اہم خبریں

بیرون ملک خفیہ جائیدادیں اور اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کو حکومت نے انعام سے نواز دیا،بڑی خوشخبری سنا دی،آئندہ چند روز میں ایمنسٹی سکیم کے تحت کیا اجازت دینے کا فیصلہ کر لیاگیا

  پیر‬‮ 19 مارچ‬‮ 2018  |  16:14
کراچی/اسلام آباد (آئی این پی/مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ چند روز تک نئی ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرے گی‘ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لئے ہمارے پاس بہترین تجاویز ہیں‘ معیشت میں استحکام سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہورہا ہے‘ ملک میں شرح نمو آٹھ سے دس فیصد تک لے کر جانا چاہتے ہیں‘ موجودہ دور حکومت میں محصولات کی شرح وصولی میں نمایاں بہتری آئی ہے‘ ٹیکس نظام کو عوام دوست بنایا گیا ہے‘ پاکستان معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہے‘ صنعتوں کو گیس

(خبر جا ری ہے)

مکمل طور پر فراہم کی جارہی ہے۔ پیر کو ورلڈ اسلامک فنانس فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صنعتوں اور چھوٹے کاروبار کے فروغ کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ مختلف شعبوں میں اسلامک بینکنگ کو فروغ دیا جارہا ہے۔ مقامی صنعتوں کو بھی اسلامک فنانس کی طرف لارہے ہیں۔ معیشت مضبوط ہورہی ہے شرح نمو چھ فیصد تک پہنچ چکی ہے ملک میں شرح نمو آٹھ سے دس فیصد تک لے کر جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں استحکام سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہورہا ہے۔ ماضی میں ملک کو بجلی کی شدید قلت کا سامنا رہا موجودہ دور میں دس سے بارہ ہزار میگا واٹ بجلی نظام میں شامل کی گئی۔ امن و امان کی صورتحال کا معیشت سے گہرا تعلق ہے امن کی وجہ سے کراچی میں تجارتی سرگرمیاں اور پورے ملک میں امن و امان بحال ہوچکا ہے۔ ملکی بہتر صورتحال کی وجہ سے معاشی اہداف حاصل کرنا مشکل نہیں رہا۔ موجودہ دور حکومت میں محصولات کی شرح وصولی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ٹیکس نظام کو عوام دوست بنایا گیا ہے۔ جاپان اور چین نے بھی دو ہندسی شرح نمو کے حصول میں دو سے تین دہانیاں لگائیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہے صنعتوں کو گیس اور بجلی مکمل طور پر فراہم کی جارہی ہے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لئے ہمارے پاس بہترین تجاویز ہیں۔ حکومت آئندہ چند روز تک نئی ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل14جنوری 2018کو ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت بیرون ملک سے زرمبادلہ لانے اور اپنی جائیدادیں واثاثے ظاہر کرنے والوں کو ٹیکس ترغیب دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجربرادری کوایک موقع دینے کے لیے مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی جارہی ہے جس سےنہ صرف ٹیکس نیٹ میں توسیع ہوسکے گی بلکہ ریونیو وصولیوں کا حجم بھی بڑھے گا، ایمنسٹی اسکیم کے بعد کوئی مک مکا نہیں ہوگا بلکہ قابل ٹیکس آمدن کے حامل کو بہرصورت ٹیکس نیٹ میں آنا ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ لوکاسٹ ہاؤسنگ کے لیے خودمختاربورڈ کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی کو بورڈ کا رکن نامزد کیا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہوفاقی حکومت لوکاسٹ ہاؤسنگ کے حوالے سے بجٹ میں کچھ اقدامات بروئے کار لائے گی،شعبہ جاتی بنیادوں پرمسائل کا حل، معیشت کی ترقی وفروغ اور جی ڈی پی کی نمواولین ترجیحات میں شامل ہیں، رواں سال جی ڈی پی نمو کی شرح کا ہدف 6 فیصد ہے، ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے جی ڈی پی گروتھ کو 10 فیصد کرنا ہوگا جبکہ ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مشیر برائے خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کے جی ڈی پی نموکی8 تا10 فیصد کی شرح اگر 20 سال تک مستحکم رہے تو بیروزگاری، غربت سمیت تمام مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے اور مذکورہ تناسب کے استحکام سے جامعات سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کے لیے روزگار کے فوری مواقع پیدا ہوسکیں گے، اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں روپے کی قدر5 فیصد کم کی ہے جس کے فوائد جلد نظرآنا شروع ہوں گے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مشیرخزانہ کی حیثیتسے انہیں صرف6 ماہ کا مختصرسا دورانیہ ملا ہے جس میں وہ بڑے کام کرنا چاہتے ہیں، ملکی برآمدات میں ماہانہ 20 فیصد کا اضافہ ہونا شروع ہوگا۔ .انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت نے بعض اہم صنعتی خام مال کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرکے غلطی کی اور ایسی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اصل مقصد ریونیو بڑھانا نہیں بلکہ معیشت کی ترقی اور روزگار فراہم کرنا ہے، ٹیکس نیٹ کو توسیع دے کر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جائے گی، رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف 4 ہزار ارب روپے حاصل کرلیں گے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فکسڈ ٹیکس ریجیم اچھی اسکیم تھی اور اس اسکیم سے متعلق جائزہ لینے کے لیے انہوں نے آباد کے نمائندوں کو رواں ہفتے ہی اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔انھوں نے آباد کو دعوت دی کہ وہ سی پیک کے اکنامک زون میں آ کر کام کریں، مقامی سرمایہ کاروں کو بھی چینی سرمایہ کاروں کے مساوی مراعات دی جائیں گی۔

