اہم خبریں

یارِ غار سیدنا ابوبکر صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا عشقِ رسولؐ

  بدھ‬‮ 12 اپریل‬‮ 2017  |  10:40
جو بلالؓ کو غلامی سے آزاد کرائیگا اس نے اپنے اوپر جنت کو واجب کرلیا ۔رسول اللہ ﷺ کے لب مبارک سے ان الفاظ کا ادا ہونا تھا کہ ایمان لانے میں اوّل سردارِ صحابہ یار غار خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے اٹھے اور فرمایا یا رسولؐ اللہ میں بلالؓ کو آزاد کرواکر آپکی خدمت میں لیکر حاضر ہوتا ہوں۔نبی کریمؐ نے صدیق اکبرؓ کو اجازت دی۔سیدنا صدیقِ اکبرؓ بلالؓ کے مالک امیہ بن خلف کے پاس گئے اور اس سے کہا میں تمہارا یہ غلام خریدنا چاہتا ہوں۔ امیہ نے حیرت

(خبر جا ری ہے)

یہ کالا حبشی ؟؟؟ اس میں ایسی کیا خوبی ہے جو تم خریدنے آگئے؟؟یہ تم کیا جانو اس میں کوئی خوبی ہو نہ ہو میرے آقا نے مانگا ہے تو میں اسے ہر قیمت پر خرید کر آقا کی خدمت میں پیش کرونگا تم بس قیمت بتاؤ؟!!تاجدارِصحابہ رفیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے دو ٹوک اپنا مطالبہ رکھا ۔اچھا ایسی بات ہے میرے لیئے تو یہ بیکار ہے ویسے بھی اسنے ہمارے معبودوں کا انکار کردیا ہے ۔امیہ نے بات بڑھاتے ہوئے کہا تم بس قیمت بتاؤ۔سیدنا صدیق اکبرؓ نے بات کاٹتے ہوئے فرمایا۔ظالم کافر نے فوراً سے کہا دو ہزار دینار...سیدنا صدیق اکبرؓ نے بنا عزر کے فرمایا منظور ہےظالم کافر حیرت میں پڑگیا کہ اس غلام کی قیمت پانچ سو دینار سے زیادہ نہیں ہے اور ابوبکرؓ دو ہزار میں راضی ہوگیا ۔اس کی لالچ بڑھ گئی اور بولا نہیں اب تو میں پانچ ہزار دینار سے کم میں نہیں بیچتا ۔۔۔سردار صحابہؓ نے فرمایا: تو اپنی زبان سے پھر گیا...مجھے اس قیمت پر بھی منظور ہے ۔لالچی کافر نے دل میں سوچا کہ آخر اس کالے غلام میں ایسی کیا بات ہے کہ ابوبکرؓ اسکی دس گنا زیادہ قیمت دینے کو بھی تیار ہے۔اس نے اب کے بار پھر اپنی بات سے مکرتے ہوئے کہا: نہیں میں نہیں بیچتا جاؤ.سیدنا صدیق اکبرؓ تو بلالؓ کو کسی بھی قیمت پر آزاد کرانے آئے تھے چہ جائے کے وہ قیمت انکی اپنی جان ہی کیوں نہ ہو۔سید الانبیاء ﷺ کے لب مبارک سے الفاظ ادا ہوں اور صدیقِ اکبرؓ اسکو پورا نہ کریں ایسا تو ممکن ہی نا تھا۔ابوبکر صدیقؓ نے اس لالچی ظالم کافر امیہ بن خلف سے پھر فرمایا: تو کیسا عرب ہے جو اپنی زبان سے منکر ہوگیا ۔ظالم کافر کو شرمندگی محسوس ہوئی مگر لالچ کا غلبہ زیادہ تھا تو بولا کہ آخری دام دس ہزار دینار دو اور یہ غلام تمہارا. سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر اس کافر ملعون کو دس ہزار دینار دے ڈالے. لالچی کافر نے زور سے قہقہا بلند کیا ؛؛ہاہاہا؛؛ اور بولا: اے ابوبکرؓ تونے تو گھاٹے کا سودا کر لیا۔ تاجدار صحابہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا: آج اگر تو بدلے میں میری جان بھی مانگتا تو میں دریغ نہیں کرتا مگر تو تو چند معمولی سکے لیکر خوش ہوتا ہے۔ جبکہ میری خوشی میرے آقا محمد ﷺ کے چہرے کی تبسم میں ہے اور یہ تو کیا جانے۔ یہ ہیں مسلمانوں کے پہلے خلیفۃ الرسولؐ یارِغار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنہوں نے حضرت بلالؓ کو خرید کر آزاد کیا اور سیدنا صدیق اکبرؓ ہی وہ واحد صحابی ہیں جن ہوں نے سب سے زیادہ غلام آزاد کرائے اور انہیں نبی کریمؐ کی زبان مبارک سے بار ہاں جنت کی بشارت بھی ملی۔ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے۔ فرمایا: مجھ پر کسی کا احسان نہیں مگر ابوبکرؓ کا۔ ابوبکرؓ زندگی میں بھی رفیق رسولؐ رہے اور وفات کے بعد بھی روضہ رسولؐ میں گنبد خضرا کے سائے تلے رسولؐ اللہ کے ساتھ ہیں۔ 222 جمادالثانی یومِ وفاتِ ابوبکرؓ ہے۔

جو بلالؓ کو غلامی سے آزاد کرائیگا اس نے اپنے اوپر جنت کو واجب کرلیا ۔رسول اللہ ﷺ کے لب مبارک سے ان الفاظ کا ادا ہونا تھا کہ ایمان لانے میں اوّل سردارِ صحابہ یار غار خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے اٹھے اور فرمایا یا رسولؐ اللہ میں بلالؓ کو آزاد کرواکر آپکی خدمت میں لیکر حاضر ہوتا ہوں۔نبی کریمؐ نے صدیق اکبرؓ کو اجازت دی۔سیدنا صدیقِ اکبرؓ بلالؓ کے مالک امیہ بن خلف کے پاس گئے اور اس سے کہا میں تمہارا یہ غلام خریدنا چاہتا ہوں۔

امیہ نے حیرت سے کہا یہ کالا حبشی ؟؟؟ اس میں ایسی کیا خوبی ہے جو تم خریدنے آگئے؟؟یہ تم کیا جانو اس میں کوئی خوبی ہو نہ ہو میرے آقا نے مانگا ہے تو میں اسے ہر قیمت پر خرید کر آقا کی خدمت میں پیش کرونگا تم بس قیمت بتاؤ؟!!تاجدارِصحابہ رفیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے دو ٹوک اپنا مطالبہ رکھا ۔اچھا ایسی بات ہے میرے لیئے تو یہ بیکار ہے ویسے بھی اسنے ہمارے معبودوں کا انکار کردیا ہے ۔امیہ نے بات بڑھاتے ہوئے کہا تم بس قیمت بتاؤ۔سیدنا صدیق اکبرؓ نے بات کاٹتے ہوئے فرمایا۔ظالم کافر نے فوراً سے کہا دو ہزار دینار…سیدنا صدیق اکبرؓ نے بنا عزر کے فرمایا منظور ہےظالم کافر حیرت میں پڑگیا کہ اس غلام کی قیمت پانچ سو دینار سے زیادہ نہیں ہے اور ابوبکرؓ دو ہزار میں راضی ہوگیا ۔اس کی لالچ بڑھ گئی اور بولا نہیں اب تو میں پانچ ہزار دینار سے کم میں نہیں بیچتا ۔۔۔سردار صحابہؓ نے فرمایا: تو اپنی زبان سے پھر گیا…مجھے اس قیمت پر بھی منظور ہے ۔لالچی کافر نے دل میں سوچا کہ آخر اس کالے غلام میں ایسی کیا بات ہے کہ ابوبکرؓ اسکی دس گنا زیادہ قیمت دینے کو بھی تیار ہے۔اس نے اب کے بار پھر اپنی بات سے مکرتے ہوئے کہا: نہیں میں نہیں بیچتا جاؤ.سیدنا صدیق اکبرؓ تو بلالؓ کو کسی بھی قیمت پر آزاد کرانے آئے تھے چہ جائے کے وہ قیمت انکی اپنی جان ہی کیوں نہ ہو۔سید الانبیاء ﷺ کے لب مبارک سے الفاظ ادا ہوں اور صدیقِ اکبرؓ اسکو پورا نہ کریں ایسا

تو ممکن ہی نا تھا۔ابوبکر صدیقؓ نے اس لالچی ظالم کافر امیہ بن خلف سے پھر فرمایا: تو کیسا عرب ہے جو اپنی زبان سے منکر ہوگیا ۔ظالم کافر کو شرمندگی محسوس ہوئی مگر لالچ کا غلبہ زیادہ تھا تو بولا کہ آخری دام دس ہزار دینار دو اور یہ غلام تمہارا.
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر اس کافر ملعون کو دس ہزار دینار دے ڈالے.
لالچی کافر نے زور سے قہقہا بلند کیا ؛؛ہاہاہا؛؛ اور بولا: اے ابوبکرؓ تونے تو گھاٹے کا سودا کر لیا۔
تاجدار صحابہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا: آج اگر تو بدلے میں میری جان بھی مانگتا تو میں دریغ نہیں کرتا مگر تو تو چند معمولی سکے لیکر خوش ہوتا ہے۔ جبکہ میری خوشی میرے آقا محمد ﷺ کے چہرے کی تبسم میں ہے اور یہ تو کیا جانے۔
یہ ہیں مسلمانوں کے پہلے خلیفۃ الرسولؐ یارِغار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنہوں نے حضرت بلالؓ کو خرید کر آزاد کیا اور سیدنا صدیق اکبرؓ ہی وہ واحد صحابی ہیں جن ہوں نے سب سے زیادہ غلام آزاد کرائے اور انہیں نبی کریمؐ کی زبان مبارک سے بار ہاں جنت کی بشارت بھی ملی۔
نبی کریمؐ کا ارشاد ہے۔
فرمایا: مجھ پر کسی کا احسان نہیں مگر ابوبکرؓ کا۔
ابوبکرؓ زندگی میں بھی رفیق رسولؐ رہے اور وفات کے بعد بھی روضہ رسولؐ میں گنبد خضرا کے سائے تلے رسولؐ اللہ کے ساتھ ہیں۔
222 جمادالثانی یومِ وفاتِ ابوبکرؓ ہے۔

loading...