اہم خبریں

والدین کی وفات کے بعد جائیداد کے انتقال کیلئے وراثتی سرٹیفکیٹ کیلئے عدالتوں میں دھکے کھانے کا دور چلا گیا؟اب 15دن میں وراثتی سرٹیفکیٹ کہاں سے مل جایا کریگا؟ پی ٹی آئی حکومت نے شاندار اعلان کر دیا

  پیر‬‮ 14 جنوری‬‮ 2019  |  18:10
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بلیک لسٹ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے، سیکرٹری داخلہ کو منگل کو کو طلب کر لیا، کمیٹی ارکان نے کہا کہ وزارت داخلہ پہلے ہی کہ چکی ہے کہ بلیک لسٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، کس قانون کے تحت افراد کے نام بلیک لسٹ میں ڈالے جاتے ہیں،افراد کو سفر کرنے سے روکناآئین کے آرٹیکل15کی خلاف ورزی ہے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں وزارت داخلہ بتا چکی ہے کہ ایسی کوئی بلیک لسٹ موجود نہیں ہے،وفاقی وزیر قانون

(خبر جا ری ہے)

نسیم نے کہا کہ وزاثتی سرٹیفکیٹ کا حصول آسان بنانے کیلئے حکومت نیا قانونوراثتی سرٹیفکیٹ ایکٹ 2018پیش کرے گی، نادرا میں خصوصی یونٹ قائم کریں گے جس میں پروفیشنل افراد کو بھرتی کیا جائے گا،یہ سہولت ابتدائی طور پر اسلام آبادد میں شروع کی جائے گی، نئے قانون کے تحت نادرا15دن کے اندر وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس سینیٹر محمد جاوید عباسی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر حاصل خان بزنجو، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر مصطفی نواش کھوکھر، سینیٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزارت داخلہ، وزارت قانون اور دیگر حکام نے شرکت کی۔کمیٹی اجلاس میں وراثتی سرٹیفکیٹ کا معاملہ زیر غور آیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ پاکستان میں وراثتی سرٹیفکیٹ کا حصول نہایت مشل بن چکا ہے۔مرحوم کے وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے مرحول کے ورثاعدالتوں کے دھکے کھاتے ہیں ۔ وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراکا حصول آسان بنانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت ورثتی سرٹیفکیٹکے اجراکو آسان بنانا چاہتی ہے۔95فیصد مقدمات میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔جن افراد کے ورثابیرون ملک ہوں ان کو وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کیسز5فیصد ہوتے ہیں۔وزاثتی سرٹیفکیٹ کا حصول آسان بنانے کیلئے حکومت نیا قانون متعارف کرائے گی۔اس قانون کے تحت نادرا15دن کے اندر وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔ اس قانون میں نادرا کوبنیادی ذمہ داری سونپی جائے گی۔عدالت کی بجائے نادرا وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔ اس حوالے سے نادرا میں خصوصی یونٹ قائم کریں گے جس میں پروفیشنل افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔یہ سہولت ابتدائی طور پر اسلام آطاد میں شروع کی جائے گی۔ اگر اسلام آباد میں یہ سہولت کامیاب رہی تو پورے ملک میں اس کا نفاظ کریں گے۔ اس حوالے سے تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کرنے کو تیار ہیں ۔اس پر سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ اس سے قبل چیئرمین نادرا سینیٹ کمیٹی میں کہ چکے ہیں کہ ان کے پاس وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں ہے۔نادرا وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے گارنٹی دینے کیلئے تیار نہیں کہ اس نظام میں کوئی خامی نہیں ہوگی۔اس نظام میں جعل سازی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔وزیر قانون نے کہا کہ نادرا کا نظام بہت بہتر ہو چکا ہے۔نادرا کا خصوصی یونٹ تمام صلاحیت سے مزین ہوگا۔اس موقع پر اسلام آباد ایسو سی ایشن کے نائب صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ نظام میں وراثتی سرٹیفکیٹ 2ماہ کے اندر جاریکر دیا جاتا ہے۔ اس نظام میں عدالتوں کی جانب سے کوئی تاخیر نہیں کی جاتی۔ عدالتوں کا اختیار نادرا کو دینا درست نہیں ہوگا۔ دی جی نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت قانون نے وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنےمیں حائل مشکلات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔وراثتی سرٹیفکیٹ کے حسول کیلئے نئے قانون کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اسلام آباد میں ناز کریں گے۔اس پر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس سے قبل بھی نادرا نے شناختی کارڈ جاری کرنے میں17لاکھ شناختی کارڈوں میں گڑ بڑ کی۔نادرا کا بنیادی کام شناختی کارڈ جاری کرنا ہے جو وہ اچھیطرح ادا نہیں کر سکا۔ وراژتی سرٹیفکیٹ جاری کرنےکا پیچیدہ کام نادرا کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔5فیصد لوگوں کیلئے95فیصد افراد کو مشکلات میں نہیں ڈال سکتے۔نئے قانون کے بجائے پرانے قانون میں موجود سقم کو دور کیا جائے۔کمیٹی نے معاملہ مزید بحث کیلئے اگلے اجلاس تک مخر کر دیا۔ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر صابر شاہ نے آئین کے فورتھ شیڈیول میں ترمیم کا بل پیش کیا ۔ سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ قرآن پاک کی چھپائی میں کم کوالٹی کاپیپر استعمال کیا جا رہا ہے جس کے باعث قرآن پاک کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔قرآن پاک کی چھپائیکیلئے عمدہ کوالٹی کا پیپر استعمال کیا جانا چاہیے۔اس کیلئے قانون میں میں ترمیم کی ضرورت ہے۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ قرآن پاک کی اعلی کوالٹی کی چھپائی کیلئے سینٹرل اتھارٹی بنانے کی ضرورت ہے۔کمیٹی اجلاس میں سفرکرنے سے روکنے کیلئے بلیک لسٹ کا معاملہ زیر غور آیا۔کمیٹی ارکان نے کہاکہ کس قانون کے تحت بلیک لسٹ بنائی گئی ہے اور کس قانون کے تحت افراد کے نام بلیک لسٹ میں ڈالے جاتے ہیں۔افراد کو سفر کرنے سے روکنا آئین کے آرٹیکل15کی خلاف ورزی ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں وزارت داخلہبتا چکی ہے کہ ایسی کوئی بلیک لسٹ موجود نہیں ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے پی این آئی ایل لسٹ بناتے ہیں جس کے تحت افراد کو سفر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ کمیٹی نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ منگل کو ڈی جی ایف آئی اے، سیکرٹری داخلہ اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری بلک لسٹ کے معاملے پر طلب کر لیا۔(ع خ)

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بلیک لسٹ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے، سیکرٹری داخلہ کو منگل کو کو طلب کر لیا، کمیٹی ارکان نے کہا کہ وزارت داخلہ پہلے ہی کہ چکی ہے کہ بلیک لسٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، کس قانون کے تحت افراد کے نام بلیک لسٹ میں ڈالے جاتے ہیں،افراد کو سفر کرنے سے روکناآئین کے آرٹیکل15کی خلاف ورزی ہے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں وزارت داخلہ بتا چکی ہے

کہ ایسی کوئی بلیک لسٹ موجود نہیں ہے،وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ وزاثتی سرٹیفکیٹ کا حصول آسان بنانے کیلئے حکومت نیا قانونوراثتی سرٹیفکیٹ ایکٹ 2018پیش کرے گی، نادرا میں خصوصی یونٹ قائم کریں گے جس میں پروفیشنل افراد کو بھرتی کیا جائے گا،یہ سہولت ابتدائی طور پر اسلام آبادد میں شروع کی جائے گی، نئے قانون کے تحت نادرا15دن کے اندر وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس سینیٹر محمد جاوید عباسی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر حاصل خان بزنجو، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر مصطفی نواش کھوکھر، سینیٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزارت داخلہ، وزارت قانون اور دیگر حکام نے شرکت کی۔کمیٹی اجلاس میں وراثتی سرٹیفکیٹ کا معاملہ زیر غور آیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ پاکستان میں وراثتی سرٹیفکیٹ کا حصول نہایت مشل بن چکا ہے۔مرحوم کے وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے مرحول کے ورثاعدالتوں کے دھکے کھاتے ہیں ۔ وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراکا حصول آسان بنانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت ورثتی سرٹیفکیٹکے اجراکو آسان بنانا چاہتی ہے۔95فیصد مقدمات میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔جن افراد کے ورثابیرون ملک ہوں ان کو وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کیسز5فیصد ہوتے ہیں۔وزاثتی سرٹیفکیٹ کا حصول آسان بنانے کیلئے حکومت نیا قانون متعارف کرائے گی۔اس قانون کے تحت نادرا15دن کے اندر وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔ اس قانون میں نادرا کوبنیادی ذمہ داری سونپی جائے گی۔عدالت کی بجائے نادرا وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔ اس حوالے سے نادرا میں خصوصی یونٹ قائم کریں گے جس میں پروفیشنل افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔یہ سہولت ابتدائی طور پر اسلام آطاد میں شروع کی جائے گی۔ اگر اسلام آباد میں یہ سہولت کامیاب رہی تو پورے ملک میں اس کا نفاظ کریں گے۔ اس حوالے سے تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کرنے کو تیار ہیں ۔اس پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا

کہ اس سے قبل چیئرمین نادرا سینیٹ کمیٹی میں کہ چکے ہیں کہ ان کے پاس وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں ہے۔نادرا وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے گارنٹی دینے کیلئے تیار نہیں کہ اس نظام میں کوئی خامی نہیں ہوگی۔اس نظام میں جعل سازی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔وزیر قانون نے کہا کہ نادرا کا نظام بہت بہتر ہو چکا ہے۔نادرا کا خصوصی یونٹ تمام صلاحیت سے مزین ہوگا۔اس موقع پر اسلام آباد ایسو سی ایشن کے نائب صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ نظام میں وراثتی سرٹیفکیٹ 2ماہ کے اندر جاری

کر دیا جاتا ہے۔ اس نظام میں عدالتوں کی جانب سے کوئی تاخیر نہیں کی جاتی۔ عدالتوں کا اختیار نادرا کو دینا درست نہیں ہوگا۔ دی جی نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت قانون نے وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنےمیں حائل مشکلات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔وراثتی سرٹیفکیٹ کے حسول کیلئے نئے قانون کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اسلام آباد میں ناز کریں گے۔اس پر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس سے قبل بھی نادرا نے شناختی کارڈ جاری کرنے میں17لاکھ شناختی کارڈوں میں گڑ بڑ کی۔نادرا کا بنیادی کام شناختی کارڈ جاری کرنا ہے جو وہ اچھی

طرح ادا نہیں کر سکا۔ وراژتی سرٹیفکیٹ جاری کرنےکا پیچیدہ کام نادرا کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔5فیصد لوگوں کیلئے95فیصد افراد کو مشکلات میں نہیں ڈال سکتے۔نئے قانون کے بجائے پرانے قانون میں موجود سقم کو دور کیا جائے۔کمیٹی نے معاملہ مزید بحث کیلئے اگلے اجلاس تک مخر کر دیا۔ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر صابر شاہ نے آئین کے فورتھ شیڈیول میں ترمیم کا بل پیش کیا ۔ سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ قرآن پاک کی چھپائی میں کم کوالٹی کاپیپر استعمال کیا جا رہا ہے جس کے باعث قرآن پاک کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔قرآن پاک کی چھپائی

کیلئے عمدہ کوالٹی کا پیپر استعمال کیا جانا چاہیے۔اس کیلئے قانون میں میں ترمیم کی ضرورت ہے۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ قرآن پاک کی اعلی کوالٹی کی چھپائی کیلئے سینٹرل اتھارٹی بنانے کی ضرورت ہے۔کمیٹی اجلاس میں سفرکرنے سے روکنے کیلئے بلیک لسٹ کا معاملہ زیر غور آیا۔کمیٹی ارکان نے کہاکہ کس قانون کے تحت بلیک لسٹ بنائی گئی ہے اور کس قانون کے تحت افراد کے نام بلیک لسٹ میں ڈالے جاتے ہیں۔افراد کو سفر کرنے سے روکنا آئین کے آرٹیکل15کی خلاف ورزی ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں وزارت داخلہ

بتا چکی ہے کہ ایسی کوئی بلیک لسٹ موجود نہیں ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے پی این آئی ایل لسٹ بناتے ہیں جس کے تحت افراد کو سفر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ کمیٹی نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ منگل کو ڈی جی ایف آئی اے، سیکرٹری داخلہ اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری بلک لسٹ کے معاملے پر طلب کر لیا۔(ع خ)

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں