اہم خبریں

’’اگر ٹرمپ کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے ساتھ اللہ کی مدد ونصرت ہے‘‘ ترک صدررجب طیب اردوان کا امریکی صدر کو منہ توڑ جواب

  ہفتہ‬‮ 11 اگست‬‮ 2018  |  13:23
انقرہ (سی پی پی)ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکہ کی جانب سے ترکی کی سٹیل اور ایلومینیم پر محصول دگنا کرنے اور ترک کرنسی لیرا کی قدر میں 20فیصد کمی پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اگر امریکہ کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہے ۔گزشتہ روز ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا لیرا ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کمزور تھا اور یہ کہ اس وقت امریکہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ لیرا کی قدر میں کمی پر ترکی کے صدر اردووان نے کہا

(خبر جا ری ہے)

کمی اس مہم کا حصہ ہے جس کی قیادت غیر ملکی طاقتیں کر رہی ہیں۔ترکی نے متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے خلاف قدم اٹھائے گا۔صدر رجب طیب اردوان نے عوام سے خطاب میں کہا کہ وہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کو لیرا میں تبدیل کرائیں کیونکہ ترکی اس وقت معاشی جنگ سے دو چار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اندرونی اور قومی جدوجہد ہے۔اردوان نے اپنے خطاب میں امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کچھ ممالک کا رویہ ایسا ہے جو بغاوت کرنے والوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ قانون اور انصاف کو نہیں جانتے۔ جن ممالک کا رویہ ایسا ہے جس کے باعث ان کے ساتھ تعلقات کو بچانا مشکل ہو گیا ہے۔صدر اردوان نے کہا 'اگر ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس ہمارے عوام ہیں۔ ہمارے پاس اپنا حق ہے اور ہمارے پاس اللہ ہے۔دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کی پابندیاں اور دبا کے نتیجے میں اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نقصان ہو گا۔ترکی کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بڑھائے جانے والا ٹیرف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کے خلاف ہے۔ترکی توقع کرتا ہے کہ دیگر ممبر ممالک بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں گے۔ترکی کے صدر کا یہ بیان ان کے عوام میں تو مقبول ہے لیکن بین الاقوامی بازار میں ان کی کم قیمت ہے۔

انقرہ (سی پی پی)ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکہ کی جانب سے ترکی کی سٹیل اور ایلومینیم پر محصول دگنا کرنے اور ترک کرنسی لیرا کی قدر میں 20فیصد کمی پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اگر امریکہ کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہے ۔گزشتہ روز ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا لیرا ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کمزور تھا

اور یہ کہ اس وقت امریکہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ لیرا کی قدر میں کمی پر ترکی کے صدر اردووان نے کہا کہ یہ کمی اس مہم کا حصہ ہے جس کی قیادت غیر ملکی طاقتیں کر رہی ہیں۔ترکی نے متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے خلاف قدم اٹھائے گا۔صدر رجب طیب اردوان نے عوام سے خطاب میں کہا کہ وہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کو لیرا میں تبدیل کرائیں کیونکہ ترکی اس وقت معاشی جنگ سے دو چار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اندرونی اور قومی جدوجہد ہے۔اردوان نے اپنے خطاب میں امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کچھ ممالک کا رویہ ایسا ہے جو بغاوت کرنے والوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ قانون اور انصاف کو نہیں جانتے۔ جن ممالک کا رویہ ایسا ہے جس کے باعث ان کے ساتھ تعلقات کو بچانا مشکل ہو گیا ہے۔صدر اردوان نے کہا ‘اگر ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس ہمارے عوام ہیں۔ ہمارے پاس اپنا حق ہے اور ہمارے پاس اللہ ہے۔دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کی پابندیاں اور دبا کے نتیجے میں اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نقصان ہو گا۔ترکی کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بڑھائے جانے والا ٹیرف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کے خلاف ہے۔ترکی توقع کرتا ہے کہ دیگر ممبر ممالک بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں گے۔ترکی کے صدر کا یہ بیان ان کے عوام میں تو مقبول ہے لیکن بین الاقوامی بازار میں ان کی کم قیمت ہے۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں