اہم خبریں

دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیں

  پیر‬‮ 7 مئی‬‮‬‮ 2018  |  18:09
سبزیاں، مچھلی، گریاں اور زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سبزیاں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال ایسے نقصان دہ اجزاء کو دماغ جمع ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم کردیتا ہے جو جان لیوا الزائمر امراض کا باعث بنتے ہیں۔ اس غذا کا 3 سال تک استعمال دماغی سرگرمیوں کو محفوظ بناتا ہے۔ تحقیق کے مطابق طرز زندگی دماغی صحت پر اہم

(خبر جا ری ہے)

ہے، خصوصاً اوپر درج کی گئی غذا کی ورم کش خصوصیات دماغی شریانوں کو نقصان نہیں پہنچنے دیتی۔محققین کا کہنا تھا کہ اس غذا کے استعمال 11 سو افراد کو 12 سال سے زائد عرصے تک کرایا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس سے الزائمر کے خطرے کو ساڑھے 3 سال تک ٹالا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ سبزیوں، مچھلی، گریوں اور زیتون کے تیل کی غذا پر ٹکے رہتے ہیں، ان کا دماغ لمبے عرصے تک صحت مند رہتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیورولوجی میں شائع ہوئے۔اس سے قبل کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹٰ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پھلوں، سبزیوں اور مچھلی پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال نہ صرف جسم کے لیے اچھا ہے بلکہ یہ دماغ کو بھی تیز بناتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبز سبزیوں، نٹس، مچھلی، پھل اور زیتون کے تیل کا زیادہ جبکہ سرخ گوشت کو متعدل استعمال دماغ کو تنزلی کا شکار نہیں ہونے دیتا یا یوں کہہ لیں کہ بھولنے کا مرض لاحق نہیں ہوتا۔اس تحقیق میں محققین نے 5 سال تک 40 ممالک میں 27 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا جن کی عمریں 55 سال یا اس سے زائد تھی جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ درمیانی عمر میں ہم جو خوراک استعمال کرتے ہیں وہ دماغی افعال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ درمیانی عمر میں غذا اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق موجود ہے۔تحقیق کے مطابق سبزیوں، پھلوں اور مچھلی وغیرہ سے بھرپور غذا دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ کم کردیتا ہے جبکہ یاداشت بھی بڑھاپے میں جوانی کی طرح تازہ دم رہتی ہے۔

سبزیاں، مچھلی، گریاں اور زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سبزیاں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال ایسے نقصان دہ اجزاء کو دماغ جمع ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم کردیتا ہے جو جان لیوا الزائمر امراض کا باعث بنتے ہیں۔ اس غذا کا 3 سال تک استعمال دماغی سرگرمیوں کو محفوظ بناتا ہے۔

تحقیق کے مطابق طرز زندگی دماغی صحت پر اہم کردار کرتا ہے، خصوصاً اوپر درج کی گئی غذا کی ورم کش خصوصیات دماغی شریانوں کو نقصان نہیں پہنچنے دیتی۔محققین کا کہنا تھا کہ اس غذا کے استعمال 11 سو افراد کو 12 سال سے زائد عرصے تک کرایا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس سے الزائمر کے خطرے کو ساڑھے 3 سال تک ٹالا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ سبزیوں، مچھلی، گریوں اور زیتون کے تیل کی غذا پر ٹکے رہتے ہیں، ان کا دماغ لمبے عرصے تک صحت مند رہتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیورولوجی میں شائع ہوئے۔اس سے قبل کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹٰ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پھلوں، سبزیوں اور مچھلی پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال نہ صرف جسم کے لیے اچھا ہے بلکہ یہ دماغ کو بھی تیز بناتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبز سبزیوں، نٹس، مچھلی، پھل اور زیتون کے تیل کا زیادہ جبکہ سرخ گوشت کو متعدل استعمال دماغ کو تنزلی کا شکار نہیں ہونے دیتا یا یوں کہہ لیں کہ بھولنے کا مرض لاحق نہیں ہوتا۔اس تحقیق میں محققین نے 5 سال تک 40 ممالک میں 27 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا جن کی عمریں 55 سال یا اس سے زائد تھی جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ درمیانی عمر میں ہم جو خوراک استعمال کرتے ہیں وہ دماغی افعال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ درمیانی عمر میں غذا اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق موجود ہے۔تحقیق کے مطابق سبزیوں، پھلوں اور مچھلی وغیرہ سے بھرپور غذا دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ کم کردیتا ہے جبکہ یاداشت بھی بڑھاپے میں جوانی کی طرح تازہ دم رہتی ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں