اہم خبریں

ٹی وی دیکھنا چھوٹے بچوں کیلئے کتنا خطرناک ہے؟تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی ادارہ صحت نے اہم ہدایات جاری کردیں

  منگل‬‮ 21 مئی‬‮‬‮ 2019  |  16:29
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈبلیو ایچ او نے چھوٹے بچوں کے ٹی وی دیکھنے کے بارے میں پہلی بار دنیا بھر کے لیے اپنی تنبیہ اور رہنما ہدایات جاری کر دیں۔ ان ہدایات کے مطابق ویڈیو چیٹ کے علاوہ کوئی بھی ویڈیو سکرین بچوں کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ اولین ہدایات گزشتہ روز جاری کی گئیں۔ یہ اپنی نوعیت اور مقصدیت میں اسی طرح کی وارننگ ہے، جیسی امریکا میں بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی قومی اکیڈمی پہلے ہی جاری کر چکی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن

(خبر جا ری ہے)

سے کہا گیا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے شیر خوار بچوں کو ٹیلی وژن بالکل نہیں دیکھنا چاہیے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اس کا دورانیہ کسی بھی طرح ایک گھنٹہ روزانہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔شیر خوار یا بہت چھوٹے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنا وقت اسکرین کے سامنے نہیں گزارنا چاہیے اور یہ وقت پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے بھی جتنا کم ہو گا، اتنا ہی یہ ان کی آنکھوں کے علاوہ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے بہتر ہو گا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ موبائل ٹیلی فون وغیرہ پر اہل خانہ کے ساتھ ویڈیو چیٹ کو چھوڑ کر 18 ماہ سے کم عمر کے بچوں کے لیے کوئی بھی الیکٹرانک اسکرین اچھی نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ اگر دو سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین یہ چاہیں کہ ان کے بچے ٹیلی وژن یا کسی کمپیوٹر اسکرین پر کوئی معیاری تعلیمی پروگرام دیکھیں، تو اول تو اس کا دورانیہ بھی زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ والدین میں سے کسی نہ کسی کو اس وقت بچے کے ساتھ بیٹھا ہونا چاہیے تاکہ بچے کی بہتر سمجھ کے لیے اس بات کی وضاحت بھی کی جا سکے کہ وہ کیا اور کیوں دیکھ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی ان ہدایات میں اس امر کی کھل کر وضاحت نہیں کی کہ ٹی وی یا کسی دوسری اسکرین کو بہت زیادہ دیکھنے سے کسی کم سن بچے کی صحت پر کیا کیا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم ڈبلیو ایچ او نے ساتھ ہی یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی کافی جسمانی مصروفیات اور ورزش کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے لیے ہر روز کافی حد تک لمبی نیند کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ماہرین نے اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ چھوٹے بچوں میں جسمانی بھاگ دوڑ کی کمی اور سستی ان میں موٹاپے کی وجہ بنتی ہےاور موٹاپا آج کل کے بچوں کے صحت اور زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو وقفے وقفے سے لیکن ہر روز مجموعی طور پر کم از کم بھی آدھ گھنٹہ پیٹ کے بل لٹائے رکھنا چاہیے کیونکہ ان کے لیے یہ بھی ایک ورزش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سال سے زائد عمر کے بچوں کو روزانہ کم از کم بھی تین گھنٹے تک کسی نہ کسی جسمانی مصروفیت یا کھیل میں مشغول رکھا جانا چاہیے تاکہ وہ ایکٹو رہ سکیں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈبلیو ایچ او نے چھوٹے بچوں کے ٹی وی دیکھنے کے بارے میں پہلی بار دنیا بھر کے لیے اپنی تنبیہ اور رہنما ہدایات جاری کر دیں۔ ان ہدایات کے مطابق ویڈیو چیٹ کے علاوہ کوئی بھی ویڈیو سکرین بچوں کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ اولین ہدایات گزشتہ روز جاری کی گئیں۔ یہ اپنی نوعیت اور مقصدیت میں اسی طرح کی وارننگ ہے،

جیسی امریکا میں بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی قومی اکیڈمی پہلے ہی جاری کر چکی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے شیر خوار بچوں کو ٹیلی وژن بالکل نہیں دیکھنا چاہیے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اس کا دورانیہ کسی بھی طرح ایک گھنٹہ روزانہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔شیر خوار یا بہت چھوٹے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنا وقت اسکرین کے سامنے نہیں گزارنا چاہیے اور یہ وقت پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے بھی جتنا کم ہو گا، اتنا ہی یہ ان کی آنکھوں کے علاوہ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے بہتر ہو گا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ موبائل ٹیلی فون وغیرہ پر اہل خانہ کے ساتھ ویڈیو چیٹ کو چھوڑ کر 18 ماہ سے کم عمر کے بچوں کے لیے کوئی بھی الیکٹرانک اسکرین اچھی نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ اگر دو سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین یہ چاہیں کہ ان کے بچے ٹیلی وژن یا کسی کمپیوٹر اسکرین پر کوئی معیاری تعلیمی پروگرام دیکھیں، تو اول تو اس کا دورانیہ بھی زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ والدین میں سے کسی نہ کسی کو اس وقت بچے کے ساتھ بیٹھا ہونا چاہیے تاکہ بچے کی بہتر سمجھ کے لیے اس بات کی وضاحت بھی کی جا سکے کہ وہ کیا اور کیوں دیکھ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی ان ہدایات میں اس امر کی کھل کر وضاحت نہیں کی کہ ٹی وی یا کسی دوسری اسکرین کو بہت زیادہ دیکھنے سے کسی کم سن بچے کی صحت پر کیا کیا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم ڈبلیو ایچ او نے ساتھ ہی یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی کافی جسمانی مصروفیات اور ورزش کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے لیے ہر روز کافی حد تک لمبی نیند کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ماہرین نے اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ چھوٹے بچوں میں جسمانی بھاگ دوڑ کی کمی اور سستی ان میں موٹاپے کی وجہ بنتی ہےاور موٹاپا آج کل کے بچوں کے صحت اور زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو وقفے وقفے سے لیکن ہر روز مجموعی طور پر کم از کم بھی آدھ گھنٹہ پیٹ کے بل لٹائے رکھنا چاہیے کیونکہ ان کے لیے یہ بھی ایک ورزش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سال سے زائد عمر کے بچوں کو روزانہ کم از کم بھی تین گھنٹے تک کسی نہ کسی جسمانی مصروفیت یا کھیل میں مشغول رکھا جانا چاہیے تاکہ وہ ایکٹو رہ سکیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں