اہم خبریں

آئی سی سی ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی : عبدالقادر

  منگل‬‮ 9 جولائی‬‮ 2019  |  17:20
عبدالحکیم (این این آئی) پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ نازلیجنڈ لیگ سپنر عبدالقادر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے اس کے ذمہ دار کوچ مکی آرتھر ، انضمام الحق اور ناقص کارکردگی دکھانے والے بیٹسمین اور باؤلرز ہیں جوکہ اہم میچز کا دفاع کرنے میں بالکل ناکام رہے انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو انگلش کوچ مکی آرتھراور انضمام الحق سے جان چھڑا کر پاکستان میں موجود سینئر پلییرز سرفراز نواز ، وسیم اکرم، جاوید میاں داد جیسے آل

(خبر جا ری ہے)

سے استفادہ حاصل کرنا ہو گا اور بار بار کپتان بدلنے کی روش کو بھی ختم کرنا ہوگا اس سے ٹیم کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ جب بھی ٹیم میں نئے کپتان کا چناؤ کرتے ہیں تو اسکی خامیاں ڈھونڈتے تین سال گزر جاتے ہیں اور ورلڈ کپ میں ایک سال باقی رہ جاتا ہے بار بار کپتان بدلنے کی بجائے ناقص کارکردگی دکھانے والی ٹیم سے جان چھڑانا بہتر ہو گا کپتان سرفراز احمد اور نائب کپتان کیلئے بہترین پرفارمنس دکھانیپر بابر اعظم کو نائب کپتان مقرر کیا جائے تاکہ آنے والے وقت میں بابر اعظم کو کارکردگی کی بنیاد پر کپتانی کی ذمہ داری سونپی جا سکے اور ساری ٹیم کو ازسر نو تشکیل دیا جائے انہوں نے کہا کہ 1992ء کی ٹیم اور آج کی ٹیم میں زمین آسمان کا فرق ہے اسوقت ٹیم کے کوچ انتخاب عالم تھے اور پوری ٹیم میں ہم آہنگی تھی اور تمام کھلاڑی جان لڑانے والے تھے اور آج کی ٹیم اختلافات اور انتشار کا شکار ہے اس لیے اس ٹیم سے جان چھڑانا ہی بہتر ہوگا -

عبدالحکیم (این این آئی) پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ نازلیجنڈ لیگ سپنر عبدالقادر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے اس کے ذمہ دار کوچ مکی آرتھر ، انضمام الحق اور ناقص کارکردگی دکھانے والے بیٹسمین اور باؤلرز ہیں جوکہ اہم میچز کا دفاع کرنے میں بالکل ناکام رہے انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو انگلش کوچ مکی آرتھراور انضمام الحق سے جان چھڑا کر پاکستان میں موجود سینئر پلییرز سرفراز نواز ، وسیم اکرم، جاوید میاں داد جیسے آل راؤنڈر

کھلاڑیوں سے استفادہ حاصل کرنا ہو گا اور بار بار کپتان بدلنے کی روش کو بھی ختم کرنا ہوگا اس سے ٹیم کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ جب بھی ٹیم میں نئے کپتان کا چناؤ کرتے ہیں تو اسکی خامیاں ڈھونڈتے تین سال گزر جاتے ہیں اور ورلڈ کپ میں ایک سال باقی رہ جاتا ہے بار بار کپتان بدلنے کی بجائے ناقص کارکردگی دکھانے والی ٹیم سے جان چھڑانا بہتر ہو گا کپتان سرفراز احمد اور نائب کپتان کیلئے بہترین پرفارمنس دکھانیپر بابر اعظم کو نائب کپتان مقرر کیا جائے تاکہ آنے والے وقت میں بابر اعظم کو کارکردگی کی بنیاد پر کپتانی کی ذمہ داری سونپی جا سکے اور ساری ٹیم کو ازسر نو تشکیل دیا جائے انہوں نے کہا کہ 1992ء کی ٹیم اور آج کی ٹیم میں زمین آسمان کا فرق ہے اسوقت ٹیم کے کوچ انتخاب عالم تھے اور پوری ٹیم میں ہم آہنگی تھی اور تمام کھلاڑی جان لڑانے والے تھے اور آج کی ٹیم اختلافات اور انتشار کا شکار ہے اس لیے اس ٹیم سے جان چھڑانا ہی بہتر ہوگا –

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں