اہم خبریں

پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کی صلاحیت کو محدود رکھنے کاعالمی منصوبہ

  جمعہ‬‮ 16 جنوری‬‮ 2015  |  13:14
واشنگٹن (نیوز ڈیسک ) ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے محدود جوہری ہتھیاروں پر با معنی بات چیت کی ہے اور پاکستان اس حوالے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے. تاہم پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائل کی صلاحیت کو محدود رکھے۔پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر رچرڈ اولسن نے ہاو¿س کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ ’پاکستان سے سول جوہری تعاون پر کسی واضح معاہدے پر مذاکرات نہیں کررہی‘۔انھوں نے کہا کہ ’ہم

(خبر جا ری ہے)

پاکستان سے مختلف خدشات کے حوالے سے بامعنی بات چیت کی ہے، جس میں محدود صلاحیت والا جوہری نظام بھی شامل ہے اور پاکستان اس حوالے سے ہم سے مذاکرات میں مصروف ہے‘۔اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے موجود خطرات، جو اسے انتہا پسندوں اور باغیوں سے ہیں، سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کے دفاع کے لیے اس کے پاس پروفیشنل اور سرگرم سیکیورٹی فورسز موجود ہیں.انھوں نے مزید کہا کہ ’دیگر جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کی طرح، ہم نے پاکستان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائل کی صلاحیت کو محدود رکھے‘۔اولسن نے کہا ’ہم نے ایسے کسی بھی اقدام سے بچنے کی اہمیت پر زور دیا ہے جس سے جوہری حفاظت، سیکیورٹی اور اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ بڑھنے کا اندیشہ ہو‘۔دوسری جانب پاکستانی حکام کی جانب سے خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے نام نہاد کولڈ۔وار (سرد جنگ) نظریئے کے آغاز نے پاکستان کو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بنانے پر مجبور کیا ہے۔اولسن نے کہا کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں اپنی رٹ بحال کردی ہے۔ ’میرانشاہ کو حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی طالبان سے مکمل طور پر خالی کروایا جاچکا ہے‘.تاہم امریکی قانون سازوں نے دعویٰ کیا کہ 11 ستمبر 2011 سے اب تک واشنگٹن ایسے ملک کی معیشت اور فوج کو 30 ارب ڈالر دے چکا ہے، جس پر وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اب بھی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مدد فراہم کررہا ہے۔کانگریس سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے چیئرمین ایڈ روئس نے الزام لگایا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے دنیا کے تیسرے سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کی جانب گامزن ہے۔انھوں نے کہا کہ ’ حالیہ سالوں میں پاکستان کے جوہری نظام میں شامل کیے جانے والے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار مزید پریشان کن ہیں.'روئس نے کہا کہ حقابی نیٹ ورک کی مدد کے باعث کانگریس کی جانب سے پاکستان کی فوجی امداد روکی جارہی ہے. ایسے وقت میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اسلام آباد کو ہتھیار فراہم کرنا چاہتا ہے، جو شاید ہی دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہو۔تاہم اولسن نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ پاکستان سے ہائی ٹیک سیکورٹی تعاون کی نگرانی کے لیے امریکا کے پاس ’ایک اہم نظام' موجود ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بہتر تعلقات پر بھی زور دیا۔

واشنگٹن (نیوز ڈیسک ) ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے محدود جوہری ہتھیاروں پر با معنی بات چیت کی ہے اور پاکستان اس حوالے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے. تاہم پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائل کی صلاحیت کو محدود رکھے۔پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر رچرڈ اولسن نے ہاو¿س کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ ’پاکستان سے سول جوہری تعاون پر کسی واضح معاہدے پر مذاکرات نہیں کررہی‘۔انھوں نے کہا کہ ’ہم نے پاکستان سے مختلف خدشات کے حوالے سے بامعنی بات چیت کی ہے، جس میں محدود صلاحیت والا جوہری نظام بھی شامل ہے اور پاکستان اس حوالے سے ہم سے مذاکرات میں مصروف ہے‘۔اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے موجود خطرات، جو اسے انتہا پسندوں اور باغیوں سے ہیں، سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کے دفاع کے لیے اس کے پاس پروفیشنل اور سرگرم سیکیورٹی فورسز موجود ہیں.انھوں نے مزید کہا کہ ’دیگر جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کی طرح، ہم نے پاکستان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائل کی صلاحیت کو محدود رکھے‘۔اولسن نے کہا ’ہم نے ایسے کسی بھی اقدام سے بچنے کی اہمیت پر زور دیا ہے جس سے جوہری حفاظت، سیکیورٹی اور اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ بڑھنے کا اندیشہ ہو‘۔دوسری جانب پاکستانی حکام کی جانب سے خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے نام نہاد کولڈ۔وار (سرد جنگ) نظریئے کے آغاز نے پاکستان کو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بنانے پر مجبور کیا ہے۔اولسن نے کہا کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں اپنی رٹ بحال کردی ہے۔ ’میرانشاہ کو حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی طالبان سے مکمل طور پر خالی کروایا جاچکا ہے‘.تاہم امریکی قانون سازوں نے دعویٰ کیا کہ 11 ستمبر 2011 سے اب تک واشنگٹن ایسے ملک کی معیشت اور فوج کو 30 ارب ڈالر دے چکا ہے، جس پر وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اب بھی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مدد فراہم کررہا ہے۔کانگریس سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے چیئرمین ایڈ روئس نے الزام لگایا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے دنیا کے تیسرے سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کی جانب گامزن ہے۔انھوں نے کہا کہ ’ حالیہ سالوں میں پاکستان کے جوہری نظام میں شامل کیے جانے والے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار مزید پریشان کن ہیں.’روئس نے کہا کہ حقابی نیٹ ورک کی مدد کے باعث کانگریس کی جانب سے پاکستان کی فوجی امداد روکی جارہی ہے. ایسے وقت میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اسلام آباد کو ہتھیار فراہم کرنا چاہتا ہے، جو شاید ہی دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہو۔تاہم اولسن نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ پاکستان سے ہائی ٹیک سیکورٹی تعاون کی نگرانی کے لیے امریکا کے پاس ’ایک اہم نظام’ موجود ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بہتر تعلقات پر بھی زور دیا۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں