اہم خبریں

بروز ہفتہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان ، وزیراعظم عمران خان نے حکم جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 8 مئی‬‮‬‮ 2020  |  0:44
اسلام آباد ( آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کل ہفتہ 9 مئی سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کرتے ہو ئے کہا کہ لا ک ڈائون کھو لنا ہے مگر عقل مندی سے ہم نے ہرچیز سے متعلق ایس او پیز بنا ئے ہو ئے ہیں ایس او پیز پر ایک قوم بن کر عمل کر یں ۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا اور

(خبر جا ری ہے)

کو بند کیا لیکن مجھے پہلے دن سے یہی خوف تھا کہ ہمارے حالات یورپ، چین سے مختلف ہیں اور ہم نے جو لاک ڈاؤن کرنا ہے وہ مختلف ہوگا کیونکہ یہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ ہے اور ہمیں خدشہ تھا کہ اگر سب بند کردیا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا، کورونا کے باعث ہم نے کرکٹ میچز ، پر یڈ ، تعلیمی ادارے اور ما رکیٹیں بند کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں حالات کو دیکھ رہے تھے کہ یہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے، دنیا کے ممالک میں روزانہ ہزار لوگ مر رہے تھے اوراس سب کو دیکھتے ہوئے ہم نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) بنایا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو این سی او سی کا سربراہ بنایا اور اس کے تحت روزانہ تمام صوبوں سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ڈاکٹرز سے تجاویز لے کر صورتحال کا جائزہ اور فیصلہ کیے جاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہماری کامیابی میں پاکستانیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا، اگر اس وقت ہم ایک قوم بن کر خود احتیاط کریں اور منظم طریقے سے ایس او پیز پر عمل کریں تو ہم کا میا ب ہو سکتے ہیں ہم نے ہر چیزسے متعلق ایس او پیز بنا ئے ہو ئے ہیں ایس او پیز پر ایک قوم بن کر عمل کریں اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کر یں حکومت ڈانڈے کے زور پر عملدرآمد نہیں کرائے گی پو لیس کہا ں کہا ں جا سکتی ہے ہم عوام کو جیلو ں میں بند نہیںکرسکتے مشکل وقت سے نکلنا ہے عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہو گا ہم نے ٹائیگر فورس کو بھی کہا ہے کہ عوام کو بتائیں کہ ایس او پیز آپ کے بھلے کیلئے ہیں لو گوں نے احتیا ط نہ کی تو ہمیں پھر سے سب بند کر پڑ جا ئے گاوقت اآگیا ہے ذمے دار شہر ی بن کر کو رونا کا مقابلہ کر یں کو رونا لا ک ڈائون سے بچنے کے کے لئے ایس او پیز پر عمل کر نا ہو گا ۔انہوں نے بتایا کہ ہمارا پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے پر مکمل طور پر اتفاق نہیں ہے، میرے خیال سے اسے کھلنا چاہیے کیونکہ یہ ایک عام آدمی استعمال کرتا ہے اور اس سے غریب کو فائدہ ہوتا ہے چونکہ ابھی صوبوں کو خدشات ہیں اور ابھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جس سے صوبوں کو مسئلہ ہو لہٰذا وہ خود اس حوالے سے ایس او پیز تیار کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت یہ پوری دنیا کے لیے مشکل وقت ہے، پوری قوم دو نفل ادا کرے کہ ملک کی صورتحال اتنی خراب نہیں ہے ہمیں لوگوں کو کورونا سے بھی بچانا ہے اور لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افراد کا بھی خیال رکھنا ہے، ساری توجہ کورونا کی جانب مرکوز ہونے سے تپ دق( ٹی بی) اور کینسر پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے پوری کوشش کی ہے کہ لاک ڈاؤن سے غریب کم سے کم متاثر ہو لیکن ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس سے اور بھی لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ اس موقع پر فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ اس وقت وبا تقریباً ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے لیکن اس کا انداز ہر جگہ الگ رہا ہے اور کچھ ممالک میں یہ آگ کی طرح پھیلی ہے تاہم کچھ ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اس طرح کی تیزی نہیں دیکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 روز میں اموات کی تعداد 38 اور 40 رہی ہے لیکن اس کا موازنہ دیگر ممالک سے کریں جہاں وبا میں تیزی آئی تو یہ تسلی آمیز ہے کہ ہماری صورتحال بہتر ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہ ہمیں اپنے نظام صحت کو تیار کرنے کا وقت ملا ہے، نظام صحت پر دباؤ آیا ہے اور مزید آسکتا ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ ختم ہوگئی ہے اس وقت ہمارے پاس وینٹی لیٹرز اور دیگر سہولیات موجود ہیں لیکن یہ نہ ہو کہ اس بیماری کا پھیلاؤ ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے اس لیے ہر شہری پر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے مختلف ممالک میں دیکھا گیا کہ کورونا وائرس کے باعث دیگر بیماریوں کے مریض نظرانداز ہورہے ہیں کورونا وائرس کو روکنے کی کڑی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ان کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ معیشت زیادہ ضروری ہے یا انسانی زندگی زیادہ اہم ہے آج این سی سی اجلاس میں مختلف تجاویز دی گئیں اور 6 فیصلے کیے گئے کچھ معاملات پر صوبوں سے اتفاق نہیں ہوا وزیراعظم چاہتے تو آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلے مسلط کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہو ں نے کہا کہ اجلا س میں جو ادارے کھو لنے کی اجا زت دی گئی ان کی تفصیلا ت یہ ہے تعمیراتی شعبے کے دوسرے فیز کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔چھوٹی مارکیٹوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی، محلے اور دیہی علاقوں میں دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔فجر یعنی سحری کے بعد شام 5 بجیں تک دکانیں کھلی رہیں گی لیکن رات میں بند رکھی جائیں گی۔ہفتے میں 2 روز اشیائے ضروری کے سوا تمام کاروبار اور مارکیٹیں بند رہیں گیں۔ہسپتالوں کی مخصوص اور نشاندہی شدہ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔تعلیمی اداروں کی تعطیلات 31 مئی سے آگے بڑھانے اور بورڈ امتحانات سے متعلق بھی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا۔اسد عمر کے بعد وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا کہ الیکٹرک اور اسٹیل سے منسلک کاروباروں کو کھولا جائے گا ، لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کے دوران پینٹ اور پائپ سے منسلک کاروباروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔آخر میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اسکولز، یونیورسٹیز اور دیگر تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے تمام بورڈز کے امتحانات منسوخ کردیے گئے ہیں اور طلبا کو گزشتہ برس کے نتائج کی بنیاد پر اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے گا۔شفقت محمود نے کہا کہ طلبا کی صحت اور ان کی تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اس لیا فیصلہ کیا گیا ہے کہ تما م تعلیمی ادارے جن کو پہلے یکم جو ن سے کھولنے کا کہا گیا تھا اب ایسا نہیں ہو گا بلکہ 1جو ن کو تعلیمی ادارے کھولنے نہ کھولنے کے بارے میں مزید مشاورت کی جا ئے گی ۔اان کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والی بیشتر پروازوں میں کورونا کے کیسز سامنے نہیں آئے صرف خلیجی ممالک سے آنے والے کچھ مسافروں میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔معید یوسف نے کہا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے تمام افراد کے وائرس کا شکار ہونے کی باتیں غلط فہمی ہیں، وطن واپس آنے والے شہریوں کو بدنام نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر ہفتے ساڑھے 7 ہزار پاکستانیوں کو واپس لارہے ہیں جبکہ حکومت ان ممالک سے بات چیت کررہی ہے جہاں سے واپس آنے والے 40 سے 50 فیصد مسافروں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

اسلام آباد ( آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کل ہفتہ 9 مئی سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کرتے ہو ئے کہا کہ لا ک ڈائون کھو لنا ہے مگر عقل مندی سے ہم نے ہرچیز سے متعلق ایس او پیز بنا ئے ہو ئے ہیں ایس او پیز پر ایک قوم بن کر عمل کر یں ۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ

ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا اور عوامی مقامات کو بند کیا لیکن مجھے پہلے دن سے یہی خوف تھا کہ ہمارے حالات یورپ، چین سے مختلف ہیں اور ہم نے جو لاک ڈاؤن کرنا ہے وہ مختلف ہوگا کیونکہ یہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ ہے اور ہمیں خدشہ تھا کہ اگر سب بند کردیا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا، کورونا کے باعث ہم نے کرکٹ میچز ، پر یڈ ، تعلیمی ادارے اور ما رکیٹیں بند کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں حالات کو دیکھ رہے تھے کہ یہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے، دنیا کے ممالک میں روزانہ ہزار لوگ مر رہے تھے اوراس سب کو دیکھتے ہوئے ہم نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) بنایا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو این سی او سی کا سربراہ بنایا اور اس کے تحت روزانہ تمام صوبوں سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ڈاکٹرز سے تجاویز لے کر صورتحال کا جائزہ اور فیصلہ کیے جاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہماری کامیابی میں پاکستانیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا، اگر اس وقت ہم ایک قوم بن کر خود احتیاط کریں اور منظم طریقے سے ایس او پیز پر عمل کریں تو ہم کا میا ب ہو سکتے ہیں ہم نے ہر چیزسے متعلق ایس او پیز بنا ئے ہو ئے ہیں ایس او پیز پر ایک قوم بن کر عمل کریں اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کر یں حکومت ڈانڈے کے زور پر عملدرآمد نہیں کرائے گی پو لیس کہا ں کہا ں جا سکتی ہے ہم عوام کو جیلو ں میں بند نہیںکرسکتے مشکل وقت سے نکلنا ہے عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہو گا ہم نے ٹائیگر فورس کو بھی کہا ہے کہ عوام کو بتائیں کہ ایس او پیز آپ کے بھلے کیلئے ہیں لو گوں نے احتیا ط نہ کی

تو ہمیں پھر سے سب بند کر پڑ جا ئے گاوقت اآگیا ہے ذمے دار شہر ی بن کر کو رونا کا مقابلہ کر یں کو رونا لا ک ڈائون سے بچنے کے کے لئے ایس او پیز پر عمل کر نا ہو گا ۔انہوں نے بتایا کہ ہمارا پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے پر مکمل طور پر اتفاق نہیں ہے، میرے خیال سے اسے کھلنا چاہیے کیونکہ یہ ایک عام آدمی استعمال کرتا ہے اور اس سے غریب کو فائدہ ہوتا ہے چونکہ ابھی صوبوں کو خدشات ہیں اور

ابھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جس سے صوبوں کو مسئلہ ہو لہٰذا وہ خود اس حوالے سے ایس او پیز تیار کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت یہ پوری دنیا کے لیے مشکل وقت ہے، پوری قوم دو نفل ادا کرے کہ ملک کی صورتحال اتنی خراب نہیں ہے ہمیں لوگوں کو کورونا سے بھی بچانا ہے اور لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افراد کا بھی خیال رکھنا ہے، ساری توجہ کورونا کی جانب مرکوز ہونے سے

تپ دق( ٹی بی) اور کینسر پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے پوری کوشش کی ہے کہ لاک ڈاؤن سے غریب کم سے کم متاثر ہو لیکن ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس سے اور بھی لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ اس موقع پر فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ اس وقت وبا تقریباً ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے لیکن اس کا انداز ہر جگہ الگ رہا ہے اور کچھ ممالک میں یہ آگ کی طرح پھیلی ہے

تاہم کچھ ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اس طرح کی تیزی نہیں دیکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 روز میں اموات کی تعداد 38 اور 40 رہی ہے لیکن اس کا موازنہ دیگر ممالک سے کریں جہاں وبا میں تیزی آئی تو یہ تسلی آمیز ہے کہ ہماری صورتحال بہتر ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہ ہمیں اپنے نظام صحت کو تیار کرنے کا وقت ملا ہے، نظام صحت پر دباؤ آیا ہے اور مزید آسکتا ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ

سکتے کہ ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ ختم ہوگئی ہے اس وقت ہمارے پاس وینٹی لیٹرز اور دیگر سہولیات موجود ہیں لیکن یہ نہ ہو کہ اس بیماری کا پھیلاؤ ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے اس لیے ہر شہری پر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے مختلف ممالک میں دیکھا گیا کہ کورونا وائرس کے باعث دیگر بیماریوں کے مریض نظرانداز ہورہے ہیں کورونا وائرس کو روکنے کی

کڑی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ان کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ معیشت زیادہ ضروری ہے یا انسانی زندگی زیادہ اہم ہے آج این سی سی اجلاس میں مختلف تجاویز دی گئیں اور 6 فیصلے کیے گئے کچھ معاملات پر صوبوں سے اتفاق نہیں ہوا وزیراعظم چاہتے تو آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلے مسلط کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

انہو ں نے کہا کہ اجلا س میں جو ادارے کھو لنے کی اجا زت دی گئی ان کی تفصیلا ت یہ ہے تعمیراتی شعبے کے دوسرے فیز کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔چھوٹی مارکیٹوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی، محلے اور دیہی علاقوں میں دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔فجر یعنی سحری کے بعد شام 5 بجیں تک دکانیں کھلی رہیں گی لیکن رات میں بند رکھی جائیں گی۔ہفتے میں 2 روز اشیائے ضروری کے سوا تمام کاروبار اور

مارکیٹیں بند رہیں گیں۔ہسپتالوں کی مخصوص اور نشاندہی شدہ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔تعلیمی اداروں کی تعطیلات 31 مئی سے آگے بڑھانے اور بورڈ امتحانات سے متعلق بھی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا۔اسد عمر کے بعد وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا کہ الیکٹرک اور اسٹیل سے منسلک کاروباروں کو کھولا جائے گا ، لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کے دوران پینٹ اور پائپ سے

منسلک کاروباروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔آخر میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اسکولز، یونیورسٹیز اور دیگر تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے تمام بورڈز کے امتحانات منسوخ کردیے گئے ہیں اور طلبا کو گزشتہ برس کے نتائج کی بنیاد پر اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے گا۔شفقت محمود نے کہا کہ طلبا کی

صحت اور ان کی تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اس لیا فیصلہ کیا گیا ہے کہ تما م تعلیمی ادارے جن کو پہلے یکم جو ن سے کھولنے کا کہا گیا تھا اب ایسا نہیں ہو گا بلکہ 1جو ن کو تعلیمی ادارے کھولنے نہ کھولنے کے بارے میں مزید مشاورت کی جا ئے گی ۔اان کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والی بیشتر پروازوں میں کورونا کے کیسز سامنے نہیں آئے

صرف خلیجی ممالک سے آنے والے کچھ مسافروں میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔معید یوسف نے کہا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے تمام افراد کے وائرس کا شکار ہونے کی باتیں غلط فہمی ہیں، وطن واپس آنے والے شہریوں کو بدنام نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر ہفتے ساڑھے 7 ہزار پاکستانیوں کو واپس لارہے ہیں جبکہ حکومت ان ممالک سے بات چیت کررہی ہے جہاں سے واپس آنے والے 40 سے 50 فیصد مسافروں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں