اہم خبریں

صدقہ

  جمعرات‬‮ 11 جنوری‬‮ 2018  |  6:49
آپ میں سے جو سعودی عرب گئے ہیں وہ مشہور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ “البیک” کے بارے میں یقیناًجانتے ہوگیکہ اس کو عوام کس قدر مقبولیت حاصل ہے ؟اس فاسٹ فوڈ چین پر لوگوں کا بے پناہ رش کیوں ہے ؟عوام گھنٹوں لائنوں میں لگ کر ، اس قدر تکلیف اٹھا کر اسی کا ہی کھانا کیوں پسند کرتی ہے ؟ سنا ہے کہ صرف ایک پارسل لینے کے لئے کم از کم دو گھنٹوں سے زائد کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اس پر چیونٹیوں کی طرح چھائے رہتے ہیں ؟آخر کیوں ؟ کیا اس کے چکن

(خبر جا ری ہے)

سب سے جدا ہے ؟کیا ان کے ہاں ماحول بہت خوبصورت ہے ؟کیا اس پائے کا سعودیہ میں کوئی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ نہیں ہے ؟کیا ان کے ہاں استعمال کئے گئےمصالحہ جات نایاب قسم کے ہیں ؟آخر کیا وجہ ہے ؟یہ وجہ چند ماہ پہلے سامنے آئی۔ہوا کچھ یوں کہ “البیک” کے مالک نے جب یہ کام شروع کیاتھا تو اس نے خود سے عہد کیا تھا۔ وہ ہر پیکٹ یعنی ہر ڈیل کے ساتھ ایک ریال صدقہ کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے ساری زندگی اسی پر عمل کیا۔ دن بھر میں جتنے پیکٹ فروخت ہوتے وہ اسی حساب سے ریال کسی خیراتی تنظیم تو کبھی فقراء4 و مساکین کو روزانہ تقسیم کر کے سوتا۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ بڑے بڑے خیراتی ادارے “البیک” کی اس خیرات پر چلنے لگے اور کسی کو ان کی بھنک بھی نہ ہوئی۔چند ماہ پہلے ہی جب “البیک” کے مالک کا انتقال ہوا تو ان خیراتی اداروں کو فکر لاحق ہوئی کہ اب کیا ہو گا۔پتا نہیں مرحوم کے بیٹے یہ صدقہ جاری رکھیں گے یا نہیں ؟جب مرحوم کے بیٹوں کو اپنے والد کے اس کارخیر کا پتا چلا تو انہوں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ آج سے ہر پیکٹ پر ایک ریال نہیں بلکہ دو ریال صدقہ کریں گے۔ 

آپ میں سے جو سعودی عرب گئے ہیں وہ مشہور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ “البیک” کے بارے میں یقیناًجانتے ہوگیکہ اس کو عوام کس قدر مقبولیت حاصل ہے ؟اس فاسٹ فوڈ چین پر لوگوں کا بے پناہ رش کیوں ہے ؟عوام گھنٹوں لائنوں میں لگ کر ، اس قدر تکلیف اٹھا کر اسی کا ہی کھانا کیوں پسند کرتی ہے ؟ سنا ہے کہ صرف ایک پارسل لینے کے لئے کم از کم دو گھنٹوں سے زائد کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اس پر چیونٹیوں کی طرح چھائے رہتے ہیں ؟آخر کیوں ؟

کیا اس کے چکن کا ذائقہ سب سے جدا ہے ؟کیا ان کے ہاں ماحول بہت خوبصورت ہے ؟کیا اس پائے کا سعودیہ میں کوئی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ نہیں ہے ؟کیا ان کے ہاں استعمال کئے گئےمصالحہ جات نایاب قسم کے ہیں ؟آخر کیا وجہ ہے ؟یہ وجہ چند ماہ پہلے سامنے آئی۔ہوا کچھ یوں کہ “البیک” کے مالک نے جب یہ کام شروع کیاتھا تو اس نے خود سے عہد کیا تھا۔ وہ ہر پیکٹ یعنی ہر ڈیل کے ساتھ ایک ریال صدقہ کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے ساری زندگی اسی پر عمل کیا۔ دن بھر میں جتنے پیکٹ فروخت ہوتے وہ اسی حساب سے ریال کسی خیراتی تنظیم تو کبھی فقراء4 و مساکین کو روزانہ تقسیم کر کے سوتا۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ بڑے بڑے خیراتی ادارے “البیک” کی اس خیرات پر چلنے لگے اور کسی کو ان کی بھنک بھی نہ ہوئی۔چند ماہ پہلے ہی جب “البیک” کے مالک کا انتقال ہوا تو ان خیراتی اداروں کو فکر لاحق ہوئی کہ اب کیا ہو گا۔پتا نہیں مرحوم کے بیٹے یہ صدقہ جاری رکھیں گے یا نہیں ؟جب مرحوم کے بیٹوں کو اپنے والد کے اس کارخیر کا پتا چلا تو انہوں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ آج سے ہر پیکٹ پر ایک ریال نہیں بلکہ دو ریال صدقہ کریں گے۔

 

loading...