اہم خبریں

روحی بانو کی میت کا پاکستان لانے کیلئے کتنے ماہ لگ سکتے ہیں ؟ پاکستانی سفارت خانے نے واضح کر دیا

  ہفتہ‬‮ 9 فروری‬‮ 2019  |  17:19
انقرہ (آن لائن)معروف اداکارہ روحی بانو کی میت کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے 2 سے 4 ماہ کا وقت مانگ لیا ہے. اداکارہ روحی بانو کی میت ترکی سے پاکستان منتقل کرنے کے معاملے پر ترجمان پاکستانی سفارت نے کہا ہے کہ انقرہ میں پاکستانی سفارت خانہ روحی بانو کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے. ترکی کے طبی ماہرین کے مطابق روحی بانو کی میت کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے دو سے چار ماہ درکار ہیں. ترک حکام کی جانب سے اجازت ملتے ہی میت پاکستان منتقل کر دی جائے گی،

(خبر جا ری ہے)

کے سارے اخراجات حکومت پاکستان اٹھا رہی ہے.روحی بانو کی بہن روبینہ نے بتایا ہے کہ انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے معلومات سے آگاہ کر دیا ہے، میت پاکستان منتقل ہونے تک ترکی میں ہی قیام کریں گی.ماضی کی صف اول کی اداکارہ روحی بانو 26جنوری کو طویل علالت کے باعث ترکی میں انتقال کر گئی تھیں. روحی بانو گردوں سمیت متعدد امراض کا شکار تھیں اور علاج کی غرض سے ترکی کے شہر استنبول کے ایک ہسپتال میں دو ماہ زیر علاج رہیں وفات کے وقت ان کی عمر 67 برس تھی. روحی بانو بھارت کے مشہور طبلہ نواز استاد اللہ رکھا کی صاحبزادی اور طبلہ نواز استاد تاری خان کی سوتیلی بہن تھیں وہ 10 اگست 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئیں انہوں نے نفسیات میں ایم اے کیا.روحی بانو اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا غم سہہ نہ سکیں اور اس کے بعد وہ دن بدن بیمار ہوتی چلی گئیں. روحی بانو نے کئی مشہور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں کرن کہانی، زرد گلاب، دروازہ اور آخری گیت شامل ہیں روحی بانو کو ان کی فنی خدمات کے عوض 1981 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا. اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا دکھ انہیں اس قدر تھا کہ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئیں جس کے سبب وہ لاہور کے نفسیاتی امراض کے ہسپتال فاونٹین ہاس میں بھی کئی ماہ زیر علاج رہیں.#/s#

انقرہ (آن لائن)معروف اداکارہ روحی بانو کی میت کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے 2 سے 4 ماہ کا وقت مانگ لیا ہے. اداکارہ روحی بانو کی میت ترکی سے پاکستان منتقل کرنے کے معاملے پر ترجمان پاکستانی سفارت نے کہا ہے کہ انقرہ میں پاکستانی سفارت خانہ روحی بانو کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے.

ترکی کے طبی ماہرین کے مطابق روحی بانو کی میت کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے دو سے چار ماہ درکار ہیں. ترک حکام کی جانب سے اجازت ملتے ہی میت پاکستان منتقل کر دی جائے گی، جبکہ اس کے سارے اخراجات حکومت پاکستان اٹھا رہی ہے.روحی بانو کی بہن روبینہ نے بتایا ہے کہ انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے نے معلومات سے آگاہ کر دیا ہے، میت پاکستان منتقل ہونے تک ترکی میں ہی قیام کریں گی.ماضی کی صف اول کی اداکارہ روحی بانو 26جنوری کو طویل علالت کے باعث ترکی میں انتقال کر گئی تھیں. روحی بانو گردوں سمیت متعدد امراض کا شکار تھیں اور علاج کی غرض سے ترکی کے شہر استنبول کے ایک ہسپتال میں دو ماہ زیر علاج رہیں وفات کے وقت ان کی عمر 67 برس تھی. روحی بانو بھارت کے مشہور طبلہ نواز استاد اللہ رکھا کی صاحبزادی اور طبلہ نواز استاد تاری خان کی سوتیلی بہن تھیں وہ 10 اگست 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئیں انہوں نے نفسیات میں ایم اے کیا.روحی بانو اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا غم سہہ نہ سکیں اور اس کے بعد وہ دن بدن بیمار ہوتی چلی گئیں. روحی بانو نے کئی مشہور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں کرن کہانی، زرد گلاب، دروازہ اور آخری گیت شامل ہیں روحی بانو کو ان کی فنی خدمات کے عوض 1981 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا. اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا دکھ انہیں اس قدر تھا کہ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئیں جس کے سبب وہ لاہور کے نفسیاتی امراض کے ہسپتال فاونٹین ہاس میں بھی کئی ماہ زیر علاج رہیں.#/s#

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں