اہم خبریں

وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا ،اس ترمیم میں کیا کچھ شامل ہے؟چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

  منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018  |  21:27
اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا ،چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آگئیں،تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم منظورکرانے کا فیصلہ کرلیا جس کے ذریعے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایاکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف (آج) بدھ کو 30ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔ذرائع کے مطابق قائمہ کمیٹی سے منظوری پر حکومت جمعے کو آئینی ترمیم کا بل ایوان میں پیش کردے گی۔ذرائع کا

(خبر جا ری ہے)

کہ حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی بدستور فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام پر ناراض ہے تاہم حکومت کو بل کی منظوری میں اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔گزشتہ سال 23 ستمبر کو حکومت نے پولیس کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھاتے ہوئے علاقے میں پولیس ایکٹ 1861 نافذ کیا تھا۔گزشتہ ماہ ایوان بالا نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور کیا تھا۔حکومت نے 12 ستمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے معاملے پر قبائلی رواج بل 2017 کی جگہ نیا بل منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا ،چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آگئیں،تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل 30ویں

آئینی ترمیم منظورکرانے کا فیصلہ کرلیا جس کے ذریعے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایاکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف (آج) بدھ کو 30ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔ذرائع کے مطابق قائمہ کمیٹی سے منظوری پر حکومت جمعے کو آئینی ترمیم کا بل ایوان میں پیش کردے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی بدستور فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام پر ناراض ہے تاہم حکومت کو بل کی منظوری میں اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔گزشتہ سال 23 ستمبر کو حکومت نے پولیس کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھاتے ہوئے علاقے میں پولیس ایکٹ 1861 نافذ کیا تھا۔گزشتہ ماہ ایوان بالا نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور کیا تھا۔حکومت نے 12 ستمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے معاملے پر قبائلی رواج بل 2017 کی جگہ نیا بل منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں