اہم خبریں

سعودی عرب نے امریکی دباؤ پر افغانستان سے متعلق پالیسی تبدیل کرلی،دھماکہ خیز اعلان، پاکستانی علماء اور افغان طالبان کا شدید ردعمل

  اتوار‬‮ 8 جولائی‬‮ 2018  |  18:48
اسلام آباد (این این آئی)سعودی عرب میں دس اور گیارہ جولائی کو اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے اشتراک سے افغانستان سے متعلق بین الاقوامی علماء کانفرنس کیلئے بھیجے گئے دعوت نامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا موقف افغان طالبان کے بارے میں سخت ہورہاہے ۔پاکستانی ٗ افغان سمیت تقریباً تیس سے زائد دیگر ممالک کے علماء کو بھیجے گئے دعوت نامے میں طالبان اور دیگر گروہوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لڑائی بند اور وہ افغان حکومت کو تسلیم کرے ۔ ’’این این آئی ‘‘نے علماء کو بھیجے گئے دعوت نامہ کو دیکھا

(خبر جا ری ہے)

میں افغانستان میں لڑائی کر نے والے تمام گروپس کو دہشتگرد لکھا گیا ہے ۔دعوت نامے میں کہاگیاکہ سعودی عرب میں دو روزہ علماء کانفرنس کا مقصد افغانستان میں موجود دہشتگرد گروپوں کے ان کے غلط موقف کو مسترد کر نا ہے جو معصوم لوگوں کو قتل اور اسلام کے نام پر سر کاری عمارتوں کو تباہ کر تے ہیں۔دعوت نامے میں کہاگیاکہ سعودی عرب اور او آئی سی تمام مسلح گروپس سے مطالبہ کرتا ہے کہ دہشتگردی ختم ٗ افغان حکومت کو تسلیم ٗ مذاکرات اور سیاسی عمل میں شامل ہو جائیں ۔دعو ت نامہ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف اے ال اوحتمین کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جو کہ سعودی عرب کا وزیر رہ چکے ہیں ۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سعود ی عرب اور او آئی سی کے پلیٹ فارم سے افغانستان سے متعلق ایک عالمی کانفرنس کی میزبانی کررہا ہے اس سے پہلے سعودی حکومت نے دو ہزار سولہ میں کانفرنس منعقد کر نے کی کوشش کی تھی تاہم اس وقت طالبان کی جانب سے سخت بیان اور اس وقت کے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے استعفے کی وجہ سے کانفرنس منعقد نہیں ہو سکی اس سے پہلے انڈو نیشیا اور کابل میں علماء کی کانفرنسیں منعقد ہوئی ہیں جس میں خود کش حملوں کیخلاف اور افغان صدر کی طالبان کو مذاکرات کی دعو ت کی حمایت کی گئی تھی ۔’’ این این آئی ‘‘کو معلوم ہوا ہے کہ انڈ ونیشیاکی کانفرنس میں پاکستان سے ایک پندرہ رکنی وفد نے بھی شرکت کی تھی ٗسعودی عرب کی کانفرنس کیلئے بھی پاکستانی علماء کو دعوت دی گئی ہے لیکن رابطہ کر نے پر کئی علماء نے کہاکہ وہ کانفرنس میں شرکت نہیں کرینگے ۔چیئر مین علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ وہ بیماری کی وجہ سے کانفرنس میں شرکت نہیں کرینگے کیونکہ ان کا حالیہ دنوں میں آپریشن ہوا ہے ۔مشہور عالم دین پیر عزیز الرحمن ہزاروی جنہوں نے انڈو نیشیا کی کانفرنس میں شرکت کی تھی نے کہاکہ وہ سعودی عرب کی کانفرنس میں شرکت نہیں کرینگے ۔ مردان کے مدرسہ تفہیم القرآن کے مہتمم ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمن جو جماعت اسلامی کے مقامی رہنما بھی ہیں اور انڈونیشیا میں کانفرنس میں شرکت کر چکے ہیں نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں کانفرنس کیلئے مدعو نہیں کیا گیا ۔ یاد رہے کہ افغان طالبان نے ایک بیان میں پاکستانی افغان اور دیگر ممالک کے علماء سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ سعودی عرب کی کانفرنس میں شرکت نہ کریں کیونکہ ان کے بقول یہ کانفرنس امریکی دباؤ پر منعقد کی جارہی ہے ۔طالبان کے بیان میں دعویٰ کیا گیاکہ امریکی فوجیوں کو افغانستان میں شکست کا سامنا ہے اور امریکی جنرل نکولسن نے کچھ عرصہ پہلے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ طالبان پر علماء کانفرنسوں کے علاوہ دیگر ذرائع سے دباؤ بڑھایا جائیگا ۔سعودی عرب کا موقف جاننے کیلئے ’’این این آئی ‘‘نے سعودی سفارتخانے کے میڈیا سیکشن اور سفیر کے سیکرٹری کو ان کا موقف جاننے کیلئے سوالات بھیجے تھے تاہم ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ۔

اسلام آباد (این این آئی)سعودی عرب میں دس اور گیارہ جولائی کو اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے اشتراک سے افغانستان سے متعلق بین الاقوامی علماء کانفرنس کیلئے بھیجے گئے دعوت نامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا موقف افغان طالبان کے بارے میں سخت ہورہاہے ۔پاکستانی ٗ افغان سمیت تقریباً تیس سے زائد دیگر ممالک کے علماء کو بھیجے گئے دعوت نامے میں طالبان اور دیگر گروہوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لڑائی بند اور وہ افغان حکومت کو تسلیم کرے ۔

’’این این آئی ‘‘نے علماء کو بھیجے گئے دعوت نامہ کو دیکھا ہے جس میں افغانستان میں لڑائی کر نے والے تمام گروپس کو دہشتگرد لکھا گیا ہے ۔دعوت نامے میں کہاگیاکہ سعودی عرب میں دو روزہ علماء کانفرنس کا مقصد افغانستان میں موجود دہشتگرد گروپوں کے ان کے غلط موقف کو مسترد کر نا ہے جو معصوم لوگوں کو قتل اور اسلام کے نام پر سر کاری عمارتوں کو تباہ کر تے ہیں۔دعوت نامے میں کہاگیاکہ سعودی عرب اور او آئی سی تمام مسلح گروپس سے مطالبہ کرتا ہے کہ دہشتگردی ختم ٗ افغان حکومت کو تسلیم ٗ مذاکرات اور سیاسی عمل میں شامل ہو جائیں ۔دعو ت نامہ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف اے ال اوحتمین کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جو کہ سعودی عرب کا وزیر رہ چکے ہیں ۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سعود ی عرب اور او آئی سی کے پلیٹ فارم سے افغانستان سے متعلق ایک عالمی کانفرنس کی میزبانی کررہا ہے اس سے پہلے سعودی حکومت نے دو ہزار سولہ میں کانفرنس منعقد کر نے کی کوشش کی تھی تاہم اس وقت طالبان کی جانب سے سخت بیان اور اس وقت کے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے استعفے کی وجہ سے کانفرنس منعقد نہیں ہو سکی اس سے پہلے انڈو نیشیا اور کابل میں علماء کی کانفرنسیں منعقد ہوئی ہیں

جس میں خود کش حملوں کیخلاف اور افغان صدر کی طالبان کو مذاکرات کی دعو ت کی حمایت کی گئی تھی ۔’’ این این آئی ‘‘کو معلوم ہوا ہے کہ انڈ ونیشیاکی کانفرنس میں پاکستان سے ایک پندرہ رکنی وفد نے بھی شرکت کی تھی ٗسعودی عرب کی کانفرنس کیلئے بھی پاکستانی علماء کو دعوت دی گئی ہے لیکن رابطہ کر نے پر کئی علماء نے کہاکہ وہ کانفرنس میں شرکت نہیں کرینگے ۔چیئر مین علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ وہ بیماری کی وجہ سے

کانفرنس میں شرکت نہیں کرینگے کیونکہ ان کا حالیہ دنوں میں آپریشن ہوا ہے ۔مشہور عالم دین پیر عزیز الرحمن ہزاروی جنہوں نے انڈو نیشیا کی کانفرنس میں شرکت کی تھی نے کہاکہ وہ سعودی عرب کی کانفرنس میں شرکت نہیں کرینگے ۔ مردان کے مدرسہ تفہیم القرآن کے مہتمم ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمن جو جماعت اسلامی کے مقامی رہنما بھی ہیں اور انڈونیشیا میں کانفرنس میں شرکت کر چکے ہیں نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں کانفرنس کیلئے مدعو نہیں کیا گیا ۔

یاد رہے کہ افغان طالبان نے ایک بیان میں پاکستانی افغان اور دیگر ممالک کے علماء سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ سعودی عرب کی کانفرنس میں شرکت نہ کریں کیونکہ ان کے بقول یہ کانفرنس امریکی دباؤ پر منعقد کی جارہی ہے ۔طالبان کے بیان میں دعویٰ کیا گیاکہ امریکی فوجیوں کو افغانستان میں شکست کا سامنا ہے اور امریکی جنرل نکولسن نے کچھ عرصہ پہلے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ طالبان پر علماء کانفرنسوں کے علاوہ دیگر ذرائع سے دباؤ بڑھایا جائیگا ۔سعودی عرب کا موقف جاننے کیلئے ’’این این آئی ‘‘نے سعودی سفارتخانے کے میڈیا سیکشن اور سفیر کے سیکرٹری کو ان کا موقف جاننے کیلئے سوالات بھیجے تھے تاہم ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں