اہم خبریں

88فیصد پرائمری ‘ 75فیصد مڈل اور 80فیصد ہائی سکول بند ہونے کا امکان ، طلباء کا مستقبل دائو پر لگ گیا

  اتوار‬‮ 6 اکتوبر‬‮ 2019  |  16:54
مظفرآباد(این این آئی)حکومت آزادکشمیر اور وزیر تعلیم کی بے بسی ،صدر آزادکشمیر کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پرائمری سطح پر اساتذہ اور طلبہ کی تعداد 25سے کم ہونے پر اسکول بند کرنے کے احکامات پر آزادکشمیر کے 88فیصد پرائمری جبکہ75فیصد مڈل ، 80فیصد ہائی سکول بند کرنے کا امکان ۔تفصیلات کے مطابق صدر آزادکشمیر کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن 2019-47667-78کے مطابق جو سیکرٹریٹ سے جاری ہوا وہاں وہ پرائمری اسکول جن میں طلبہ طالبات کی تعداد 25سے کم ہو وہاں نہ تو کوئی معلم تعینات ہوگا بلکہ سکول بند ہوگا ،آزادکشمیر میں پرائمری اسکولوںکی

(خبر جا ری ہے)

ہے جن میں طلبا و طالبات کی تعداد 20بھی نہیں جبکہ مڈل سکولوں کی تعداد 75فیصد ہے ،ہائی اسکولوں کی بھی یہی حالت ہے ،اس طرح کی پالیسی پر آزادکشمیر کے ہزاروں اساتذہ بے روزگار ہوں گے جبکہ محکمہ تعلیم کے اونر کے مطابق 1/2 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر کوئی دوسرا اسکول نہ تو تعمیر ہوسکتا ہے اور نہ ہی اُسے این او سی جاری کی جاتی ہے مگر محکمہ تعلیم کی نااہلی دیکھیں ،ہر 20فٹ پر پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار جبکہ سرکاری اسکول بھی اتنے ہی فاصلے پر قائم ہیں حکومت آزادکشمیر کوئی ایسی پالیسی اختیار کرے تاکہ طلبا و طالبات پرائیویٹ اسکولوں کو خیر آباد کہہ کر سرکاری اسکولوں میں داخلہ ہو جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں اچھی پوزیشن رکھنے والوں کو ترجیح دیں ، حکومت ایسے پرائیویٹ اسکولوں کو سپورٹ کرے جن کی سالانہ کارگردگی اچھی ہو ، حالیہ جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ہزاروں اساتذہ کو برطرف کیا جائے گا جو کہ غلط ہے ،حکومت نظر ثانی کرے۔‎

مظفرآباد(این این آئی)حکومت آزادکشمیر اور وزیر تعلیم کی بے بسی ،صدر آزادکشمیر کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پرائمری سطح پر اساتذہ اور طلبہ کی تعداد 25سے کم ہونے پر اسکول بند کرنے کے احکامات پر آزادکشمیر کے 88فیصد پرائمری جبکہ75فیصد مڈل ، 80فیصد ہائی سکول بند کرنے کا امکان ۔تفصیلات کے مطابق صدر آزادکشمیر کی جانب سے جاری ہونے والے

نوٹیفکیشن 2019-47667-78کے مطابق جو سیکرٹریٹ سے جاری ہوا وہاں وہ پرائمری اسکول جن میں طلبہ طالبات کی تعداد 25سے کم ہو وہاں نہ تو کوئی معلم تعینات ہوگا بلکہ سکول بند ہوگا ،آزادکشمیر میں پرائمری اسکولوںکی تعداد 88فیصد ہے جن میں طلبا و طالبات کی تعداد 20بھی نہیں جبکہ مڈل سکولوں کی تعداد 75فیصد ہے ،ہائی اسکولوں کی بھی یہی حالت ہے ،اس طرح کی پالیسی پر آزادکشمیر کے ہزاروں اساتذہ بے روزگار ہوں گے جبکہ محکمہ تعلیم کے اونر کے مطابق 1/2 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر کوئی دوسرا اسکول نہ تو تعمیر ہوسکتا ہے اور نہ ہی اُسے این او سی جاری کی جاتی ہے مگر محکمہ تعلیم کی نااہلی دیکھیں ،ہر 20فٹ پر پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار جبکہ سرکاری اسکول بھی اتنے ہی فاصلے پر قائم ہیں حکومت آزادکشمیر کوئی ایسی پالیسی اختیار کرے تاکہ طلبا و طالبات پرائیویٹ اسکولوں کو خیر آباد کہہ کر سرکاری اسکولوں میں داخلہ ہو جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں اچھی پوزیشن رکھنے والوں کو ترجیح دیں ، حکومت ایسے پرائیویٹ اسکولوں کو سپورٹ کرے جن کی سالانہ کارگردگی اچھی ہو ، حالیہ جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ہزاروں اساتذہ کو برطرف کیا جائے گا جو کہ غلط ہے ،حکومت نظر ثانی کرے۔‎

loading...