عمران خان ، جنرل باجوہ اینڈ جنرل فیض فارمولا ، شریف فیملی ’آئوٹ ‘اور بلاول بھٹو زرداری’ ان ‘ سینئر تجزیہ کار صابر شاکرکا حیرت انگیز تجزیہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور فوج کے درمیان لڑائی کروائی جائے اس کیلئے چاہے کوئی بھی طریقہ استعمال کیا جائے ۔ اس کیلئے دو سے تین کوششیں ہو چکی ہیں جس میں ایک کوشش سنجیدہ اور کاری وار کیا گیا جو کہ ناکام ہو گیا ، اس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ

اس وقت افواج پاکستان سول ملٹری ریلیشن شپ آئیڈل ہیں اور آئیڈل رہیں گے ،تمام فیصلے مل کر کیے جارہے ہیں لہٰذا اگر کسی کی خواہش ہے کہ یہ تعلقات خراب ہوجائیں تو ایسا نہیں ہونیوالا ۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ مشترکہ فیصلہ یہ کیا وفاق اور سندھ حکومت میں ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جائے یعنی تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی آپس میں مل جاتے ہیں تو یہ دی بیسڈ ہو جائےگاایسا ہونے سے سیاسی استحکام بھی ہو گا جہاں تک مقدمات کا معاملہ ہے وہ عدالتوں میں چلتے رہیں گے ۔ ان کا کہنا تھا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ دو دن رہے ،ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض ان کا ایک اہم کردار ہے ۔ آصف علی زرداری اسلام آباد آئے تھے ان کی بھی کچھ ملاقاتیں ہوئی تھیں ۔ ان ملاقاتوں کے بعد رویوں میں کچھ نرمی آئی ، بلاول بھٹو اس سے پہلے ملاقاتیں کر چکے ہیں ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کر چکے ہیں ۔ آن بورڈ ساری اہم ترین ملاقاتیں ہو چکی ہیں ۔ آرمی چیف قمر باجوہ نے کراچی میں بھی اہم ترین ملاقاتیں کی ہیں ،انہوں واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں خواہ وہ کاروباری طبقہ ، میڈیا یا کوئی پولیٹکل ہے ، پاکستان پر سب کو ایک ہو جانا چاہیے ۔ سینئر تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین تعلقات استوار ہو جاتے ہیں تو کراچی کیلئے ایک بڑا معاشی پیکج آئے گا ، اسے مشترکہ طور پر کیسے خرچ کیا جائے گا اور نگرانی کون کرے گا تو یہ ایک بہت بڑا بریک تھرو ہو گا جو کہ ہو گیا ہے ۔ وزیراعظم کراچی گئے وہاں انہوں نے ایم کیوایم ، وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سے ملاقات کی اور گیارہ سو ارب روپے کراچی کیلئے مختص کیے ہیں ۔ اس سے کچھ پراجیکٹ ایک سال ، کچھ تین سال اور کچھ پراجیکٹ پانچ سال میں مکمل ہونگے ۔ان کاکہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وہاں پر ایک بات کھل کر کہی ، بند کمرے کے اجلاسوں میں بات تھی ، اس میں انہوں نے کہا کہ تین سال تک تو میں ہوں ، اور تین سال بعد جو آرمی چیف آئے گا وہ بھی اس کو لے کر آگے چلے گا اور یہ چیز چلتی رہے گی ۔