اہم خبریں

افغان طالبان کو حکومت میں دلچسپی نہیں رہی ‘اقوام متحدہ

  منگل‬‮ 10 فروری‬‮ 2015  |  12:10
نیویارک - اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان طالبان کو حکومت میں دلچسپی نہیں رہی 145انھوں نے منشیات فروشی 145 بھتے اور اغوا برائے تاوان پر انحصار بڑھادیا ہے 145ماہانہ لاکھوں ڈالر کمارہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام سے امید تھی کہ طالبان اس حکومت کا حصہ بن جائیں گے تاہم اب لگتا ہے افغان طالبان کو حکومت میں دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی سرپرستی کرکے لاکھوں ڈالر ماہانہ کمارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغان صوبے بدخشان

(خبر جا ری ہے)

بدخشان میں موجود کانیں طالبان کے کنٹرول میں ہیں اور طالبان کو ان سے سالانہ10لاکھ ڈالر ملتے ہیں تاجک آبادی والے علاقوں سے آنے اور جانے والے ٹرکوں سے سالانہ ساڑھے 3 لاکھ ڈالر سے زائد بھتاوصول کیا جارہا ہے 145 مشرقی کابل میں قیمتی پتھر کی کانوں سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد کماتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2005 کے بعد سے طالبان کے ہاتھوں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوا اور طالبان نے اغوا برائے تاوان کے ذریعے بھی ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد رقم بٹوری ہے۔

نیویارک – اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان طالبان کو حکومت میں دلچسپی نہیں رہی 145انھوں نے منشیات فروشی 145 بھتے اور اغوا برائے تاوان پر انحصار بڑھادیا ہے 145ماہانہ لاکھوں ڈالر کمارہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام سے امید تھی کہ طالبان اس حکومت کا حصہ بن جائیں گے تاہم اب لگتا ہے افغان طالبان کو حکومت میں دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی سرپرستی کرکے لاکھوں ڈالر ماہانہ کمارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغان صوبے بدخشان میں موجود کانیں طالبان کے کنٹرول میں ہیں اور طالبان کو ان سے سالانہ10لاکھ ڈالر ملتے ہیں تاجک آبادی والے علاقوں سے آنے اور جانے والے ٹرکوں سے سالانہ ساڑھے 3 لاکھ ڈالر سے زائد بھتاوصول کیا جارہا ہے 145 مشرقی کابل میں قیمتی پتھر کی کانوں سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد کماتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2005 کے بعد سے طالبان کے ہاتھوں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوا اور طالبان نے اغوا برائے تاوان کے ذریعے بھی ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد رقم بٹوری ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں