبائل کیمرہ بند کروا دیا۔تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2018کے سلسلے میں انتخابی امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں

اور اس سلسلے میں اپنے حلقوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں جہاں کئی رہنمائوں کو اپنے حلقے کے ووٹرز کی جانب سے شدید ردعمل بھی دیکھنے میں مل رہا ہے اور ووٹرز کے اسی غصے کا نشانہ ن لیگ کے جمال لغاری اور آزاد امیدوار سکندر بوسن بھی بن چکے ہیں اور اب خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے بعد پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی گھر سے نکلتے ہی ووٹر کے سخت سوالات کوبرداشت نہ کر سکے اور انہوں نے واقعہ کی ویڈیو بناتے ایک شخص سے پر اپنا غصے نکالتے ہوئے اس کا موبائل فون زبردستی بند کروا دیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ اپنی رہائش گاہ واہڑواقع سیہون سے باہر نکلے تو ایک ووٹر نے ان سے شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟ میرے والد پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں لیکن ہمارے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ووٹر کے سوال پر مراد علی شاہ نے پہلے تو اسے بہلانے پھسلانے کی کوشش کی لیکن ووٹر کےبار بار اصرار پر سابق وزیراعلیٰ نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئےکہ مجھے بھی سنو گے یا نہیں؟ووٹر کو بار بار ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ناکامی پر مراد علی شاہ وہاں سے چل دیئے جب کہ اس موقع پر ایک صحافی ویڈیو بنارہا تھا جسے سابق وزیراعلیٰ نے ویڈیو بنانے سے بھی منع کیا اور اس کے نہ ماننے پر کیمرے پر ہاتھ دے مارا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ پنوں عاقل کے دورے پر گئے جہاں ووٹرز نے ان سے تندو تیز سوالات کیے اور پوچھا کہ 10 سال حکومت میں رہنے کے باوجود آپ نے علاقے کے لیے کیا کیا؟نوجوان کے سوال پر خورشید شاہ جواب دینے سے قاصر رہے اور مسکرا کر چل دیئے۔

موضوعات:

loading...