کراچی/اسلام آباد (آئی این پی/مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ چند روز تک نئی ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرے گی‘ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لئے ہمارے پاس بہترین تجاویز ہیں‘ معیشت میں استحکام سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہورہا ہے‘ ملک میں شرح نمو آٹھ سے دس فیصد تک لے کر جانا چاہتے ہیں‘

موجودہ دور حکومت میں محصولات کی شرح وصولی میں نمایاں بہتری آئی ہے‘ ٹیکس نظام کو عوام دوست بنایا گیا ہے‘ پاکستان معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہے‘ صنعتوں کو گیس اور بجلی مکمل طور پر فراہم کی جارہی ہے۔ پیر کو ورلڈ اسلامک فنانس فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صنعتوں اور چھوٹے کاروبار کے فروغ کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ مختلف شعبوں میں اسلامک بینکنگ کو فروغ دیا جارہا ہے۔ مقامی صنعتوں کو بھی اسلامک فنانس کی طرف لارہے ہیں۔ معیشت مضبوط ہورہی ہے شرح نمو چھ فیصد تک پہنچ چکی ہے ملک میں شرح نمو آٹھ سے دس فیصد تک لے کر جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں استحکام سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہورہا ہے۔ ماضی میں ملک کو بجلی کی شدید قلت کا سامنا رہا موجودہ دور میں دس سے بارہ ہزار میگا واٹ بجلی نظام میں شامل کی گئی۔ امن و امان کی صورتحال کا معیشت سے گہرا تعلق ہے امن کی وجہ سے کراچی میں تجارتی سرگرمیاں اور پورے ملک میں امن و امان بحال ہوچکا ہے۔ ملکی بہتر صورتحال کی وجہ سے معاشی اہداف حاصل کرنا مشکل نہیں رہا۔ موجودہ دور حکومت میں محصولات کی شرح وصولی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ٹیکس نظام کو عوام دوست بنایا گیا ہے۔ جاپان اور چین نے بھی دو ہندسی شرح نمو کے حصول میں دو سے تین دہانیاں لگائیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہے صنعتوں کو گیس اور بجلی مکمل طور پر فراہم کی جارہی ہے

آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لئے ہمارے پاس بہترین تجاویز ہیں۔ حکومت آئندہ چند روز تک نئی ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل14جنوری 2018کو ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت بیرون ملک سے زرمبادلہ لانے اور اپنی جائیدادیں واثاثے ظاہر کرنے والوں کو ٹیکس ترغیب دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجربرادری کوایک موقع دینے کے لیے مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی جارہی ہے جس سےنہ صرف ٹیکس نیٹ میں توسیع ہوسکے گی بلکہ ریونیو وصولیوں کا حجم بھی بڑھے گا، ایمنسٹی اسکیم کے بعد کوئی مک مکا نہیں ہوگا بلکہ قابل ٹیکس آمدن کے حامل کو بہرصورت ٹیکس نیٹ میں آنا ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ لوکاسٹ ہاؤسنگ کے لیے خودمختاربورڈ کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی کو بورڈ کا رکن نامزد کیا۔ مشیر خزانہ نے کہا

کہوفاقی حکومت لوکاسٹ ہاؤسنگ کے حوالے سے بجٹ میں کچھ اقدامات بروئے کار لائے گی،شعبہ جاتی بنیادوں پرمسائل کا حل، معیشت کی ترقی وفروغ اور جی ڈی پی کی نمواولین ترجیحات میں شامل ہیں، رواں سال جی ڈی پی نمو کی شرح کا ہدف 6 فیصد ہے، ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے جی ڈی پی گروتھ کو 10 فیصد کرنا ہوگا جبکہ ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مشیر برائے خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کے جی ڈی پی نموکی8 تا10 فیصد کی شرح اگر 20 سال تک مستحکم رہے

تو بیروزگاری، غربت سمیت تمام مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے اور مذکورہ تناسب کے استحکام سے جامعات سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کے لیے روزگار کے فوری مواقع پیدا ہوسکیں گے، اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں روپے کی قدر5 فیصد کم کی ہے جس کے فوائد جلد نظرآنا شروع ہوں گے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مشیرخزانہ کی حیثیتسے انہیں صرف6 ماہ کا مختصرسا دورانیہ ملا ہے جس میں وہ بڑے کام کرنا چاہتے ہیں، ملکی برآمدات میں ماہانہ 20 فیصد کا اضافہ ہونا شروع ہوگا۔

.انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت نے بعض اہم صنعتی خام مال کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرکے غلطی کی اور ایسی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اصل مقصد ریونیو بڑھانا نہیں بلکہ معیشت کی ترقی اور روزگار فراہم کرنا ہے، ٹیکس نیٹ کو توسیع دے کر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جائے گی،

رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف 4 ہزار ارب روپے حاصل کرلیں گے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فکسڈ ٹیکس ریجیم اچھی اسکیم تھی اور اس اسکیم سے متعلق جائزہ لینے کے لیے انہوں نے آباد کے نمائندوں کو رواں ہفتے ہی اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔انھوں نے آباد کو دعوت دی کہ وہ سی پیک کے اکنامک زون میں آ کر کام کریں، مقامی سرمایہ کاروں کو بھی چینی سرمایہ کاروں کے مساوی مراعات دی جائیں گی۔

موضوعات:

loading...