اہم خبریں

چیف جسٹس سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر چار احکامات جاری کر دیں،میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری سمیت ملک کے 42 مضبوط لوگوں کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے‘ اس احتساب کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ حکومت کے منی بجٹ میں کیا خرابی ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

  منگل‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2018  |  21:50
کراچی میں دس سال کی بچی امل پولیس کی گولی سے شہید ہو گئی‘ امل کی موت اس ملک میں سسٹم کے فیلیئر کی تازہ ترین مثال ہے‘ 13 اگست کی رات ڈاکو نے پستول دکھا کر امل کے والد سے گاڑی کا شیشہ نیچے کرایا‘ موبائل فونز اور نقدی لوٹی اور وہ دوسری گاڑیوں کو لوٹنے میں مصروف ہو گیا‘ گاڑیوں کی قطار میں پولیس کی ایک وین بھی تھی‘ پولیس نے ڈاکو پر کلاشنکوف سے فائرنگ شروع کر دی‘ گولی ڈاکو کی بجائے امل کو لگ گئی‘ اس کے بعد سسٹم کا فیلیئر کھل کر سامنے آتا چلا

(خبر جا ری ہے)

نے زخمی امل کو ہسپتال پہنچانے کیلئے لوگوں سے راستہ مانگا‘ لوگوں نے راستہ نہیں دیا‘ یہ بچی کو اٹھا کر نیشنل میڈیکل سنٹر ہسپتال پہنچے‘ ہسپتال نے بچی کو آکسیجن اور خون دینے کی بجائے آغا خان یا جناح ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا‘ والدین نے ایمبولینس مانگی‘ ایمبولینس نہیں ملی اور یوں بچی 18 منٹ کی طویل کشمکش کے بعد والدین کے ہاتھوں میں انتقال کر گئی‘ چیف جسٹس نے آج واقعے کی انکوائری اور ٹھوس تجاویز کیلئے کمیٹی بنا دی‘ کمیٹی کی تجاویز نہ جانے کب آئیں گی لیکن میری چیف جسٹس سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر چار احکامات جاری کر دیں‘ پولیس کو پابند بنایا جائے یہ کلاشنکوف سمیت تمام مہلک ہتھیار صرف تھانوں میں رکھیں گے اور یہ ہتھیار صرف ضرورت کے وقت باہر آئیں گے‘ دو‘ پولیس کے ہتھیار چلانے کی صلاحیت کا ہر چھ ماہ بعد امتحان ہو گا اور جو اس میں ناکام ہو گا اس کی پروموشن نہیں ہو گی‘تین‘ سڑک کی تیسری لین ہرحال میں کھلی رہے گی‘ یہ لین ایمبولینس کیلئے ہو گی اور جو اس کی پابندی نہیں کرے گا اسے کم از کم دس ہزار روپے جرمانہ ہو گا اور چار‘ ہر ہسپتال میں ایمرجنسی کا شعبہ‘ آکسیجن اور خون ہو گا اور یہ ہسپتال زخمی کا علاج پہلے کرے گا اور پولیس کارروائی بعد میں ہو گی‘ ہم نے اگر آج یہ نہ کیا تو اس ملک میں امل جیسی بچیاں مرتی رہیں گی اور والدین فیلڈ سسٹم کا ماتم کرتے رہیں گے۔ ہم آج کے ایشو کی طرف آتے ہیں، یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے‘ ملک میں بڑے لیول پر احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے‘ میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری سمیت ملک کے 42 مضبوط لوگوں کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے‘ اس احتساب کا کیا نتیجہ نکلے گا اور پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت کا منی بجٹ مسترد کر دیا‘ یہ کل سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے‘ آخر حکومت کے منی بجٹ میں کیا خرابی ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

کراچی میں دس سال کی بچی امل پولیس کی گولی سے شہید ہو گئی‘ امل کی موت اس ملک میں سسٹم کے فیلیئر کی تازہ ترین مثال ہے‘ 13 اگست کی رات ڈاکو نے پستول دکھا کر امل کے والد سے گاڑی کا شیشہ نیچے کرایا‘ موبائل فونز اور نقدی لوٹی اور وہ دوسری گاڑیوں کو لوٹنے میں مصروف ہو گیا‘ گاڑیوں کی قطار میں پولیس کی ایک وین بھی تھی‘ پولیس نے ڈاکو پر کلاشنکوف سے فائرنگ شروع کر دی‘ گولی ڈاکو کی بجائے امل کو لگ گئی‘ اس کے بعد سسٹم کا فیلیئر کھل کر سامنے آتا چلا گیا‘

والدین نے زخمی امل کو ہسپتال پہنچانے کیلئے لوگوں سے راستہ مانگا‘ لوگوں نے راستہ نہیں دیا‘ یہ بچی کو اٹھا کر نیشنل میڈیکل سنٹر ہسپتال پہنچے‘ ہسپتال نے بچی کو آکسیجن اور خون دینے کی بجائے آغا خان یا جناح ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا‘ والدین نے ایمبولینس مانگی‘ ایمبولینس نہیں ملی اور یوں بچی 18 منٹ کی طویل کشمکش کے بعد والدین کے ہاتھوں میں انتقال کر گئی‘ چیف جسٹس نے آج واقعے کی انکوائری اور ٹھوس تجاویز کیلئے کمیٹی بنا دی‘ کمیٹی کی تجاویز نہ جانے کب آئیں گی لیکن میری چیف جسٹس سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر چار احکامات جاری کر دیں‘ پولیس کو پابند بنایا جائے یہ کلاشنکوف سمیت تمام مہلک ہتھیار صرف تھانوں میں رکھیں گے اور یہ ہتھیار صرف ضرورت کے وقت باہر آئیں گے‘ دو‘ پولیس کے ہتھیار چلانے کی صلاحیت کا ہر چھ ماہ بعد امتحان ہو گا اور جو اس میں ناکام ہو گا اس کی پروموشن نہیں ہو گی‘تین‘ سڑک کی تیسری لین ہرحال میں کھلی رہے گی‘ یہ لین ایمبولینس کیلئے ہو گی اور جو اس کی پابندی نہیں کرے گا اسے کم از کم دس ہزار روپے جرمانہ ہو گا اور چار‘ ہر ہسپتال میں ایمرجنسی کا شعبہ‘ آکسیجن اور خون ہو گا اور یہ ہسپتال زخمی کا علاج پہلے کرے گا اور پولیس کارروائی بعد میں ہو گی‘ ہم نے اگر آج یہ نہ کیا تو اس ملک میں امل جیسی بچیاں مرتی رہیں گی اور والدین فیلڈ سسٹم کا ماتم کرتے رہیں گے۔

ہم آج کے ایشو کی طرف آتے ہیں، یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے‘ ملک میں بڑے لیول پر احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے‘ میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری سمیت ملک کے 42 مضبوط لوگوں کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے‘ اس احتساب کا کیا نتیجہ نکلے گا اور پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت کا منی بجٹ مسترد کر دیا‘ یہ کل سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے‘ آخر حکومت کے منی بجٹ میں کیا خرابی ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں