اہم خبریں

ٹرمپ سے اختلافات ،وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن فارغ

  بدھ‬‮ 11 ستمبر‬‮ 2019  |  17:12
واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو فارغ کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھوں نے جان بولٹن سے کہہ دیا تھا کہ اب وائٹ ہاؤس میں ان کی مزید خدمات درکار نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ جان بولٹن نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں لکھاکہ انھیں جان بولٹن کی بہت سی تجاویز سے شدید اختلاف تھا۔انھوں نے انتظامیہ کے بعض دوسروں کی طرح ہی کیا تھا۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے پہلے اپنے وزیر خارجہ

(خبر جا ری ہے)

اور قومی سلامتی کے دو مشیروں کو بھی اختلاف کی وجہ سے چلتا کرچکے ہیں۔جان بولٹن ایران کے خلاف بالخصوص سخت موقف کے حامل رہے ہیں۔ انھیں گذشتہ سال اپریل میں وائٹ ہاؤس کا قومی سلامتی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔ستر سالہ جان بولٹن امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے ماضی میں شمالی کوریا کے خلاف جنگ کی وکالت کی تھی۔انھوں نے 1990ء کی دہائی کے اوائل میں پہلی خلیج جنگ اور پھر 2003 ء میں عراق پر امریکا کی چڑھائی کی حمایت کی تھی۔انھوں نے سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن کی انتظامیہ میں ایجنسی برائے قومی ترقی میں کام سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔وہ 1985ء سے 1989ء تک اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رہے تھے۔وہ سابق صدر جارج ڈبلیو ایچ بش کی انتظامیہ میں 1989ء سے 1993ء تک خدمات انجام دی تھیں۔

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو فارغ کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھوں نے جان بولٹن سے کہہ دیا تھا کہ اب وائٹ ہاؤس میں ان کی مزید خدمات درکار نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ جان بولٹن نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں لکھاکہ انھیں جان بولٹن کی بہت سی تجاویز سے شدید اختلاف تھا۔انھوں نے انتظامیہ کے بعض دوسروں کی طرح ہی کیا تھا۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے پہلے اپنے وزیر خارجہ ،وزیر

دفاع اور قومی سلامتی کے دو مشیروں کو بھی اختلاف کی وجہ سے چلتا کرچکے ہیں۔جان بولٹن ایران کے خلاف بالخصوص سخت موقف کے حامل رہے ہیں۔ انھیں گذشتہ سال اپریل میں وائٹ ہاؤس کا قومی سلامتی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔ستر سالہ جان بولٹن امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے ماضی میں شمالی کوریا کے خلاف جنگ کی وکالت کی تھی۔انھوں نے 1990ء کی دہائی کے اوائل میں پہلی خلیج جنگ اور پھر 2003 ء میں عراق پر امریکا کی چڑھائی کی حمایت کی تھی۔انھوں نے سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن کی انتظامیہ میں ایجنسی برائے قومی ترقی میں کام سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔وہ 1985ء سے 1989ء تک اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رہے تھے۔وہ سابق صدر جارج ڈبلیو ایچ بش کی انتظامیہ میں 1989ء سے 1993ء تک خدمات انجام دی تھیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں