اہم خبریں

خبرکا سورس معلوم کرنے کی کوشش، خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے حامد میر کے ساتھ ایسا کیا سلوک کیا کہ انہوں نے چند منٹ میں ہی ہاتھ کھڑے کر دیے؟ حیرت انگیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 17 مئی‬‮‬‮ 2018  |  1:28
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر اور نامور صحافی حامد میر اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ یہ اگست 1990ء کی بات ہے۔ میں ایک نوجوان رپورٹر تھا۔ میں نے جنگ لاہور میں ایک شام خبر فائل کی کہ صدر غلام اسحق خان نے بے نظیر حکومت برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خبر نیوز ایڈیٹر خاور نعیم ہاشمی صاحب کے پاس پہنچی تو انہوں نے پڑھتے ہی اس پر دوسرے کاغذ رکھ دیے تاکہ کوئی دیکھ نہ سکے۔ یہ بہت بڑی خبر تھی۔ ہاشمی صاحب نے مجھ سے ’’سورس‘‘ پوچھا۔ مختلف سوالات کیے۔ جس طرح ایک نیوز ایڈیٹر

(خبر جا ری ہے)

سے کرتا ہے۔ کہنے لگے: اس میں فلاں کا ورژن بھی ڈالو۔ میں نے کہا: اس طرح تو خبر رُک جائے گی۔’’اچھا! تو مینوں سورس دس دے‘‘۔میں نے ان سے کہا: ’’سورس‘‘ دونوں طرف کا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا۔ پوچھا: دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت جا رہی ہے؟ میں نے کہا: جی دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت برطرف ہو رہی ہے۔ انہوں نے ’’حکومت کے سورس‘‘ پر زیادہ زور دیا۔ کہنے لگے: حکومتی سورس خواجہ طارق رحیم تو نہیں؟ میں نے کہا: وہی ہیں! میں طارق رحیم کی کافی خبریں فائل کرچکا تھا۔ وہ اس وقت وزیر پارلیمانی امور تھے۔ جمعہ کو لاہور چلے جاتے تھے۔ تین دن وہاں گزارتے۔ مجھے ان سے اہم خبریں مل جاتیں۔ خیر! خبر فائل کرکے میں اپنے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد خبر دیگر اسٹیشنوں کے لیے چلی گئی۔ لاہور سے راولپنڈی اسٹیشن پہنچی تو ہلچل مچ گئی۔ تقریباً آٹھ، ساڑھے بجے رات کے وقت میں دفتر میں بیٹھا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی، ریسپشن سے بتایا گیا کہ کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔ میں سمجھا میرا کوئی ’’سورس‘‘ ہوگا۔ میں نے استقبالیہ پر بتایا کہ انھیں اوپر بھیج دیں۔ دوسری طرف سے کہا گیا کہ وہ آپ سے نیچے ہی ملنا چاہ رہے ہیں۔ جب میں نیچے گیا تو ایک آدمی نے مجھ سے ہاتھ ملایا، گاڑی کا دروازہ یکدم سے کھلا اور مجھے کھینچ کر اس میں اندر پھینک دیا۔ مجھ پر کمبل ڈالا اور ’’کمبل کٹ‘‘ کا محاورہ مجھ پر صادق آنے لگا۔اسی حال میں مجھے ایک جگہ لے جایا گیا۔ جتنا وقت لگا اور راستے میں جو بدبو آرہی تھی، اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ظفرعلی روڈ کا علاقہ ہے۔ مجھے اندر کسی گھر یا دفتر میں لے گئے، مارنا شروع کر دیا۔ پوچھنے لگے: خبر کہاں سے ملی ہے؟ میں نے انجان بن کر کہا: کون سی خبر؟ کہنے لگے: ’’بھولے بن رہے ہو!‘‘ اور تھپڑ مارنے لگے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ایجنسی کے لوگ ہیں، البتہ یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر آیا۔ کہنے لگا: بتادو خبر کس نے دی ہے؟ ورنہ ہم بہت ماریں گے۔ جس طرح ایک نوجوان صحافی ہوتا ہے، اسے مار پڑتی ہے، سورس پوچھا جاتا ہے اور انکار میں وہ کہتا ہے: میں تمہیں سورس نہیں بتاؤں گا۔ میں نے بھی وہی انداز اختیار کیا اور صاف انکار کر دیا۔ ’’یہ ایسے نہیں مانے گا، اُتارو اس کے کپڑے۔‘‘ یہ کہا اور زبردستی میرے کپڑے اُتارنے کے لیے جھپٹ پڑے۔ میں تشدد سہ سکتا تھا، لیکن یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے کہا: میں بتاتا ہوں میرا سورس کون ہے؟ دوسری طرف سے انکار ہوا اور کہا گیا اب تو کپڑے اُتریں گے۔ میرے کپڑے اُتارے گئے، لٹا کر مجھے مارنا شروع کردیا۔ خوب مار کے بعد کہا: اب بتاؤ سورس؟ میں نے کہا: اب تو بالکل نہیں بتاؤں گا۔ کہنے لگے: ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میں نے کہا: اس سے زیادہ کیا کرلیں گے؟ کہنے لگے: اس کے علاوہ انڈروئیر بھی اُتاریں گے۔ میں پھر ہل گیا اور کہا: میں سورس بتاتا ہوں۔ میں نے طارق رحیم صاحب کا نام لیا۔ پھر بھی جان نہیں چھوٹی۔ کہنے لگے کہ تمھارا سورس ایک نہیں، دوسرے کا نام بھی بتا دو۔ ’’انہیں آخر کیسے پتا چلا کہ دوسرا سورس بھی ہے‘‘ میری پریشانی مزید بڑھی۔ ’’تم نثار عثمانی کے پاس بہت اُٹھتے بیٹھتے ہو۔ وہ ہمیشہ نوجوان صحافیوں سے کہتے ہیں کہ خبر کو ڈبل چیک کرو۔ یقیناً دوسرا سورس بھی ہوگا۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی۔ ’’یہ عام لوگ تو نہیں۔ انہیں ہماری اندر کی باتیں تک معلوم ہیں۔ انہیں یہ بھی پتا ہے کہ میں نثار عثمانی صاحب کے پاس اُٹھتا بیٹھتا ہوں۔‘‘ میں دل ہی دل میں پکار اُٹھا۔ میں نے ان سے کہا: نثار عثمانی صاحب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر ہیں اور میں ایک صحافی، ان کے پاس آنا جانا رہتا ہے۔ ان کا اصرار مگر یہی تھا کہ دوسرا سورس بتاؤ۔ میں انہیں دوسرا سورس بتانا نہیں چاہ رہا تھا، اس لیے کہ وہ غیرمحفوظ اور حساس تھا۔ سیاست سے ہی ان کا تعلق تھا۔ میرا خیال یہ تھا کہ دوسرے سورس کا نام بتا دیا تو میں بدنام ہوجاؤں گا۔ اس کا نام آج آپ کو بتا ہی دیتا ہوں، وہ تھے اعجاز الحق۔ ہمارا خاندان چونکہ ضیاء الحق مارشل لا کے خلاف مزاحمت کے لیے مشہور تھا، سو مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ دراصل اس کی کہانی بھی کچھ یوں تھی کہ اعجاز الحق کسی تقریب میں ملے۔ حال احوال پوچھا، باتوں باتوں میں کہنے لگے: یہ حکومت جا رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے ٹپ تھی، میں نے اس پر کام شروع کیا تو ایک بڑی خبر بن گئی۔اغوا کرکے لے جانے والوں نے پھر مجھے مارنا شروع کر دیا۔ جب بہت مار پڑی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو کہا: اتنی مار کھانے کے باوجود دوسرا سورس نہیں بتا رہے؟ میں نے کہا: اگر میں نے بتا دیا تو میری بہت بدنامی ہوجائے گی۔ کہنے لگے: تیرا سورس کوئی طوائف ہے جو بدنامی ہوگی؟ میں نے کہا: نہیں! میرا سورس اعجاز الحق ہیں۔ وہ ہنسنا شروع ہوگئے۔ مختصر یہ کہ جان چھوٹی، انہوں نے مجھے اُٹھایا، کپڑے پہننے کو دیے اور گاڑی میں بٹھا کر کچھ دور پھینک دیا۔ میں جب کھڑا ہوا تو میرا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا تھا، یہ ظفر علی روڈ کا ہی علاقہ تھا۔ مجھ سے میرا بٹوہ چھین لیا گیا تھا۔ میرے پاس گھر پہنچنے کے لیے کرایہ بھی نہیں تھا۔ پیدل چلنا شروع کیا اور گھر تک بڑی مشکل سے پہنچا۔

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر اور نامور صحافی حامد میر اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ یہ اگست 1990ء کی بات ہے۔ میں ایک نوجوان رپورٹر تھا۔ میں نے جنگ لاہور میں ایک شام خبر فائل کی کہ صدر غلام اسحق خان نے بے نظیر حکومت برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خبر نیوز ایڈیٹر خاور نعیم ہاشمی صاحب کے پاس پہنچی تو انہوں نے پڑھتے ہی اس پر دوسرے کاغذ رکھ دیے تاکہ کوئی دیکھ نہ سکے۔ یہ بہت بڑی خبر تھی۔ ہاشمی صاحب نے مجھ سے ’’سورس‘‘ پوچھا۔ مختلف سوالات کیے۔

جس طرح ایک نیوز ایڈیٹر اپنے رپورٹر سے کرتا ہے۔ کہنے لگے: اس میں فلاں کا ورژن بھی ڈالو۔ میں نے کہا: اس طرح تو خبر رُک جائے گی۔’’اچھا! تو مینوں سورس دس دے‘‘۔میں نے ان سے کہا: ’’سورس‘‘ دونوں طرف کا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا۔ پوچھا: دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت جا رہی ہے؟ میں نے کہا: جی دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت برطرف ہو رہی ہے۔ انہوں نے ’’حکومت کے سورس‘‘ پر زیادہ زور دیا۔ کہنے لگے: حکومتی سورس خواجہ طارق رحیم تو نہیں؟ میں نے کہا: وہی ہیں! میں طارق رحیم کی کافی خبریں فائل کرچکا تھا۔ وہ اس وقت وزیر پارلیمانی امور تھے۔ جمعہ کو لاہور چلے جاتے تھے۔ تین دن وہاں گزارتے۔ مجھے ان سے اہم خبریں مل جاتیں۔ خیر! خبر فائل کرکے میں اپنے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد خبر دیگر اسٹیشنوں کے لیے چلی گئی۔ لاہور سے راولپنڈی اسٹیشن پہنچی تو ہلچل مچ گئی۔ تقریباً آٹھ، ساڑھے بجے رات کے وقت میں دفتر میں بیٹھا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی، ریسپشن سے بتایا گیا کہ کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔ میں سمجھا میرا کوئی ’’سورس‘‘ ہوگا۔ میں نے استقبالیہ پر بتایا کہ انھیں اوپر بھیج دیں۔ دوسری طرف سے کہا گیا کہ وہ آپ سے نیچے ہی ملنا چاہ رہے ہیں۔ جب میں نیچے گیا تو ایک آدمی نے مجھ سے ہاتھ ملایا، گاڑی کا دروازہ یکدم سے کھلا اور مجھے کھینچ کر اس میں اندر پھینک دیا۔ مجھ پر کمبل ڈالا اور ’’کمبل کٹ‘‘ کا محاورہ مجھ پر صادق آنے لگا۔اسی حال میں مجھے ایک جگہ لے جایا گیا۔

جتنا وقت لگا اور راستے میں جو بدبو آرہی تھی، اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ظفرعلی روڈ کا علاقہ ہے۔ مجھے اندر کسی گھر یا دفتر میں لے گئے، مارنا شروع کر دیا۔ پوچھنے لگے: خبر کہاں سے ملی ہے؟ میں نے انجان بن کر کہا: کون سی خبر؟ کہنے لگے: ’’بھولے بن رہے ہو!‘‘ اور تھپڑ مارنے لگے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ایجنسی کے لوگ ہیں، البتہ یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر آیا۔ کہنے لگا: بتادو خبر کس نے دی ہے؟ ورنہ ہم بہت ماریں گے۔

جس طرح ایک نوجوان صحافی ہوتا ہے، اسے مار پڑتی ہے، سورس پوچھا جاتا ہے اور انکار میں وہ کہتا ہے: میں تمہیں سورس نہیں بتاؤں گا۔ میں نے بھی وہی انداز اختیار کیا اور صاف انکار کر دیا۔ ’’یہ ایسے نہیں مانے گا، اُتارو اس کے کپڑے۔‘‘ یہ کہا اور زبردستی میرے کپڑے اُتارنے کے لیے جھپٹ پڑے۔ میں تشدد سہ سکتا تھا، لیکن یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے کہا: میں بتاتا ہوں میرا سورس کون ہے؟ دوسری طرف سے انکار ہوا اور کہا گیا اب تو کپڑے اُتریں گے۔ میرے کپڑے اُتارے گئے، لٹا کر مجھے مارنا شروع کردیا۔

خوب مار کے بعد کہا: اب بتاؤ سورس؟ میں نے کہا: اب تو بالکل نہیں بتاؤں گا۔ کہنے لگے: ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میں نے کہا: اس سے زیادہ کیا کرلیں گے؟ کہنے لگے: اس کے علاوہ انڈروئیر بھی اُتاریں گے۔ میں پھر ہل گیا اور کہا: میں سورس بتاتا ہوں۔ میں نے طارق رحیم صاحب کا نام لیا۔ پھر بھی جان نہیں چھوٹی۔ کہنے لگے کہ تمھارا سورس ایک نہیں، دوسرے کا نام بھی بتا دو۔ ’’انہیں آخر کیسے پتا چلا کہ دوسرا سورس بھی ہے‘‘ میری پریشانی مزید بڑھی۔ ’’تم نثار عثمانی کے پاس بہت اُٹھتے بیٹھتے ہو۔ وہ ہمیشہ نوجوان صحافیوں سے کہتے ہیں کہ خبر کو ڈبل چیک کرو۔ یقیناً دوسرا سورس بھی ہوگا۔‘‘

انہوں نے وضاحت کی۔ ’’یہ عام لوگ تو نہیں۔ انہیں ہماری اندر کی باتیں تک معلوم ہیں۔ انہیں یہ بھی پتا ہے کہ میں نثار عثمانی صاحب کے پاس اُٹھتا بیٹھتا ہوں۔‘‘ میں دل ہی دل میں پکار اُٹھا۔ میں نے ان سے کہا: نثار عثمانی صاحب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر ہیں اور میں ایک صحافی، ان کے پاس آنا جانا رہتا ہے۔ ان کا اصرار مگر یہی تھا کہ دوسرا سورس بتاؤ۔ میں انہیں دوسرا سورس بتانا نہیں چاہ رہا تھا، اس لیے کہ وہ غیرمحفوظ اور حساس تھا۔ سیاست سے ہی ان کا تعلق تھا۔ میرا خیال یہ تھا کہ دوسرے سورس کا نام بتا دیا تو میں بدنام ہوجاؤں گا۔ اس کا نام آج آپ کو بتا ہی دیتا ہوں، وہ تھے اعجاز الحق۔ ہمارا خاندان چونکہ ضیاء الحق مارشل لا کے خلاف مزاحمت کے لیے مشہور تھا، سو مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ دراصل اس کی کہانی بھی کچھ یوں تھی کہ اعجاز الحق کسی تقریب میں ملے۔

حال احوال پوچھا، باتوں باتوں میں کہنے لگے: یہ حکومت جا رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے ٹپ تھی، میں نے اس پر کام شروع کیا تو ایک بڑی خبر بن گئی۔اغوا کرکے لے جانے والوں نے پھر مجھے مارنا شروع کر دیا۔ جب بہت مار پڑی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو کہا: اتنی مار کھانے کے باوجود دوسرا سورس نہیں بتا رہے؟ میں نے کہا: اگر میں نے بتا دیا تو میری بہت بدنامی ہوجائے گی۔ کہنے لگے: تیرا سورس کوئی طوائف ہے جو بدنامی ہوگی؟ میں نے کہا: نہیں! میرا سورس اعجاز الحق ہیں۔ وہ ہنسنا شروع ہوگئے۔ مختصر یہ کہ جان چھوٹی، انہوں نے مجھے اُٹھایا، کپڑے پہننے کو دیے اور گاڑی میں بٹھا کر کچھ دور پھینک دیا۔ میں جب کھڑا ہوا تو میرا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا تھا، یہ ظفر علی روڈ کا ہی علاقہ تھا۔ مجھ سے میرا بٹوہ چھین لیا گیا تھا۔ میرے پاس گھر پہنچنے کے لیے کرایہ بھی نہیں تھا۔ پیدل چلنا شروع کیا اور گھر تک بڑی مشکل سے پہنچا۔

loading...