اہم خبریں

اب ریلوے سٹیشن پر مریضوں کو ادویات بھی ملیں گی!! شیخ رشیدنے عوام کیلئے مزید کیا شاندار اعلانات کر دئیے

  ہفتہ‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2018  |  17:16
لاہور( بیورورپورٹ)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نجی شعبے نے اپنے لوکو موٹیو اور ویگنز کے ساتھ فریٹ ٹرینیں چلانے کی بات کی ہے جس کی منظوری دیدی ہے اور اس کیلئے سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل پاگئی ہے ، 31دسمبر سے پہلے ایم ایل Iکا فیصلہ ہو جائے گا اور ہماری کوشش ہے کہ ایم ایل IIاورIIIکو بھی میدان میں لے کر آئیں، راولپنڈی لاہور کےدرمیان گجر خان ، جہلم کے درمیان 59کلو میٹر کے پہاڑی کرو کو ختم کرنے کیلئے بی او ٹی کی بنیاد پر ٹینڈر دے رہے ہیں ۔ ان

(خبر جا ری ہے)

اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے کی آمدن میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ بیس ٹرینیں اپ اینڈ ڈائون کر کے ساڑھے 6لاکھ لیٹر تیل بھی بچایا ہے ۔اس ماہ کے اختتام تک لاہور ،کراچی کی پیشگی بکنگ کی وجہ سے تمام ٹکٹیں ختم ہو چکی ہیں ، بعض روٹس پر ہفتہ اور اتوار کو ٹرینوں میں جگہ نہیں ہوتی اور مسافر چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں ، میں نے سختی سے منع کیا ہے کہ کسی بھی مسافر کو چھت پر بیٹھ کر سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔شیخ رشید نے کہا کہ تمام بڑے اسٹیشنزپر فارمیسی شاپس کھولنے کیلئے ٹینڈر دینے کا کہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے 24دسمبر کو کیس کا فیصلہ کرنا ہے اور جو بھی فیصلہ آئے گا اسے قبول کریں گے، ہم ایک ہزارپیٹرول پمپس کی سائٹس لیز پر دینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 70سال سے کھڑی خراب ویگنوں کے سٹاک سے بھی 31دسمبر تک نفع آنے کی توقع ہے ۔ ہم ہر ڈویژن میں آئی ٹی سسٹم بنارہے ہیں ، تمام لوکو شیڈز کو کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں اور یہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں گے کیونکہ یہاں سامان ادھر اْ دھر ہو رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ریلوے دھند کے باعث موٹروے پر سفرمیں مشکلات کےدوران مسافروں کو ریسکیو کرنے کیلئے تیار ہے اور وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ ضرور ت پڑنے پر لاہور سے رات آٹھ بجے اور راولپنڈی سے صبح دس بجے ٹرین چلائی جائے ۔ انہوںنے کہا کہ رحمان بابا ایکسپریس چلانے جارہے ہیں اور 23دسمبر تک اس کا کرایہ پچاس فیصد کم کر دیا گیا ہے جو675روپے ہوگا ۔ہماری توجہ فریٹ پر مرکوز ہے اور ہم اس میں انقلاب لائیں گے ،ایم ایل ون کا 31دسمبر سے پہلے فیصلہ ہو جائے گا،اس کے لئے موڈ آف انویسٹمنٹ، کاسٹ اور دیگر شرائظ کے حوالے سے جائزہ لے کر جلد قوم کو خوشخبری سنائیں گے،ہم چاہتے ہیں کہ چین کے تعاون سے جائز قیمت اور جائز شرح سود کے ساتھ اس کو آگے لے کر چلیں ۔ایف ڈبلیو اواوراین ایل سی نے ٹینڈر کیلئے دلچسپی لی ہے۔ ہم ان کے 10لوکوموٹیو استعمال کر رہے ہیں جن کا انہیں سال کاپانچ کروڑ روپے کرایہ ادا کر رہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ریلوے کی آمدن میں تین ماہ میں 120فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ریلوے کو اپنی آمدنی سے چلا رہے ہیں ،ہم فریٹ میں بھی اضافہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوںٰنے کہا کہ سابقہ حکمران جو ریلوے کے مستقبل کی منصوبہ بندی کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے انہوںنے سوائے پروکیورمنٹ کے کچھ نہیں کیا ۔اگر انہوںنے آمدنی میں 32ارب کااضافہ کیا ہے تو سگنلز کا منصوبہ جو 8 ارب کا تھا اس کے اخراجات 32ارب تک آ چکے ہیں اس کے ذمہ دار بھی یہی لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ ریلوے کے ملازمین کا ایک گریڈ بڑھے اور اس کے لئے کوشاں ہوں ۔ وزیر ریلوے نے تسلیم کیا کہ دھند میں بلا تعطل آپریشن جاری رکھنے کیلئے جدید سسٹم نہیں لگا سکے ۔انہوں نے کہا کہ رائل پام ، بزنس ٹرین والوں نے ریلوے کوایک بڑی رقم ادا کرنی ہے ۔ انہوں سابقہ ادوار میں خریدے گئے انجنوں کی حالت کے حوالے سے کہا کہ ریلو ے کے ایک افسر سٹڈی کیلئے امریکہ گئے ہوئے ہیں ۔ جتنے بھی انجن خریدے گئے ان کی حالت اچھی نہیں بلکہ چالیس فیصد زائدقیمت پر خریداری کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کی باری ہے ، ہم ان کی کارکردگی دیکھیں گے اور جو ڈی ایس کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ اس عہدے پر نہیں رہے گا۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ انجن کھڑے ہیں اور موجودہ حکومت میں ایک بھی نیا انجن نہیں خریدا جائے گا۔

لاہور( بیورورپورٹ)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نجی شعبے نے اپنے لوکو موٹیو اور ویگنز کے ساتھ فریٹ ٹرینیں چلانے کی بات کی ہے جس کی منظوری دیدی ہے اور اس کیلئے سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل پاگئی ہے ، 31دسمبر سے پہلے ایم ایل Iکا فیصلہ ہو جائے گا اور ہماری کوشش ہے کہ ایم ایل IIاورIIIکو بھی میدان میں لے کر آئیں، راولپنڈی لاہور کےدرمیان گجر خان ، جہلم کے درمیان 59کلو میٹر کے پہاڑی کرو کو ختم کرنے کیلئے بی او ٹی کی بنیاد پر ٹینڈر دے رہے ہیں ۔ ان

خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے کی آمدن میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ بیس ٹرینیں اپ اینڈ ڈائون کر کے ساڑھے 6لاکھ لیٹر تیل بھی بچایا ہے ۔اس ماہ کے اختتام تک لاہور ،کراچی کی پیشگی بکنگ کی وجہ سے تمام ٹکٹیں ختم ہو چکی ہیں ، بعض روٹس پر ہفتہ اور اتوار کو ٹرینوں میں جگہ نہیں ہوتی اور مسافر چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں ، میں نے سختی سے منع کیا ہے کہ کسی بھی مسافر کو چھت پر بیٹھ کر سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔شیخ رشید نے کہا کہ تمام بڑے اسٹیشنزپر فارمیسی شاپس کھولنے کیلئے ٹینڈر دینے کا کہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے 24دسمبر کو کیس کا فیصلہ کرنا ہے اور جو بھی فیصلہ آئے گا اسے قبول کریں گے، ہم ایک ہزارپیٹرول پمپس کی سائٹس لیز پر دینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 70سال سے کھڑی خراب ویگنوں کے سٹاک سے بھی 31دسمبر تک نفع آنے کی توقع ہے ۔ ہم ہر ڈویژن میں آئی ٹی سسٹم بنارہے ہیں ، تمام لوکو شیڈز کو کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں اور یہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں گے کیونکہ یہاں سامان ادھر اْ دھر ہو رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ریلوے دھند کے باعث موٹروے پر سفرمیں مشکلات کےدوران مسافروں کو ریسکیو کرنے کیلئے تیار ہے اور وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ ضرور ت پڑنے پر لاہور سے رات آٹھ بجے اور راولپنڈی سے صبح دس بجے ٹرین چلائی جائے ۔ انہوںنے کہا کہ رحمان بابا ایکسپریس چلانے جارہے ہیں اور 23دسمبر تک اس کا کرایہ پچاس فیصد کم کر دیا گیا ہے جو675روپے ہوگا ۔ہماری توجہ فریٹ پر مرکوز ہے اور ہم اس میں انقلاب لائیں گے ،ایم ایل ون کا 31دسمبر سے پہلے فیصلہ ہو جائے گا،اس کے لئے موڈ آف انویسٹمنٹ، کاسٹ اور دیگر شرائظ کے حوالے سے جائزہ لے کر جلد قوم کو خوشخبری سنائیں گے،ہم چاہتے ہیں کہ چین کے تعاون سے جائز قیمت اور جائز شرح سود کے ساتھ اس کو آگے لے کر چلیں ۔ایف ڈبلیو اواوراین ایل سی نے ٹینڈر کیلئے دلچسپی لی ہے۔ ہم ان کے 10لوکوموٹیو استعمال کر رہے ہیں جن کا انہیں سال کاپانچ کروڑ روپے کرایہ ادا کر رہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ریلوے کی آمدن میں تین ماہ میں 120فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ریلوے کو اپنی آمدنی سے چلا رہے ہیں ،ہم فریٹ میں بھی اضافہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوںٰنے کہا کہ سابقہ حکمران جو ریلوے کے مستقبل کی منصوبہ بندی کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے انہوںنے سوائے پروکیورمنٹ کے کچھ نہیں کیا ۔اگر انہوںنے آمدنی میں 32ارب کااضافہ کیا ہے تو سگنلز کا منصوبہ جو 8 ارب کا تھا اس کے اخراجات 32ارب تک آ چکے ہیں اس کے ذمہ دار بھی یہی لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ ریلوے کے ملازمین کا ایک گریڈ بڑھے اور اس کے لئے کوشاں ہوں ۔ وزیر ریلوے نے تسلیم کیا کہ دھند میں بلا تعطل آپریشن جاری رکھنے کیلئے جدید سسٹم نہیں لگا سکے ۔انہوں نے کہا کہ رائل پام ، بزنس ٹرین والوں نے ریلوے کوایک بڑی رقم ادا کرنی ہے ۔ انہوں سابقہ ادوار میں خریدے گئے انجنوں کی حالت کے حوالے سے کہا کہ ریلو ے کے ایک افسر سٹڈی کیلئے امریکہ گئے ہوئے ہیں ۔ جتنے بھی انجن خریدے گئے ان کی حالت اچھی نہیں بلکہ چالیس فیصد زائدقیمت پر خریداری کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کی باری ہے ، ہم ان کی کارکردگی دیکھیں گے اور جو ڈی ایس کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ اس عہدے پر نہیں رہے گا۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ انجن کھڑے ہیں اور موجودہ حکومت میں ایک بھی نیا انجن نہیں خریدا جائے گا۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں