اہم خبریں

سانپ کا زہر

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  6:41
امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جائے۔تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کرکے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پن چبھائی گئی اور قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت ہوگئی۔پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا

(خبر جا ری ہے)

کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے۔اب یہ زہر کہاں سے آیا جس نے اس قیدی کی جان لے لی۔ وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا۔ ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے۔75 فیصد بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے۔آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کررہا ہے۔اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں۔25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ 50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے،50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا۔ زندگی خوبصورت ہے اس لیے ہمیشہ خوش رہیں۔

’’بھانڈ‘‘

 لاہور سے تعلق رکھنے والے بھانڈ منیر حسین المعروف ’’بھامنیر ‘‘ نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایاکہ سابق فیلڈ مارشل و صدر ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب کا ولیمہ ایوان صدر میں تھا ،یہ وہ زمانہ تھا جب وہ بھارت کے ساتھ معاہدہ تاشقند کرکے لوٹے تھے ۔ہم بھانڈوں کو روایتی رسم و رواج کے مطابق شرکائے محفل کی دلچسپی اور انہیں محظوظ کرنے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ایسے میں ہم نے سیاسی جگت کے ذریعے ایوب خان پر تنقید شروع کر دی مگر آفرین ہے کہ انہوں نے ناراض ہونے کے بجائے ہمیں انعام سے نوازا۔واقعہسناتے ہوئے ’’بھا منیر ‘‘نے بتایا کہ میں اورمیرےبڑے بھائی اعجاز حسین کے درمیا ن مکالمہ ہواجو کہ دراصل جگت بازی کیلئے تھا جس میں ہم نے سابق صدر پر جگت لگائی کہ ’’ایوب خان تاشقند سے واپس آئے ہیں اور فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں ہوا ہے ،بھئی کیافیصلہ ہوا ہے ؟ معاہدے کی رو سے کشمیر بھارت کا اور کشمیری پاکستان کے حصے میں آگئے ہیں ، اس سے فائدہ کیاہوگا؟ بھئی بہت فائدہ ہوگا کشمیریوں سے اکبری منڈی میں بوریاں اٹھوانے کا کام لیاجائے گا ‘‘بھانڈ ’’بھامنیر‘‘بتاتے ہیں کہ جب ہم نے یہ بات کہی تو پنڈال میں سناٹا چھا گیاسب سوچنے لگ گئے کہ اب ان بھانڈوں کو ان کی بدتمیزی اور سرکشی پر کم از کم عمر قید تو ضرورہوگی لیکن ہوا اس کے برعکس ، ہماری جگت بازی پر پنڈال میں چھائے سناٹے کو چیرتے ہوئے ایوب خان کے قہقہوں نے سب کے خدشات کو زائل کر دیا اور ہر طرف قہقہےگونجنے لگ گئے۔

امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جائے۔تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے

اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کرکے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پن چبھائی گئی اور قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت ہوگئی۔پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے۔اب یہ زہر کہاں سے آیا جس نے اس قیدی کی جان لے لی۔ وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا۔ ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے۔75 فیصد بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے۔آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کررہا ہے۔اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں۔25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ 50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے،50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا۔ زندگی خوبصورت ہے اس لیے ہمیشہ خوش رہیں۔

’’بھانڈ‘‘

 

لاہور سے تعلق رکھنے والے بھانڈ منیر حسین المعروف ’’بھامنیر ‘‘ نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایاکہ سابق فیلڈ مارشل و صدر ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب کا ولیمہ ایوان صدر میں تھا ،یہ وہ زمانہ تھا جب وہ بھارت کے ساتھ معاہدہ تاشقند کرکے لوٹے تھے ۔ہم بھانڈوں کو روایتی رسم و رواج کے مطابق شرکائے محفل کی دلچسپی اور انہیں محظوظ کرنے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ایسے میں ہم نے سیاسی جگت کے ذریعے ایوب خان پر تنقید شروع کر دی مگر آفرین ہے کہ انہوں نے ناراض ہونے کے بجائے ہمیں انعام سے نوازا۔واقعہ

سناتے ہوئے ’’بھا منیر ‘‘نے بتایا کہ میں اورمیرےبڑے بھائی اعجاز حسین کے درمیا ن مکالمہ ہواجو کہ دراصل جگت بازی کیلئے تھا جس میں ہم نے سابق صدر پر جگت لگائی کہ ’’ایوب خان تاشقند سے واپس آئے ہیں اور فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں ہوا ہے ،بھئی کیافیصلہ ہوا ہے ؟ معاہدے کی رو سے کشمیر بھارت کا اور کشمیری پاکستان کے حصے میں آگئے ہیں ، اس سے فائدہ کیاہوگا؟ بھئی بہت فائدہ ہوگا کشمیریوں سے اکبری منڈی میں بوریاں اٹھوانے کا کام لیاجائے گا ‘‘بھانڈ ’’بھامنیر‘‘بتاتے ہیں کہ جب ہم نے یہ بات کہی تو پنڈال میں سناٹا چھا گیاسب سوچنے لگ گئے کہ اب ان بھانڈوں کو ان کی بدتمیزی اور سرکشی پر کم از کم عمر قید تو ضرورہوگی لیکن ہوا اس کے برعکس ، ہماری جگت بازی پر پنڈال میں چھائے سناٹے کو چیرتے ہوئے ایوب خان کے قہقہوں نے سب کے خدشات کو زائل کر دیا اور ہر طرف قہقہےگونجنے لگ گئے۔

loading...