اہم خبریں

’’پاکستان پر الزامات کے بعد اب ایران کی باری‘‘ ایران افغانستان میں جنگ کو نئی خوراک مہیا کر رہا ہے افغان رکن پارلیمنٹ نے سنگین الزامات عائد کر دئیے

  ہفتہ‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2018  |  16:46
کابل(نیوز ڈیسک )افغانستان کے پارلیمنٹ کے ایک رکن اور سینیر سیاست دان عبدالصبور خدمت نے ایران پر طالبان جنگجوئوں کو پناہ دینے کا اعلان عاید کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق افغان رکن پارلیمنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب افغانستان میں طالبان پرحکومت کی طرف سے دبائو آتا ہے تو وہ ایران چلے جاتے ہیں۔ انہیں طالبان جنگجوئوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں عبدالصمود خدمت نے کہا کہ ایران اور طالبان کا باہمی تعلق نیا نہیں۔ افغانستان میں جنگ کو نئی خوراک مہیا کرنے کے لیے ایران مسلسل دہشت گرد

(خبر جا ری ہے)

مدد اور معاونت کرتا رہا ہے۔خیال رہے کہ امریکا کے ایران کے لیے خصوصی ایلچی برین ھوکن نے بھی گذشتہ جمعرات کو الزام عاید کیا تھا کہ ایران طالبان کو اسلحہ اور دیگر جنگی سامان فراہم کررہاہے۔ اس کے علاوہ ایرانی ریم مشرق وسطیٰ میں جنگجو گروپوں کی بھی فوجی اورمالی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ایران اور طالبان کے باہمی تعلق اور تعاون کے کیس پر افغان حکومت، سیاست دان اور ارکان پارلیمان سخت تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ ایرانی ارکان پارلیمنٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو طالبان کو پناہ دینے سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔ایران کے صوبہ فراہ سے منتخب رکن پارلیمنٹ عبدالصبور خدمت نے امریکی خصوصی ایچلی برائے ایران برین ہوک کے بیان کی تائید کی اور کیا کہ یہ درست ہے کہ ایران طالبان جنگجوئوں کو اسلحہ اور دیگر جنگی سامان فراہم کررہا ہے۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ ایران طالبان کی مسلسل مدد کرکے افغانستان کو بدامنی کا شکار کرنا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان کا صوبہ فراہ ایران سے متصل ہے۔ اس سرحدی علاقے میں طالبان کی سرگرمیاںبھی دیکھی جاتی ہیں۔

کابل(نیوز ڈیسک )افغانستان کے پارلیمنٹ کے ایک رکن اور سینیر سیاست دان عبدالصبور خدمت نے ایران پر طالبان جنگجوئوں کو پناہ دینے کا اعلان عاید کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق افغان رکن پارلیمنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب افغانستان میں طالبان پرحکومت کی طرف سے دبائو آتا ہے تو وہ ایران چلے جاتے ہیں۔ انہیں طالبان جنگجوئوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں عبدالصمود خدمت نے کہا کہ ایران اور طالبان کا باہمی تعلق نیا نہیں۔

افغانستان میں جنگ کو نئی خوراک مہیا کرنے کے لیے ایران مسلسل دہشت گرد گروپوں کی مدد اور معاونت کرتا رہا ہے۔خیال رہے کہ امریکا کے ایران کے لیے خصوصی ایلچی برین ھوکن نے بھی گذشتہ جمعرات کو الزام عاید کیا تھا کہ ایران طالبان کو اسلحہ اور دیگر جنگی سامان فراہم کررہاہے۔ اس کے علاوہ ایرانی ریم مشرق وسطیٰ میں جنگجو گروپوں کی بھی فوجی اورمالی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ایران اور طالبان کے باہمی تعلق اور تعاون کے کیس پر افغان حکومت، سیاست دان اور ارکان پارلیمان سخت تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ ایرانی ارکان پارلیمنٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو طالبان کو پناہ دینے سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔ایران کے صوبہ فراہ سے منتخب رکن پارلیمنٹ عبدالصبور خدمت نے امریکی خصوصی ایچلی برائے ایران برین ہوک کے بیان کی تائید کی اور کیا کہ یہ درست ہے کہ ایران طالبان جنگجوئوں کو اسلحہ اور دیگر جنگی سامان فراہم کررہا ہے۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ ایران طالبان کی مسلسل مدد کرکے افغانستان کو بدامنی کا شکار کرنا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان کا صوبہ فراہ ایران سے متصل ہے۔ اس سرحدی علاقے میں طالبان کی سرگرمیاںبھی دیکھی جاتی ہیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں