اہم خبریں

قبض کا بہترین علاج ریشے دار غذائیں اور زائد پانی

  جمعہ‬‮ 13 جولائی‬‮ 2018  |  23:13
قبض کو اُم الامراض یعنی ’’تمام بیماریوں کی ماں‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ متعدد امراض کی وجہ ہے اور ہر عمر کے افراد کو لاحق ہوسکتا ہے۔ کم سن بچے بھی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جس کا علاج بہت ضروری ہے۔ اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے، تھوڑی تھوڑی ہو یا دو تین روز کے بعد آئے تو اسے قبض کہا جاتا ہے۔ بڑوں کی طرح شیرخوار بچوں کو بھی قبض کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اگر بچہ ایک ہفتے میں کم از کم تین بار اجابت نہ کرے، اجابت کرتے ہوئے فضلہ بہ آسانی خارج

(خبر جا ری ہے)

خارج نہ ہوتا ہو، فضلہ خشک اور سخت ہو تو یہ قبض کی علامت ہے۔ شیرخوار یا گھٹنوں کے بل چلنے والے بچے کو قبض ہوجائے تو وہ تھکا تھکا دکھائی دیتا ہے، بہت زیادہ حرکت نہیں کرتا اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ شیرخوار اور چھوٹے بچوں کو قبض ہونے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں مگر بعض اوقات بظاہر اس کا کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب بچے کو ریشہ دار پھل، سبزیاں اور دلیے مطلوبہ مقدار میں نہ دیئے جارہے ہوں۔ پانی مطلوبہ سے کم مقدار میں پلایا جارہا ہوں یا انہیں دودھ زیادہ مقدار میں دیا جارہا ہو اور وہ گھر پر یا اسکول میں ٹوائلٹ استعمال کرنے سے خوف کا شکار ہوں۔ بہت کم صورتوں میں شیرخوار اور چھوٹے بچوں میں قبض کی وجہ کوئی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ علاج بچوں کی غذا میں تبدیلیاں اور انہیں اجابت کرنے کی صحیح طور سے تربیت دے کر قبض سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ قبض کا علاج شروع کرنے کے اثرات چند روز کے بعد اور بعض اوقات چند ہفتوں کے بعد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ قبض میں مبتلا بچے کو پانی زیادہ مقدار میں پلائیے۔ اگر اس نے ابھی ٹھوس غذا کھانی شروع نہیں کی ہے تو دودھ پلانے کے درمیانی وقفوں میں اسے پانی پلائیے۔ اگر آپ ڈبے کا دودھ دے رہے ہیں تو اس میں اضافی مقدار میں پانی ملانے کی ضرورت نہیں۔ آنتوں کو متحرک کرنے کےلیے بچوں کی ٹانگوں کو سائیکل چلانے کے انداز میں حرکت دیجیے اور دھیرے دھیرے ان کے پیٹ کو سہلائیے۔ بڑے بچوں کو پانی اور مشروبات زیادہ مقدار میں دیجیے اور انہیں پھلوں کی طرف راغب کیجیے۔ سیب، انگور، ناشپاتی، آڑو، اسٹرابیری اور انجیر قبض میں مفید ہیں۔ ان کوششوں کے باوجود اگر قبض میں افاقہ نہ ہورہا ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

قبض کو اُم الامراض یعنی ’’تمام بیماریوں کی ماں‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ متعدد امراض کی وجہ ہے اور ہر عمر کے افراد کو لاحق ہوسکتا ہے۔ کم سن بچے بھی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جس کا علاج بہت ضروری ہے۔ اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے، تھوڑی تھوڑی ہو یا دو تین روز کے بعد آئے تو اسے قبض کہا جاتا ہے۔ بڑوں کی طرح شیرخوار بچوں کو بھی قبض کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اگر بچہ ایک ہفتے میں کم از کم تین بار اجابت نہ کرے، اجابت کرتے ہوئے

فضلہ بہ آسانی خارج نہ ہوتا خارج نہ ہوتا ہو، فضلہ خشک اور سخت ہو تو یہ قبض کی علامت ہے۔ شیرخوار یا گھٹنوں کے بل چلنے والے بچے کو قبض ہوجائے تو وہ تھکا تھکا دکھائی دیتا ہے، بہت زیادہ حرکت نہیں کرتا اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ شیرخوار اور چھوٹے بچوں کو قبض ہونے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں مگر بعض اوقات بظاہر اس کا کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب بچے کو ریشہ دار پھل، سبزیاں اور دلیے مطلوبہ مقدار میں نہ دیئے جارہے ہوں۔ پانی مطلوبہ سے کم مقدار میں پلایا جارہا ہوں یا انہیں دودھ زیادہ مقدار میں دیا جارہا ہو اور وہ گھر پر یا اسکول میں ٹوائلٹ استعمال کرنے سے خوف کا شکار ہوں۔ بہت کم صورتوں میں شیرخوار اور چھوٹے بچوں میں قبض کی وجہ کوئی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ علاج بچوں کی غذا میں تبدیلیاں اور انہیں اجابت کرنے کی صحیح طور سے تربیت دے کر قبض سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ قبض کا علاج شروع کرنے کے اثرات چند روز کے بعد اور بعض اوقات چند ہفتوں کے بعد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ قبض میں مبتلا بچے کو پانی زیادہ مقدار میں پلائیے۔ اگر اس نے ابھی ٹھوس غذا کھانی شروع نہیں کی ہے تو دودھ پلانے کے درمیانی وقفوں میں اسے پانی پلائیے۔ اگر آپ ڈبے کا دودھ دے رہے ہیں

تو اس میں اضافی مقدار میں پانی ملانے کی ضرورت نہیں۔ آنتوں کو متحرک کرنے کےلیے بچوں کی ٹانگوں کو سائیکل چلانے کے انداز میں حرکت دیجیے اور دھیرے دھیرے ان کے پیٹ کو سہلائیے۔ بڑے بچوں کو پانی اور مشروبات زیادہ مقدار میں دیجیے اور انہیں پھلوں کی طرف راغب کیجیے۔ سیب، انگور، ناشپاتی، آڑو، اسٹرابیری اور انجیر قبض میں مفید ہیں۔ ان کوششوں کے باوجود اگر قبض میں افاقہ نہ ہورہا ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں