اہم خبریں

لیکن یوسفیات زندہ ہیں: مشتاق احمد یوسفی کے چند خوبصورت پرمزاح جملے جنہیں پڑھ کر آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے

  جمعرات‬‮ 21 جون‬‮ 2018  |  20:34
اردو کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی گزشتہ روز 94 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ مشتاق احمد یوسفی کی نماز جنازہ جمعرات کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 5 کی سلطان مسجد میں ادا کی جائے گی۔ ان کی تحریریں ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول تھیں اور اسی مناسبت سے ہم یہاں مشتاق احمد یوسفی کے چند خوبصورت پرمزاح جملے پیش کر رہے ہیں- 1- بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے- 2-

(خبر جا ری ہے)

کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں- 3- دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار- 4- مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کر کے کھا نہ سکیں- آ5- آدمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے- 6- مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے-7- مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے- 8- لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے- 9- جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا- 10- حجام کی ضرورت ساری دنیا کو رہے گی تاوقتیکہ ساری دنیا سکھ مذہب اختیار نہ کرلے اور یہ سکھ کبھی ہونے نہیں دیں گے- 11- امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں-12- محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے- 13- فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے- 14- گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے- 15- سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہوتو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں- 16- ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے-17- مرض کا نام معلوم ہوجائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے- 18- جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کے بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہوگی- 19- انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے- 20- یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریااور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے- 21- آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کر کے چھوڑتے ہیں-22- بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں ایک۔ پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے- 23- ہم نے تو سوچا تھا کراچی چھوٹا سا جہنم ہے، جہنم تو بڑا سا کراچی نکلا- 24- آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیریاور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کرسکتا- 25- فرضی بیماریوں کے لیے یونانی دوائیں تیر بہدف ہوتی ہیں-26- عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری بدمعاشی- 27- قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے- 28- خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی- 29- تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں- 30- لذیذ غذا سے مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہاور طاقت پیدا ہوتی ہے- 31- نام میں کیا رکھا ہے؟ دوست کو کسی بھی نام سے پکاریں، گلوں ہی کی خوشبو آئے گی- 32- جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا- 33- یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے- 34- مطلق العنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت سے پیوست ہوتی ہیں-

اردو کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی گزشتہ روز 94 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ مشتاق احمد یوسفی کی نماز جنازہ جمعرات کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 5 کی سلطان مسجد میں ادا کی جائے گی۔ ان کی تحریریں ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول تھیں اور اسی مناسبت سے ہم یہاں مشتاق احمد یوسفی کے چند خوبصورت پرمزاح جملے پیش کر رہے ہیں- 1- بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں،

سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے- 2- کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں- 3- دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار- 4- مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کر کے کھا نہ سکیں- آ5- آدمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے- 6- مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے-7- مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے- 8- لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے- 9- جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا- 10- حجام کی ضرورت ساری دنیا کو رہے گی تاوقتیکہ ساری دنیا سکھ مذہب اختیار نہ کرلے اور یہ سکھ کبھی ہونے نہیں دیں گے- 11- امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں-12- محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے- 13- فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے- 14- گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے- 15- سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو

تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں- 16- ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے-17- مرض کا نام معلوم ہوجائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے- 18- جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کے بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہوگی- 19- انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے- 20- یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریا

اور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے- 21- آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کر کے چھوڑتے ہیں-22- بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں ایک۔ پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے- 23- ہم نے تو سوچا تھا کراچی چھوٹا سا جہنم ہے، جہنم تو بڑا سا کراچی نکلا- 24- آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیری

اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کرسکتا- 25- فرضی بیماریوں کے لیے یونانی دوائیں تیر بہدف ہوتی ہیں-26- عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری بدمعاشی- 27- قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے- 28- خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی- 29- تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں- 30- لذیذ غذا سے مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ

اور طاقت پیدا ہوتی ہے- 31- نام میں کیا رکھا ہے؟ دوست کو کسی بھی نام سے پکاریں، گلوں ہی کی خوشبو آئے گی- 32- جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا- 33- یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے- 34- مطلق العنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت سے پیوست ہوتی ہیں-

loading...