اہم خبریں

یادداشت کمزور کرنے والی چند عجیب چیزیں

  منگل‬‮ 12 جون‬‮ 2018  |  19:55
دماغ اﷲ تعالیٰ کی ایک بہترین تخلیق ہے اور انسان کے لئے انمول تحفہ خداوندی ہے۔ انسان اپنے دماغ کو استعمال کرکے نت نئے اور حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ باقی اعضاء کی طرح اس کا بھی خیال رکھا جائے کیونکہ انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے اس کی یاداشت بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ہم یہاں چند ایسی عجیب و غریب چیزوں یا عوامل کا ذکر کرنے جارہے ہیں جو جو آپ کو یادداشت سے محروم کرسکتی ہیں یا پھر آپ کو ایسی دماغی بیماریوں کا شکار بناتی ہیں

(خبر جا ری ہے)

ہیں جو آپ کی یادداشت کو شدید متاثر کرتی ہیں اور آپ باتیں بھولنے لگ جاتے ہیں- فضائی آلودگی ماہرین کے مطابق بہت زیادہ فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد میں صاف آب وہ ہوا کے علاقے میں رہائش پذیر افراد کے مقابلے میں یادداشت کی کمزوری کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ 92 فیصد زیادہ ہوتا ہے- ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں موجود چند باریک اور خطرناک ذرات سانس کے ذریعے آپ کے پھیھپڑوں میں پہنچ جاتے ہیں اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو یادداشت کو کمزور بنانے لگتے ہیں- خراب نیند کیا جانتے ہیں کہ ایک رات اچھی نیند سے محروم ہونا آپ کے دماغ کو دھندلا دیتا ہے جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت زیادہ خراب نیند دماغ میں ایسے پروٹین کو جنم دینے لگتی ہے جو الزائمر کی بیماری سے تعلق رکھتے ہیں- اس میں آپ کی یادداشت کمزور پڑنے لگتی ہے- اچھی نیند ان تمام خطرات کو نہ صرف کم کرتی ہے بلکہ آپ کے دماغ کو صحت مند بھی بناتی ہے- آپ کا کھانا ڈاکٹر Isaacson اپنے مریضوں کو ڈیمینشیا ( یادداشت بھولنے کا مرض) کے خطرات کو کم کرنے کے لیے رات کا کھانا جلدی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں- ڈاکٹر Isaacson کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھائیں اور صبح ناشتے تک کچھ بھی درمیان میں نہ کھائیں- ان دونوں کھانوں کے درمیان کم سے کم 12 گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیے- اس کے علاوہ کم کیلوریز والی غذائیں کھائیں اس سے آپ کا دماغ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید صحت مند ہوتا جاتا ہے-سر کی چوٹ یا موروثی بیماری ماہرین کے مطابق آپ کی فیملی میں کسی فرد کو الزائمر کی بیماری لاحق ہے تو پھر آپ کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے- اس کے علاوہ نوجوانی سے درمیانی عمر تک پہنچنے کے دوران کم سے کم ایک مرتبہ بھی سر پر لگنے والی چوٹ بھی آپ کے دماغ میں تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے- اور یہ دونوں وجوہات یادداشت کو متاثر کرنے والی بیماری کے لاحق ہونے کی وجہ بن سکتی ہیں- تنہائی تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ایسے بزرگ افراد جو خود کو معاشرتی طور پر تنہا محسوس کرتے ہیں انہیں الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کی خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں یعنی یہ افراد بھی باتیں بھولنے لگ جاتے ہیں- تحقیق کے دوران خود کو تنہا محسوس کرنے والے بزرگ افراد کے دماغ میں amyloid protein clusters (یادداشت کو متاثر کرنے والے پروٹین) عام لوگوں کے مقابلے میں 7.5 گنا زائد پائے گئے- ہائی بلڈ پریشر ہائی بلڈ پریشر نہ صرف آپ کے جسم کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ یہ آپ کے دماغ کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوتا ہے- ہائی بلڈ پریشر کا مرض عمر گزرنے کے ساتھ آپ کی یادداشت کو شدید متاثر کرتا ہے اور آپ کی یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے اور آپ باتیں بھولنا شروع ہوجاتے ہیں- اس لیے ضروری ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اپنے بلڈ پریشر پر نظر رکھیں-

دماغ اﷲ تعالیٰ کی ایک بہترین تخلیق ہے اور انسان کے لئے انمول تحفہ خداوندی ہے۔ انسان اپنے دماغ کو استعمال کرکے نت نئے اور حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ باقی اعضاء کی طرح اس کا بھی خیال رکھا جائے کیونکہ انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے اس کی یاداشت بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ہم یہاں چند ایسی عجیب و غریب چیزوں یا عوامل کا ذکر کرنے جارہے ہیں جو جو آپ کو یادداشت سے محروم کرسکتی ہیں یا

پھر آپ کو ایسی دماغی بیماریوں کا شکار بناتی ہیں شکار بناتی ہیں جو آپ کی یادداشت کو شدید متاثر کرتی ہیں اور آپ باتیں بھولنے لگ جاتے ہیں- فضائی آلودگی ماہرین کے مطابق بہت زیادہ فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد میں صاف آب وہ ہوا کے علاقے میں رہائش پذیر افراد کے مقابلے میں یادداشت کی کمزوری کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ 92 فیصد زیادہ ہوتا ہے- ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں موجود چند باریک اور خطرناک ذرات سانس کے ذریعے آپ کے پھیھپڑوں میں پہنچ جاتے ہیں اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو یادداشت کو کمزور بنانے لگتے ہیں- خراب نیند کیا جانتے ہیں کہ ایک رات اچھی نیند سے محروم ہونا آپ کے دماغ کو دھندلا دیتا ہے جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت زیادہ خراب نیند دماغ میں ایسے پروٹین کو جنم دینے لگتی ہے جو الزائمر کی بیماری سے تعلق رکھتے ہیں- اس میں آپ کی یادداشت کمزور پڑنے لگتی ہے- اچھی نیند ان تمام خطرات کو نہ صرف کم کرتی ہے بلکہ آپ کے دماغ کو صحت مند بھی بناتی ہے- آپ کا کھانا ڈاکٹر Isaacson اپنے مریضوں کو ڈیمینشیا ( یادداشت بھولنے کا مرض) کے خطرات کو کم کرنے کے لیے رات کا کھانا جلدی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں- ڈاکٹر Isaacson کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھائیں اور صبح ناشتے تک کچھ بھی درمیان میں نہ کھائیں-

ان دونوں کھانوں کے درمیان کم سے کم 12 گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیے- اس کے علاوہ کم کیلوریز والی غذائیں کھائیں اس سے آپ کا دماغ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید صحت مند ہوتا جاتا ہے-سر کی چوٹ یا موروثی بیماری ماہرین کے مطابق آپ کی فیملی میں کسی فرد کو الزائمر کی بیماری لاحق ہے تو پھر آپ کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے- اس کے علاوہ نوجوانی سے درمیانی عمر تک پہنچنے کے دوران کم سے کم ایک مرتبہ بھی سر پر لگنے والی چوٹ بھی آپ کے دماغ میں تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے-

اور یہ دونوں وجوہات یادداشت کو متاثر کرنے والی بیماری کے لاحق ہونے کی وجہ بن سکتی ہیں- تنہائی تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ایسے بزرگ افراد جو خود کو معاشرتی طور پر تنہا محسوس کرتے ہیں انہیں الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کی خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں یعنی یہ افراد بھی باتیں بھولنے لگ جاتے ہیں- تحقیق کے دوران خود کو تنہا محسوس کرنے والے بزرگ افراد کے دماغ میں amyloid protein clusters (یادداشت کو متاثر کرنے والے پروٹین) عام لوگوں کے مقابلے میں 7.5 گنا زائد پائے گئے-

ہائی بلڈ پریشر ہائی بلڈ پریشر نہ صرف آپ کے جسم کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ یہ آپ کے دماغ کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوتا ہے- ہائی بلڈ پریشر کا مرض عمر گزرنے کے ساتھ آپ کی یادداشت کو شدید متاثر کرتا ہے اور آپ کی یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے اور آپ باتیں بھولنا شروع ہوجاتے ہیں- اس لیے ضروری ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اپنے بلڈ پریشر پر نظر رکھیں-

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں