اہم خبریں

قدرت کا معاملہ

  ہفتہ‬‮ 14 اپریل‬‮ 2018  |  19:10
ایک بھٹے والا ٹھیلا چلاتا تھا _روز اس کے پاس ایک بچہ آتا تھا _جو اس سے بھٹہ لیا کرتا تھا "چاچا ایک بھٹہ تو دےدو" _وہ دےدیا کرتا تھا _ایک دن ایک لمبی سی گاڑی اس بھٹے والے کے پاس آی اور اسے 20 بھٹوں کا آڈر دیا. بھٹے والا بہت خوش ہوا _اس نے اسے اچھا اچھا سا بنا کر دے دیا - اگلے دن پھر وہی گاڑی دوبارہ آی اور پھر 20 بھٹوں کا آڑد دیا _ایسے وہ گاڑی والا روز اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے 20 بھٹے لیجانے لگا _بھٹے والے کا کاروبار بھی

(خبر جا ری ہے)

کاروبار بھی اسی طرح اچھا ہونے لگا _ایک دن بھٹے والا بڑا مصروف تھا اسی لمبی گاڑی والے کے بھٹے تیار کرنے میں - اتنے میں وہی بچہ آیا جو روز اتا تھا اور کہا _”چاچا ایک بھٹہ تو دےدو”. تو بھٹے والے نے کہا “ابھی جاؤ یہاں سے ،میرے پاس وقت نہیں، میں مصروف ہوں. بار بار آجاتے ہیں بھٹہ مانگنے”! بچہ چلا گیا. بھٹے والا بھٹے تیار کر کے انتظار کرتا رہا وہ لمبی سی گاڑی اس دن نہ آی _بھٹے والے نے قدرت کے ماجرے کا نوٹس نہ لیا _اگلے دن پھر وہ انتظار کرتے رہا وہ لمبی گاڑی پھر نہیں آی.اس کے اگلے روز دوبارہ انتظار کے باوجود گاڑی نہ آی _ایسے ایک ہفتہ گزر گیا _اب تک بھٹے والے کو سمجھ نہ ایا کہ قدرت کا ماجرا ہے کیا _؟ پھر وہ بچہ آیا بھٹے والے کے پاس "چاچا ایک بھٹہ تو دےدو" _ بھٹے والے نے بچے کی طرف دیکھا اور پھر بھی نہ سمجھا کہ قدرت کا ماجرا کیا ہے. بہرحال اس کو ایک بھٹہ دے ہی دیا. یہاں اس نے بھٹہ دیا گھنٹے دو گھنٹے کے بعد وہ لمبی گاڑی آگئ کہ “بھائ 20 بھٹے دے دو _”- اس نے جلدی جلدی بھٹے بناےاور گاری والے کو دے دیا اور گاڑی کے مالک سے پوچھا “سرکار آپ ایک ہفتے سے کہاں تھے؟ “ تو مالک نے کہا “یہ میرے دفتر سے گھر جانے کا رستہ ہے یہاں رستے میں ایک پٹرول پمپ ہے اس پمپ سے میں گاڑی میں تیل بھرواتا ہوں _تو ایک بار اس کے پٹرول میں کچرا آگیا تو میں نے وہاں سے اپنا رستہ بدل لیا _اب میں دوسرے رستے سے جاتا ہوں_اور دوسرے پمپ سے تیل بھرواتا ہوں _ لیکن اس پمپ کے مالک نے مجھے رابطہ کیا اور کہا میرے ملازمین کی غلتی ہے اگلی بار سے ایسا نہیں ہوگا. تو میں نے اسے معاف کر دیا- اور اپنا یہ رستہ واپس اختیار کر لیا”. بھٹے والا گھر گیا رات سوچتے رہا پھر اسے سمجھ آیا کہ جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا بند کیا تو اللہ نے اس لمبی گاڑی والے کے پٹرول میں بھی کچرا ڈال دیا اور جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا شروع کیاتو اللہ نے اس گاڑی والے کا معافی نامہ اس پمپ والے سے کروا دی گویا اس کا اپنا رزق اس بچے کے پیٹ سے جڑا ہوا تھا جو نہ تو اسکا ملازم تھا نہ ہی اولاد تھی نہ ہی جاننے والا تھا بس اللہ کا ایک بندہ تھا پھر وہ یہ سمجھ گیا کہ کسی کو رزق پونچانے کے لیےاللە کسی کو رزق دیتا ہےاور جب ہم وہ رزق نہیں پنچاتے تو اللہ ہمارا رزق بھی روق دیتا ہےاور وہ بندا کون ہوتا هے وہُ ہم کبھی نہی جان سکتے _.

ایک بھٹے والا ٹھیلا چلاتا تھا _روز اس کے پاس ایک بچہ آتا تھا _جو اس سے بھٹہ لیا کرتا تھا “چاچا ایک بھٹہ تو دےدو” _وہ دےدیا کرتا تھا _ایک دن ایک لمبی سی گاڑی اس بھٹے والے کے پاس آی اور اسے 20 بھٹوں کا آڈر دیا. بھٹے والا بہت خوش ہوا _اس نے اسے اچھا اچھا سا بنا کر دے دیا – اگلے دن پھر وہی گاڑی دوبارہ آی اور پھر 20 بھٹوں کا آڑد دیا _ایسے وہ گاڑی والا روز اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے 20 بھٹے لیجانے لگا _بھٹے والے کا کاروبار بھی اسی کاروبار بھی اسی طرح اچھا ہونے لگا _

ایک دن بھٹے والا بڑا مصروف تھا اسی لمبی گاڑی والے کے بھٹے تیار کرنے میں – اتنے میں وہی بچہ آیا جو روز اتا تھا اور کہا _”چاچا ایک بھٹہ تو دےدو”. تو بھٹے والے نے کہا “ابھی جاؤ یہاں سے ،میرے پاس وقت نہیں، میں مصروف ہوں. بار بار آجاتے ہیں بھٹہ مانگنے”! بچہ چلا گیا. بھٹے والا بھٹے تیار کر کے انتظار کرتا رہا وہ لمبی سی گاڑی اس دن نہ آی _بھٹے والے نے قدرت کے ماجرے کا نوٹس نہ لیا _اگلے دن پھر وہ انتظار کرتے رہا وہ لمبی گاڑی پھر نہیں آی.اس کے اگلے روز دوبارہ انتظار کے باوجود گاڑی نہ آی _ایسے ایک ہفتہ گزر گیا _اب تک بھٹے والے کو سمجھ نہ ایا کہ قدرت کا ماجرا ہے کیا _؟ پھر وہ بچہ آیا بھٹے والے کے پاس “چاچا ایک بھٹہ تو دےدو” _ بھٹے والے نے بچے کی طرف دیکھا اور پھر بھی نہ سمجھا کہ قدرت کا ماجرا کیا ہے. بہرحال اس کو ایک بھٹہ دے ہی دیا. یہاں اس نے بھٹہ دیا گھنٹے دو گھنٹے کے بعد وہ لمبی گاڑی آگئ کہ “بھائ 20 بھٹے دے دو _”- اس نے جلدی جلدی بھٹے بناےاور گاری والے کو دے دیا اور گاڑی کے مالک سے پوچھا “سرکار آپ ایک ہفتے سے کہاں تھے؟ “ تو مالک نے کہا “یہ میرے دفتر سے گھر جانے کا رستہ ہے یہاں رستے میں ایک پٹرول پمپ ہے اس پمپ سے میں گاڑی میں تیل بھرواتا ہوں _تو ایک بار اس کے پٹرول میں کچرا آگیا تو میں نے وہاں سے اپنا رستہ بدل لیا _اب میں دوسرے رستے سے جاتا ہوں

_اور دوسرے پمپ سے تیل بھرواتا ہوں _ لیکن اس پمپ کے مالک نے مجھے رابطہ کیا اور کہا میرے ملازمین کی غلتی ہے اگلی بار سے ایسا نہیں ہوگا. تو میں نے اسے معاف کر دیا- اور اپنا یہ رستہ واپس اختیار کر لیا”. بھٹے والا گھر گیا رات سوچتے رہا پھر اسے سمجھ آیا کہ جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا بند کیا تو اللہ نے اس لمبی گاڑی والے کے پٹرول میں بھی کچرا ڈال دیا اور جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا شروع کیا

تو اللہ نے اس گاڑی والے کا معافی نامہ اس پمپ والے سے کروا دی گویا اس کا اپنا رزق اس بچے کے پیٹ سے جڑا ہوا تھا جو نہ تو اسکا ملازم تھا نہ ہی اولاد تھی نہ ہی جاننے والا تھا بس اللہ کا ایک بندہ تھا پھر وہ یہ سمجھ گیا کہ کسی کو رزق پونچانے کے لیےاللە کسی کو رزق دیتا ہےاور جب ہم وہ رزق نہیں پنچاتے تو اللہ ہمارا رزق بھی روق دیتا ہےاور وہ بندا کون ہوتا هے وہُ ہم کبھی نہی جان سکتے _.

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں