اہم خبریں

4سال پہلے لاپتہ ملائیشین طیارہ ایم ایچ 370گوگل کی مدد سے مل گیا،ملبے کوکیوں چھپایا گیا؟بڑے راز سے پردہ اٹھ گیا

  پیر‬‮ 19 مارچ‬‮ 2018  |  15:58
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گوگل ارتھ کی مدد سے لاپتہ ہونے والا ملائشین طیارہ ایم ایچ 370 ڈھونڈ لیا۔آسٹریلوی انجینئیر کا دعویٰ ،عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے مکینیکل انجینئیر پیٹر میک مہن نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 4 سال قبل لاپتہ ہونے والے ملائشین طیارے کا سراغ لگا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاز کا ملبہ موریشئس سے 22.5 کلو میٹر کی دوری پر ایک ایسے جزیرے پرموجود ہے جس کی پہلے کبھی تلاش نہیں کی گئی تھی ۔انجینئیر کا کہنا تھا کہ حکام نے اس طیارے کو ڈھونڈنے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ اس

(خبر جا ری ہے)

ملبے پر گولیوں کے نشانات ہیں،آسٹریلوی انجینئیر پیٹر اس سے قبل بھی کریش ہوئی کئی پروازوں کی تحقیقات کر چکا ہے۔ پیٹر کا دعویٰ ہے کہ طیارے کی تلاش کرنے اور اس سے متعلق تحقیقات کرنے کے لیے جن چار امریکی افسران کو بھیجا گیا تھا انہوں نے کئی معلومات پوشیدہ رکھیں، انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ حاصل کی گئی تمام تر معلومات کو عوام یہاں تک کہ ہماری حکومت سے بھی پوشیدہ رکھا جائے، لیکن ایسا کیوں کیا گیا؟انہوں نے اس گولیوں سے بھرے اس جہاز کے ملبے کے برآمد ہونے کی کوئی اطلاع نہیں دی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے برآمد ہوتے ہی ایک نئی انکوائری کا آغاز ہو جائےگا۔پیٹر نے کہا کہ میں نے یہ تمام معلومات آسٹریلیا کی ٹرانسپورٹ اینڈ سیفٹی بیورو کو بھجوا دی ہیں۔واضح رہے کہ چار سال قبل لا پتہ ہونے والی ملائیشین پرواز ایم ایچ 370 میں 239 مسافر سوار تھے ۔حادثے میں تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گوگل ارتھ کی مدد سے لاپتہ ہونے والا ملائشین طیارہ ایم ایچ 370 ڈھونڈ لیا۔آسٹریلوی انجینئیر کا دعویٰ ،عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے مکینیکل انجینئیر پیٹر میک مہن نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 4 سال قبل لاپتہ ہونے والے ملائشین طیارے کا سراغ لگا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاز کا ملبہ موریشئس سے 22.5 کلو میٹر کی دوری پر ایک ایسے جزیرے پرموجود ہے جس کی پہلے کبھی تلاش نہیں کی گئی تھی ۔انجینئیر کا کہنا تھا کہ حکام نے اس طیارے کو ڈھونڈنے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ اس طیارے کے ملبے پر گولیوں کے نشانات ہیں،آسٹریلوی انجینئیر پیٹر اس سے قبل بھی کریش ہوئی کئی پروازوں کی تحقیقات کر چکا ہے۔ پیٹر کا دعویٰ ہے کہ طیارے کی تلاش کرنے اور اس سے متعلق تحقیقات کرنے کے لیے جن چار امریکی افسران کو بھیجا گیا تھا انہوں نے کئی معلومات پوشیدہ رکھیں، انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ حاصل کی گئی تمام تر معلومات کو عوام یہاں تک کہ ہماری حکومت سے بھی پوشیدہ رکھا جائے، لیکن ایسا کیوں کیا گیا؟انہوں نے اس گولیوں سے بھرے اس جہاز کے ملبے کے برآمد ہونے کی کوئی اطلاع نہیں دی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے برآمد ہوتے ہی ایک نئی انکوائری کا آغاز ہو جائےگا۔پیٹر نے کہا کہ میں نے یہ تمام معلومات آسٹریلیا کی ٹرانسپورٹ اینڈ سیفٹی بیورو کو بھجوا دی ہیں۔واضح رہے کہ چار سال قبل لا پتہ ہونے والی ملائیشین پرواز ایم ایچ 370 میں 239 مسافر سوار تھے ۔حادثے میں تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

موضوعات:

loading...