اہم خبریں

’’دنیا دیکھے گی‘‘ ’’عظیم مسلمان بادشاہ امیر تیمور کی قبر کھود کر انہیں باہر نکالو‘‘ جب ایک لا دین بادشاہ نے یہ حکم دیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

  ہفتہ‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2018  |  17:12
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ حقیقت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سوویت رہنما جوزف سٹالن، قطع نظر اس کے کہ وہ رسمی طور پہ لادین تھے، لیکن اصل میں وہ بھی پراسرار طاقتوں پر یقین رکھتے تھے۔ سٹالن کو علم تھا کہ نازی جرمنی کے ساتھ جنگ سے بچنا ممکن نہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ جنگ 1941ء میں نہیں بلکہ دو تین سال بعد شروع ہوگی۔ ہٹلر کا حملہ سٹالن کے لیے غیر متوقع رہا تھا۔22 جون 1941ء کو جرمنی کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں سوویت یونین کی سرحد پہ پہنچ گئے تھے۔ ہٹلر کی فوجیں

(خبر جا ری ہے)

تک یورپ کے بیشتر حصے کو زیر کر چکی تھیں، ناقابل یقین حد تک طاقتور تھیں۔ ہٹلر کا منصوبہ تھا کہ تیزی کے ساتھ حملہ کرکے ماسکو کو آناً فاناً قبضے میں لے لیا جائے۔ شروع میں جرمن فوج کو کامیابی حاصل ہوتی گئی۔ سوویت فوج کو پے در پے شکست ہوتی چلی گئی تھی۔ لڑائی ماسکو کے بہت نزدیک پہنچ چکی تھی۔ موسم خزاں میں سوویت دارالحکومت میں خوف پھیل چکا تھا۔ حکومتی عہدے داروں کو یہاں سے نکال لے جانے کی بات ہو رہی تھی۔ اس مقصد کی خاطر انتہائی رازداری کے ساتھ ایک خصوصی ریل گاڑی تیار کر لی گئی تھی جسے نامعلوم منزل کی جانب روانہ ہونا تھا۔ان دنوں ماسکو کے نواح میں ایک پرہیز گار بوڑھی عورت رہا کرتی تھیں، روسی عیسائی ان کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ وہ نابینا پیدا ہوئی تھیں لیکن روحانی بصارت کی بنیاد پر عام لوگوں سے کہیں زیادہ نگاہ رکھتی تھیں۔ وہ مریضوں کے علاج اور پیشین گوئی کرنے پر قدرت رکھتی تھیں۔ دارالحکومت کو خیر باد کہنے کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے سٹالن ان دنوں ان کے پاس پہنچے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ ان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے تو نیک عورت کھڑکی کی جانب منہ کیے بیٹھی تھیں اور ان کی پشت سٹالن کی جانب تھی۔سٹالن داخل ہوئے اور اپنے ہمراہی کو چلے جانے کا اشارہ کیا۔ بوڑھی خاتون خاموش رہیں۔ سٹالن کھنکارے۔’’سٹالن! کہیں تمہیں زکام تو نہیں ہو گیا؟‘‘ پرہیزگار خاتون نے دھیرے سے استفسار کیا تھا۔’’آداب!‘‘ سٹالن نے فوری جواب دیا اور کہا، ’’میں ٹھیک ٹھاک ہوں۔‘‘’’یہ ہوئی نہ بات۔ اب تمہارا صحت یاب رہنا ہی کارآمد ہوگا۔ حالات دشوار ہیں اور جلد ٹھیک ہونے والے نہیں۔مگر فرار ہونے کی خاطر خصوصی ریل گاڑی یونہی تیار کر لی گئی ہے۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘’آپ کو کیسے معلوم ہے؟‘‘ سٹالن نے حیران ہو کر پوچھا تھا۔’’رب عالم کی جانب سے‘‘، پرہیزگار خاتون نے دھیرج سے کہا تھا۔’’مت جانا۔ جرمن ماسکو میں داخل نہیں ہوں گے۔‘‘’’کیا میری فتح بھی ہوگی؟‘‘نیک خاتون نے گردن گھمائی: ’’تمھاری نہیں، ہماری، تمام لوگوں کی فتح ہوگی۔کیونکہ رب عالم ہمارے ساتھ ہے۔ ہاں تمہاری فتح بھی ہوگی۔۔۔ کیا فیصلہ کیا ہے،نہیں جاؤگے ناں؟‘‘سٹالن نے ایک کے بعد دوسرے قدم پہ زور دیتے ہوئے جوتیاں چرچرائیں تھیں اور کہا: ’’سوچنا پڑے گا۔‘‘سٹالن ماسکو سے نہیں گئے تھے۔ ہٹلر کی کمان نے ماسکو کو سات نومبر 1941ء کو قبضے میں لینے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن عین اس روز کریملن کی دیوار کے اس جانب سرخ فوج کی پریڈ ہوئی تھی۔سلامی جوزف سٹالن نے لی۔ ٹینکوں کے پہیوں پہ چڑھے زنجیری حلقے جھنجھنا رہے تھے۔ فوجیوں کی قطاروں میں سائیبیریا سے پہنچے ہوئے لڑاکا دستے اور مشرق بعید سے آئے ہوئے چھاتہ بردار شامل تھے۔ پریڈ کے فوراً بعد وہمحاذ کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ دنیا میں اس پریڈ کی خبر سے زیادہ اہم خبر نہیں تھی۔ ماسکو کے نواح میں نازی فوج پہ جوابی حملہ کیا جا چکا تھا۔ سوویت کیمرہ مینوں نے’’ماسکو کے نواح میں جرمن فوج کی ہزیمت‘‘ کے نام سے فلم تیار کی تھی۔ اسے دنیا کے کئی ملکوں میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں اس فلم کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی تھی کیونکہ وہ پہلا ملک تھا جو ہٹلر مخالف اتحاد کا حصہ بنا تھا۔ وہاں کے لوگ یورپ اور افریقہ کے محاذوں پر نازیوں کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ 1943ء میں ماسکو کے نواح میں ہونے والی لڑائی سے متعلق اس دستاویزی فلم کو بہترین دستاویزی فلم کے طور پر ’’آسکر‘‘انعام دیا گیا۔ایسے لوگوں کو جو پیش بینی کرنے کی صلاحیترکھتے ہیں، خیر و شر کے درمیاں بڑی لڑائیوں کا نقشہ بہت اچھی طرح سے دکھائی دے جاتا ہے۔ جیسا کہ حقیقی واقعات نے دکھا دیا تھا کہ ایسے لوگوں کی پیش گوئیاں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی تھیں۔عمل تنویم (مسمریزم، جس میں کسی شخص کے اعصاب پر قابو پا کر اسے سلا دیا جاتا ہے) کے نامور ماہر، پیش بین اور شعبدہ باز وولف میسنگ نے، جو بہت سے ملکوں میں اپنا شو پیش کیا کرتے تھے،ایک بار سٹیج پہ کہہ دیا کہ اگر جرمنی نے سوویت یونین کے خلاف جنگ چھیڑ دی تو خود جرمنی کا ہٹلر جان سے چلا جائے گا۔ ہٹلر کو جب یہ بات معلومہوئی تو اسے بہت غصّہ آیا۔ اس نے میسنگ کے سر کی قیمت دولاکھ جرمن مارک لگا دی۔ نازیوں کی خفیہ ایجنسی وارسا میں میسنگ کو حراست میں لینے میں کامیاب بھی ہو گئی، لیکن گسٹاپو کے چنگل سے نکلنے کے لیے میسنگ نے محافظوں پر نیند طاری کر دی اور حراست سے بھاگ نکلا۔ پھر وہ سوویت یونین پہنچ گیا۔سوویت شہروں میں میسنگ کے شو بہت زیادہ مقبول رہے تھے۔ وہ لوگوں پہ عمل تنویم کرتا اور لوگوں کی سوچ پڑھ کر بتایا کرتا تھا۔ 1940ء کے موسم سرما میں، سوویت یونین پر جرمنی کے حملے سے کئی ماہ پیشتر اس نے سرخ فوجکی فتح کی پیشین گوئی کر دی۔ میسنگ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے برلن کی سڑکوں پر سرخ ستارے سے مزین ٹینک چشم تصور میں دیکھے ہیں۔1943ء میں ایک شو کے دوران اس نے فتح کی حتمی تاریخ 9 مئی بھی بتا دی۔ اس پیشین گوئی کے بارے میں سٹالن کو معلوم ہو گیا۔ پھر جب 9 مئی 1945ء کو جرمنی نے شکست کی دستاویز پر دستخط کر دیئے تو سٹالن نے میسنگ کو تہنیتی تار ارسال کیا۔جنگ کے بعد سٹالن نے میسنگ کو کریملن میں طلب کیا۔ فنکار نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ سوویت حاکم، پائپ پیتے رہے اور کوئی خاص حیرت کا مظاہرہ نہیں کیا،بس پوچھا: ’’یہ بتائیں کہ اگر میں آپ کو یہاں سے باہر نہ نکلنے دینے کا حکم صادر کر دوں تو کیا آپ کریملن سے نکلسکتے ہیں؟‘‘’’کوشش کرکے دیکھوں گا۔‘‘یہ کہہ کر میسنگ نے سٹالن سے رخصت لی اور دروازے سے باہر نکل گئے۔ وہ تمام حفاظتی حد بندیوں سے گذرتے ہوئے اپنے گھر پہنچ گیا۔ شام کو سٹالن نے انہیں فون کیا: ’’یہ بتائیں کہ آپ نے ایسا کیونکر کیا؟ سب حفاظتی چوکیوں کو حکم تھا کہ آپ کو جانے نہ دیں۔‘‘’’بہت آسان تھا۔ آپ نے تو میسنگ کو جانے نہ دینے کا حکم دیا تھا۔ مجھے محافظوں کے دماغ میں ڈالنا پڑا تھا کہ میں مارشل ووروشیلوو ہوں۔‘‘1941ء کے موسم گرما میں، سوویت یونین پر فسطائی جرمنی کی یلغار سے کچھ کم عرصہ پہلے سٹالن نےاپنے ہاتھوں سے امیر تیمور کے خاندان کی ابدی آرام گاہوں کو کھولے جانے کا حکم لکھا تھا۔ عظیم جنگجو تیمور نے پندھرویں صدی میں وسطی ایشیا میں ایک بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ سالہا سال تک روس، ہندوستان، ایران اور چین سے برسرپیکار رہے تھے۔تیمور کا مزار سوویت یونین کے شہر سمرقند میں واقع تھا۔ علم الحفریات کے ماہرین کا ایک بڑا گروہ وہاں پہ بھیجا گیا تھا جس کے ساتھ خفیہ ایجنسیکے اہلکار بھی تھے۔ کھدائی کا کام بہت سرعت سے کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے تیمور کے بیٹوں اور پوتوں کی ہڈیاں نکالی گئی تھیں۔ ان کی قبروں کے نیچے سبز رنگ کے سنگ خارا کی تین ٹن وزنی سل دھری تھی۔ اس پر تیمور کے بہت زیادہ اسماء کندہ تھے اور اس کامقبرہ کھولنے کی جسارت کرنے والے کے لیے انتباہ درج تھا،’’تیمور کے احکام کو پامال کرنے والے کو سزا ملے گی اور ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی۔‘‘ ان ڈراونے الفاظ نے محققین کو لرزہ براندام کر دیا تھا لیکن سل کو پھر بھی ہٹایا گیا تھا۔ تیمور کی قبر 21جون 1941ء کو فاش کی گئی تھی۔ اگلے روز 22 جون تھا جب قبر کھودنے والوں نے ریڈیو پر خبر سنی تھی کہ نازی جرمنی نے حملہ نہ کرنے کا معاہدہ توڑتے ہوئے، سوویت یونین پہ یلغار کر دی تھی۔مہم کے اراکین ماسکو لوٹ آئے تھے۔کھدائی کے نتائج سے متعلق اور ہولناک تنبیہہ کے بارے میں سٹالن کو کچھ ماہ بعد ہی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے اسی لمحے حکم جاری کر دیا کہ عظیم جنگجو اور ان کے رشتے داروں کی ہڈیوں کو پھر سے دفنا دیا جائے۔ تین حقائق پہ توجہ کیا جانا بہت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ تیموریوں کی باقیات کی پھر سے تدفین کے لیے اس زمانے کے حساب سے بہت زیادہ رقم مختص کی گئی تھی،اس رقم سے تب سولہ ٹینک بنائے جا سکتے تھے۔ دوسری یہ کہ دوبارہ دفن کیے جانے سےپہلے پورے ایک ماہ تک تیمور کی ہڈیاں ماہرین حفریات کی نظروں سے اوجھل رہی تھیں۔ مسلمان سپاہیوں نے، جو سرخ فوج میں کچھ کم نہیں تھے، تصدیق کی تھی کہ اس اثناء میں تیمور کی ہڈیاں محاذوں پہ لائی گئی تھیں۔ انہوں نے ان سے اسی طرح جذبہ جنگ حاصل کیا تھا جس طرح عیسائی اپنی مقدس اشیاء سے لیتے تھے اور آخری حقیقت یہ کہ تیمور اور اس کے خاندان کی ہڈیاں مکمل طور پر 20 دسمبر 1942ء کو پھر سے دفن کر دی گئی تھیں۔یہی وہ روز تھا جب سٹالن گراڈ کی لڑائی میں سوویت فوج نے جرمن فوج کو پسپا کرنا شروع کیا تھا اور یوں پےلیوس کی فوج کا گھیرا توڑ ڈالا تھا۔ اس کامیابی سے سٹالن گراڈ کے گرد مجتمع جرمن فوج کی ہمت ٹوٹ گئی۔ ڈیڑھ ماہ بعد مارشل پے لیوس کو اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ سٹالن گراڈ کے نواح میں سوویت فوج کی فتح دوسری جنگ عظیم کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ حقیقت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سوویت رہنما جوزف سٹالن، قطع نظر اس کے کہ وہ رسمی طور پہ لادین تھے، لیکن اصل میں وہ بھی پراسرار طاقتوں پر یقین رکھتے تھے۔ سٹالن کو علم تھا کہ نازی جرمنی کے ساتھ جنگ سے بچنا ممکن نہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ جنگ 1941ء میں نہیں بلکہ دو تین سال بعد شروع ہوگی۔ ہٹلر کا حملہ سٹالن کے لیے غیر متوقع رہا تھا۔22 جون 1941ء کو جرمنی کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں سوویت یونین کی سرحد پہ پہنچ گئے تھے۔

ہٹلر کی فوجیں جو تب تک یورپ کے بیشتر حصے کو زیر کر چکی تھیں، ناقابل یقین حد تک طاقتور تھیں۔ ہٹلر کا منصوبہ تھا کہ تیزی کے ساتھ حملہ کرکے ماسکو کو آناً فاناً قبضے میں لے لیا جائے۔ شروع میں جرمن فوج کو کامیابی حاصل ہوتی گئی۔ سوویت فوج کو پے در پے شکست ہوتی چلی گئی تھی۔ لڑائی ماسکو کے بہت نزدیک پہنچ چکی تھی۔ موسم خزاں میں سوویت دارالحکومت میں خوف پھیل چکا تھا۔ حکومتی عہدے داروں کو یہاں سے نکال لے جانے کی بات ہو رہی تھی۔ اس مقصد کی خاطر انتہائی رازداری کے ساتھ ایک خصوصی ریل گاڑی تیار کر لی گئی تھی جسے نامعلوم منزل کی جانب روانہ ہونا تھا۔ان دنوں ماسکو کے نواح میں ایک پرہیز گار بوڑھی عورت رہا کرتی تھیں، روسی عیسائی ان کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ وہ نابینا پیدا ہوئی تھیں لیکن روحانی بصارت کی بنیاد پر عام لوگوں سے کہیں زیادہ نگاہ رکھتی تھیں۔ وہ مریضوں کے علاج اور پیشین گوئی کرنے پر قدرت رکھتی تھیں۔ دارالحکومت کو خیر باد کہنے کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے سٹالن ان دنوں ان کے پاس پہنچے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ ان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے تو نیک عورت کھڑکی کی جانب منہ کیے بیٹھی تھیں اور ان کی پشت سٹالن کی جانب تھی۔سٹالن داخل ہوئے اور اپنے ہمراہی کو چلے جانے کا اشارہ کیا۔ بوڑھی خاتون خاموش رہیں۔ سٹالن کھنکارے۔’’سٹالن! کہیں تمہیں زکام تو نہیں ہو گیا؟‘‘ پرہیزگار خاتون نے دھیرے سے استفسار کیا تھا۔’’آداب!‘‘ سٹالن نے فوری جواب دیا اور کہا، ’’میں ٹھیک ٹھاک ہوں۔‘‘’’یہ ہوئی نہ بات۔ اب تمہارا صحت یاب رہنا ہی کارآمد ہوگا۔ حالات دشوار ہیں اور جلد ٹھیک ہونے والے نہیں۔مگر فرار ہونے کی خاطر خصوصی ریل گاڑی یونہی تیار کر لی گئی ہے۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘’آپ کو کیسے معلوم ہے؟‘‘ سٹالن نے حیران ہو کر پوچھا تھا۔’’رب عالم کی جانب سے‘‘، پرہیزگار خاتون نے دھیرج سے کہا تھا۔’’مت جانا۔ جرمن ماسکو میں داخل نہیں ہوں گے۔‘‘’’کیا میری فتح بھی ہوگی؟‘‘نیک خاتون نے گردن گھمائی: ’’تمھاری نہیں، ہماری، تمام لوگوں کی فتح ہوگی۔کیونکہ رب عالم ہمارے ساتھ ہے۔ ہاں تمہاری فتح بھی ہوگی۔۔۔ کیا فیصلہ کیا ہے،

نہیں جاؤگے ناں؟‘‘سٹالن نے ایک کے بعد دوسرے قدم پہ زور دیتے ہوئے جوتیاں چرچرائیں تھیں اور کہا: ’’سوچنا پڑے گا۔‘‘سٹالن ماسکو سے نہیں گئے تھے۔ ہٹلر کی کمان نے ماسکو کو سات نومبر 1941ء کو قبضے میں لینے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن عین اس روز کریملن کی دیوار کے اس جانب سرخ فوج کی پریڈ ہوئی تھی۔سلامی جوزف سٹالن نے لی۔ ٹینکوں کے پہیوں پہ چڑھے زنجیری حلقے جھنجھنا رہے تھے۔ فوجیوں کی قطاروں میں سائیبیریا سے پہنچے ہوئے لڑاکا دستے اور مشرق بعید سے آئے ہوئے چھاتہ بردار شامل تھے۔ پریڈ کے فوراً بعد وہ

محاذ کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ دنیا میں اس پریڈ کی خبر سے زیادہ اہم خبر نہیں تھی۔ ماسکو کے نواح میں نازی فوج پہ جوابی حملہ کیا جا چکا تھا۔ سوویت کیمرہ مینوں نے’’ماسکو کے نواح میں جرمن فوج کی ہزیمت‘‘ کے نام سے فلم تیار کی تھی۔ اسے دنیا کے کئی ملکوں میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں اس فلم کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی تھی کیونکہ وہ پہلا ملک تھا جو ہٹلر مخالف اتحاد کا حصہ بنا تھا۔ وہاں کے لوگ یورپ اور افریقہ کے محاذوں پر نازیوں کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ 1943ء میں ماسکو کے نواح میں ہونے والی لڑائی سے متعلق اس دستاویزی فلم کو بہترین دستاویزی فلم کے طور پر ’’آسکر‘‘انعام دیا گیا۔ایسے لوگوں کو جو پیش بینی کرنے کی صلاحیت

رکھتے ہیں، خیر و شر کے درمیاں بڑی لڑائیوں کا نقشہ بہت اچھی طرح سے دکھائی دے جاتا ہے۔ جیسا کہ حقیقی واقعات نے دکھا دیا تھا کہ ایسے لوگوں کی پیش گوئیاں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی تھیں۔عمل تنویم (مسمریزم، جس میں کسی شخص کے اعصاب پر قابو پا کر اسے سلا دیا جاتا ہے) کے نامور ماہر، پیش بین اور شعبدہ باز وولف میسنگ نے، جو بہت سے ملکوں میں اپنا شو پیش کیا کرتے تھے،ایک بار سٹیج پہ کہہ دیا کہ اگر جرمنی نے سوویت یونین کے خلاف جنگ چھیڑ دی تو خود جرمنی کا ہٹلر جان سے چلا جائے گا۔ ہٹلر کو جب یہ بات معلوم

ہوئی تو اسے بہت غصّہ آیا۔ اس نے میسنگ کے سر کی قیمت دولاکھ جرمن مارک لگا دی۔ نازیوں کی خفیہ ایجنسی وارسا میں میسنگ کو حراست میں لینے میں کامیاب بھی ہو گئی، لیکن گسٹاپو کے چنگل سے نکلنے کے لیے میسنگ نے محافظوں پر نیند طاری کر دی اور حراست سے بھاگ نکلا۔ پھر وہ سوویت یونین پہنچ گیا۔سوویت شہروں میں میسنگ کے شو بہت زیادہ مقبول رہے تھے۔ وہ لوگوں پہ عمل تنویم کرتا اور لوگوں کی سوچ پڑھ کر بتایا کرتا تھا۔ 1940ء کے موسم سرما میں، سوویت یونین پر جرمنی کے حملے سے کئی ماہ پیشتر اس نے سرخ فوج

کی فتح کی پیشین گوئی کر دی۔ میسنگ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے برلن کی سڑکوں پر سرخ ستارے سے مزین ٹینک چشم تصور میں دیکھے ہیں۔1943ء میں ایک شو کے دوران اس نے فتح کی حتمی تاریخ 9 مئی بھی بتا دی۔ اس پیشین گوئی کے بارے میں سٹالن کو معلوم ہو گیا۔ پھر جب 9 مئی 1945ء کو جرمنی نے شکست کی دستاویز پر دستخط کر دیئے تو سٹالن نے میسنگ کو تہنیتی تار ارسال کیا۔جنگ کے بعد سٹالن نے میسنگ کو کریملن میں طلب کیا۔ فنکار نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ سوویت حاکم، پائپ پیتے رہے اور کوئی خاص حیرت کا مظاہرہ نہیں کیا،بس پوچھا: ’’یہ بتائیں کہ اگر میں آپ کو یہاں سے باہر نہ نکلنے دینے کا حکم صادر کر دوں تو کیا آپ کریملن سے نکل

سکتے ہیں؟‘‘’’کوشش کرکے دیکھوں گا۔‘‘یہ کہہ کر میسنگ نے سٹالن سے رخصت لی اور دروازے سے باہر نکل گئے۔ وہ تمام حفاظتی حد بندیوں سے گذرتے ہوئے اپنے گھر پہنچ گیا۔ شام کو سٹالن نے انہیں فون کیا: ’’یہ بتائیں کہ آپ نے ایسا کیونکر کیا؟ سب حفاظتی چوکیوں کو حکم تھا کہ آپ کو جانے نہ دیں۔‘‘’’بہت آسان تھا۔ آپ نے تو میسنگ کو جانے نہ دینے کا حکم دیا تھا۔ مجھے محافظوں کے دماغ میں ڈالنا پڑا تھا کہ میں مارشل ووروشیلوو ہوں۔‘‘1941ء کے موسم گرما میں، سوویت یونین پر فسطائی جرمنی کی یلغار سے کچھ کم عرصہ پہلے سٹالن نے

اپنے ہاتھوں سے امیر تیمور کے خاندان کی ابدی آرام گاہوں کو کھولے جانے کا حکم لکھا تھا۔ عظیم جنگجو تیمور نے پندھرویں صدی میں وسطی ایشیا میں ایک بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ سالہا سال تک روس، ہندوستان، ایران اور چین سے برسرپیکار رہے تھے۔تیمور کا مزار سوویت یونین کے شہر سمرقند میں واقع تھا۔ علم الحفریات کے ماہرین کا ایک بڑا گروہ وہاں پہ بھیجا گیا تھا جس کے ساتھ خفیہ ایجنسی

کے اہلکار بھی تھے۔ کھدائی کا کام بہت سرعت سے کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے تیمور کے بیٹوں اور پوتوں کی ہڈیاں نکالی گئی تھیں۔ ان کی قبروں کے نیچے سبز رنگ کے سنگ خارا کی تین ٹن وزنی سل دھری تھی۔ اس پر تیمور کے بہت زیادہ اسماء کندہ تھے اور اس کامقبرہ کھولنے کی جسارت کرنے والے کے لیے انتباہ درج تھا،’’تیمور کے احکام کو پامال کرنے والے کو سزا ملے گی اور ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی۔‘‘ ان ڈراونے الفاظ نے محققین کو لرزہ براندام کر دیا تھا لیکن سل کو پھر بھی ہٹایا گیا تھا۔ تیمور کی قبر 21جون 1941ء کو فاش کی گئی تھی۔ اگلے روز 22 جون تھا جب قبر کھودنے والوں نے ریڈیو پر خبر سنی تھی کہ نازی جرمنی نے حملہ نہ کرنے کا معاہدہ توڑ

تے ہوئے، سوویت یونین پہ یلغار کر دی تھی۔مہم کے اراکین ماسکو لوٹ آئے تھے۔کھدائی کے نتائج سے متعلق اور ہولناک تنبیہہ کے بارے میں سٹالن کو کچھ ماہ بعد ہی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے اسی لمحے حکم جاری کر دیا کہ عظیم جنگجو اور ان کے رشتے داروں کی ہڈیوں کو پھر سے دفنا دیا جائے۔ تین حقائق پہ توجہ کیا جانا بہت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ تیموریوں کی باقیات کی پھر سے تدفین کے لیے اس زمانے کے حساب سے بہت زیادہ رقم مختص کی گئی تھی،اس رقم سے تب سولہ ٹینک بنائے جا سکتے تھے۔ دوسری یہ کہ دوبارہ دفن کیے جانے سے

پہلے پورے ایک ماہ تک تیمور کی ہڈیاں ماہرین حفریات کی نظروں سے اوجھل رہی تھیں۔ مسلمان سپاہیوں نے، جو سرخ فوج میں کچھ کم نہیں تھے، تصدیق کی تھی کہ اس اثناء میں تیمور کی ہڈیاں محاذوں پہ لائی گئی تھیں۔ انہوں نے ان سے اسی طرح جذبہ جنگ حاصل کیا تھا جس طرح عیسائی اپنی مقدس اشیاء سے لیتے تھے اور آخری حقیقت یہ کہ تیمور اور اس کے خاندان کی ہڈیاں مکمل طور پر 20 دسمبر 1942ء کو پھر سے دفن کر دی گئی تھیں۔یہی وہ روز تھا جب سٹالن گراڈ کی لڑائی میں سوویت فوج نے جرمن فوج کو پسپا کرنا شروع کیا تھا اور یوں پے

لیوس کی فوج کا گھیرا توڑ ڈالا تھا۔ اس کامیابی سے سٹالن گراڈ کے گرد مجتمع جرمن فوج کی ہمت ٹوٹ گئی۔ ڈیڑھ ماہ بعد مارشل پے لیوس کو اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ سٹالن گراڈ کے نواح میں سوویت فوج کی فتح دوسری جنگ عظیم کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں