اہم خبریں

رمضان المبارک کے موقع پر ترکی میں حضورﷺ کی کونسی قیمتی ترین چیز زیارت کیلئے رکھ دی ، عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

  اتوار‬‮ 12 مئی‬‮‬‮ 2019  |  16:52
انقرہ(این این آئی)رمضان المبارک کے موقع پر ترکی میں حضورﷺ کا جبہ مبارک لوگوں کی زیارت کیلئے رکھ دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کاٹن ، ریشم اور لیلن سے تیار کیے گئے جبہ مبارک سے متعلق روایت ہے کہ اسے حضورﷺ نے زیب تن کیا تھا اور خلافت عثمانیہ کے دور میں 17 ویں صدی میں اسے استنبول لایا گیا تھا۔ہر سال ماہ رمضان میں مقامی افراد اور سیاحوں کی بڑی تعدادجبہ مبارک کی زیارت کیلئے آتی ہے۔ رمضان کے پہلے جمعے سے لے کر پورا ماہ جبہ مبارک کو عام نمائش کیلئے رکھا جاتا ہے۔اس سلسلے میں ایک تقریب

(خبر جا ری ہے)

بھی کیا گیا جس میں حضرت اویس قرنی کے خاندان کے ایک فرد اور سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔ لوگوں کی بڑی تعداد جبہ مبارک کی زیارت کیلئے پہنچی تھی۔مذکورہ جبہ مبارک حضرت اویس قرنی کو اس وقت دیا گیا تھا جب وہ حضرت محمدﷺ سے ملنے مدینہ تشریف لے گئے لیکن ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔ حضورﷺ کو جب علم ہوا تو انہوں نے اپنے ساتھوں کے ہاتھ مذکورہ جبہ حضرت اویس قرنی کیلئے یمن بھجوایا تھا۔حضرت اویس قرنی کی کوئی اولاد نہیں تھی لہذا وفات کے بعد جبہ مبارک ان کے بھائی کے پاس چلا گیا اور اب تک ان کے خاندان کے پاس ہے۔17 ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان احمد اول نے اویس قرنی کے خاندان سے جبہ مبارک استنبول لانے کی درخواست کی اور اس وقت سے ترکی میں ہی محفوظ ہے۔استنبول میں منتقل کرنے کے بعد اسے ایک شیشے کے باکس میں رکھا گیا جس کی ایک چابی سلطان احمد اول اور دوسری حضرت اویس قرنی کے خاندان کو دی گئی۔16 ویں صدی میں جب سلطان سلیم نے مصر پر حملہ کیا تو اس وقت بھی حضورﷺ سے نسبت رکھنے والی بہت ساری اشیا کو ترکی منتقل کیا گیا تھا جس میں حضورﷺ کا دانت، نعلین مبارک، مے مبارک اور پانی پینے والا پیالہ بھی شامل ہیں۔

انقرہ(این این آئی)رمضان المبارک کے موقع پر ترکی میں حضورﷺ کا جبہ مبارک لوگوں کی زیارت کیلئے رکھ دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کاٹن ، ریشم اور لیلن سے تیار کیے گئے جبہ مبارک سے متعلق روایت ہے کہ اسے حضورﷺ نے زیب تن کیا تھا اور خلافت عثمانیہ کے دور میں 17 ویں صدی میں اسے استنبول لایا گیا تھا۔ہر سال ماہ رمضان میں مقامی افراد اور سیاحوں کی

بڑی تعدادجبہ مبارک کی زیارت کیلئے آتی ہے۔ رمضان کے پہلے جمعے سے لے کر پورا ماہ جبہ مبارک کو عام نمائش کیلئے رکھا جاتا ہے۔اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں حضرت اویس قرنی کے خاندان کے ایک فرد اور سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔ لوگوں کی بڑی تعداد جبہ مبارک کی زیارت کیلئے پہنچی تھی۔مذکورہ جبہ مبارک حضرت اویس قرنی کو اس وقت دیا گیا تھا جب وہ حضرت محمدﷺ سے ملنے مدینہ تشریف لے گئے لیکن ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔ حضورﷺ کو جب علم ہوا تو انہوں نے اپنے ساتھوں کے ہاتھ مذکورہ جبہ حضرت اویس قرنی کیلئے یمن بھجوایا تھا۔حضرت اویس قرنی کی کوئی اولاد نہیں تھی لہذا وفات کے بعد جبہ مبارک ان کے بھائی کے پاس چلا گیا اور اب تک ان کے خاندان کے پاس ہے۔17 ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان احمد اول نے اویس قرنی کے خاندان سے جبہ مبارک استنبول لانے کی درخواست کی اور اس وقت سے ترکی میں ہی محفوظ ہے۔استنبول میں منتقل کرنے کے بعد اسے ایک شیشے کے باکس میں رکھا گیا جس کی ایک چابی سلطان احمد اول اور دوسری حضرت اویس قرنی کے خاندان کو دی گئی۔16 ویں صدی میں جب سلطان سلیم نے مصر پر حملہ کیا تو اس وقت بھی حضورﷺ سے نسبت رکھنے والی بہت ساری اشیا کو ترکی منتقل کیا گیا تھا جس میں حضورﷺ کا دانت، نعلین مبارک، مے مبارک اور پانی پینے والا پیالہ بھی شامل ہیں۔

loading...