اہم خبریں

نبی کریم ﷺ کی یہ مرغوب غذائیں کھائیں اورپھر حیران کن نتائج دیکھیں، سائنس بھی ماننے پر مجبور!!

  منگل‬‮ 4 دسمبر‬‮ 2018  |  17:33
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانوں کیلئے بے شمار نعمتیں عطا کیں، جن میں بہت سی ضروریات زندگی جن میں خوراک، پانی، پناہ گاہ اور خدا کی دیگر قدرتی تحفے شامل ہیں، غذا دنیا میں ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی عادت مبارک یہ تھی کہ جس قسم کا کھانا سامنے آتا اسے تناول فرما لیتے اور نہ ہی کسی خاص قسم کے کھانے کے لئے اہتمام فرماتے۔ہمارے حضور نبی محمدؐ ان غذاؤں کو انکے ذائقے اور فوائد کے وجہ سے بہت پسند فرماتے تھے۔کھجور:کھجور اہل عرب عموماً خوراک کے

(خبر جا ری ہے)

استعمال کرتے تھے ، حضور نبی کریمؐ نے کھجور کی بڑی تعریف فرمائی خصوصاً عجوہ کھجور کی۔حضور نبی کریمؐ کو کھجور بہت زیادہ پسند تھی اور اس کا بہت استعمال فرماتے تھے۔رسولؐ کا ارشاد ہے کہ جو شخص روزانہ صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن زہر اور جادو سے کوئی نقصان نہیں ‌پہنچا سکتا۔ایک اور جگہ ارشاد ہے عجوہ جنت کا پھل ہے۔ اس میں زہر سے شفا دینے کی تاثیر ہے۔فوائد:کھجور ایک مقوی غذا ہے۔ سب پھلوں میں سے زیادہ توانائی بخش ہے۔ جسم انسانی کو جس قدر حیاتین کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر کھجور میں‌ہے۔ کھجور جسم کو فربہ کرتی ہے۔ صالح خون پیدا کرتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو قوت بخشنے کے لیے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔روغن زیتون:حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے روغن زیتون کو بہت پسند فرمایا ہے، نبی کریم روٹی کو روغن زیتون سے چوپڑ کر تناول فرمایا۔قرآن میں زیتون کا ذکرآیا ہے ،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا تیل کھاؤ اور مالش میں استعمال کرو۔ اس لئے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا ہوتا ہے۔فوائد:زیتون کا تیل دنیا کاواحد تیل ہے، جو چربی میں تبدیل نہیں ہوتا یہ امراض قلب اور موٹاپے سے بچنے کیلئےانتہائی مفید ہے، روغن زیتوںاستعمال کرنے والے افراد دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتےہیں۔زیتون جوڑوں اورپٹھوں کے درد، سانس کی بیماریوں، کولیسٹرول کےمسائل، بلڈ پریشر، گردوں کےامراض، موٹاپے اورفالج سمیت مختلف امراض سے انسان کو محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔دودھ:دودھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذا رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ بہت پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر گائے اور بکری کادودھ استعمال فرماتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کوئی چیز ایسی نہیں جو طعام اور مشروب دونوں کا کام دیتی ہو، سوائے دودھ کے۔حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ گائے کے دودھ کو اپنے لئے لازم قرار دے دو، کیونکہ یہ شفا بخش ہے اور اس کا گھی دوا ہے۔فوائد:حضرت انسان کے لیے ایک مکمل غذا ہے اور اس سے بہتر غذا شاید ہی ہو۔ دودھ میں‌ جسم کیضرورت کے مطابق تمام اجزا موجود ہیں جن سے جسم صحت مند رہ سکتا ہے اور اس کی نشونما صحیح ہو سکتی ہے۔ جن علاقوں کے لوگ دودھ استعمال کرتے ہیں ان کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔شہد:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد بہت پسند تھا۔ اور اس کا بہت استعمال فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پسند فرماتےتھے۔ شہد کی شفا بخشی کا ذکر قرآن میں‌بھی آیا ہے اور اسےموت کے علاوہ ہر مرض کا علاج قرار دیا گیا ہے۔فوائد:شہد کے بارے میں‌ یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ بہت سے امراض میں مفید ہے۔ اور اس کا استعمال جسم کو امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ تمام تر کاوشوں کے باوجود اب تک شہد کا متبادل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ شہد کی ایک خوبی اس کے رس کا جلد اثر کرنا اور قدرتی انٹی بایوٹک ہونا ہے۔ یہ حلق سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچے سے لے کر جاں بلبمریض تک سب کے لئے غذا اور دوا ہے۔کدو:حضور اکرم کو سبزیوں میں کدو بہت پسند تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ آپ ﷺ کو ایک دعوت میں جو کی روٹی اور کدو گوشت کا شوربہ پیش کیا گیا، میں نے حضور نبی کریم کو دیکھا کہ پیالے کے کناروں سے کدو تلاش فرما کر تناول فرما رہے تھے۔ میں اس روز کے بعد ہمیشہ کدو کو پسند کرنے لگا۔فوائد:کدو ایک سبزی ہے، جو ذائقہ میں لذیذ اور تاثیرمیں‌ زود ہضم ، صحت بخش اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے والا ہے، کدو مفرح قلب، جگر اور اعصاب کے لیے مفید سبزی ہے۔جو کی روٹی:نبی کریمؐ کی مرغوب غذاؤں میں جو بھی شامل ہے، حضرت محمد ﷺ جو کی روٹی کو بہت پسند فرماتے تھے۔ حضور ﷺ نے اپنی ساری زندگی میں کبھی بھی میدہ کی روٹی تناول نہیں فرمائی۔ابو داؤد میں حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھی اورفرمایا کہ یہ اس کا سالن ہے اور تناول فرما لیا۔فوائد:قدرت نے جو میں جسمانی قوت کا بیش بہا خزانہ چھپا کر ہمیں بخشا ہے، قدیم زمانے سے جو کا استعمال بطور علاج اور قوت بخش غذا میں ہوتا چلا آرہا ہے۔جو میں جسم کو توانائی بخشنے والے اجزاءکی خاصی مقدار پائی جاتی ہے، اس میں 80فیصد نشاستہ‘ لحمیات اور فاسفورس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔جو بلڈ پریشر کو فائدہ پہنچاتا ہے حدت کوکم کرتا ہے‘ پیاس بجھاتا ہے‘ جوڑوںکے درد کو فائدہ پہنچاتا ہے چونکہ زہریلے مادوں کو اخراج کرتا ہے اس لیے مہاسے‘ چہرے کے دانوں اور اس سلسلے میں دوسری جلدی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔یہ ہماری جسمانی صحت کے لیے ٹانک کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہیں اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل رکھیں اور صحت مند رہیں۔ سرکہ:ہمارے پیارے نبی ﷺ کو سرکہ بھی بہت پسند تھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف سرکہ کو تناول فرمایا بلکہ اس کی تعریف بھی فرمائی۔حدیثمیں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ سرکہ بھی کیسا بہترین سالن ہے۔حضرت اُ مّ ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : کیا تیرے پاس کھانے کے لئے کوئی شے ہے ؟ میں نے عرض کیا سوکھی ہوئی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ بھی نہیں ، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ، وہی لے آؤ وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس گھر میں سرکہ ہو۔فوائد:سرکہ کا استعمال ذیابیطس اورخون میں گلوکوز کی مقدار کو درست کرنے کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے، سرکہ کا کھانے میں استعمال اس احساس کو بڑھا دیتا ہے کہ اب بھوک نہیں یعنی انسان کم کھاتا ہے اور اس طرح نظام انہضام بہتر رہتا ہے۔گوشت:گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا و جنت دونوں جگہ سب کھانوں کا سردار گوشت ہے۔حضور اکرم ﷺ نے شوربے والا اور بُھنا ہوا گوشت شوق سے تناول فرمایا۔حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں کہیں سے بکری کا گوشت آیا۔ اس میں سے دست کا گوشت خدمت اقدس میں پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے اس کو دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا۔فوائد:گوشت جسم انسانی کی صحت و توانائی کے لئے بہت مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں‌ جسم کی طاقت و توانائی کے لئے اہم اجزا ہوتے ہیں۔انجیر:انجیر بھی حضرت محمد کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک ہے،حضرت محمد نے فرمایا انجیر جنت کا پھل ہے۔فوائد:انجیر کا پھل بڑھاپے کو روکتا ہے، یعنی اس پھل کے کھانے سے بڑھاپا جلدی نہیں آتا ، یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا ہے، ماہرین طب کا کہنا ہے کہ روزانہ انجیر کھانے سے موٹاپے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انجیر کے اندر پروٹین، معدنی اجزاء، شکر، کیلشیم، فاسفورس پائے جاتے ہیں، دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میںہوتے ہیں۔ وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں، ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے۔اسکا استعمال ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اس میں فولاد‘ کیلشیم اور فاسفورس جیسے اجزاء شامل ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک انجیر انسانی جسم کو درکار فولاد کی دو فیصد ضرورت کو پوری کرتا ہے۔ انگور:حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو انگور کےخوشے اس طرح تناول فرماتے ہوئے دیکھا کہ (چھوٹا سا ) خوشہ منہ میں لے کر دانے توڑے اور تنکول کو باہر کھینچ لیتے۔اللہ کی نعمتوں میں ایک نعمت انگور ہے، جو انتہائی لذیذ اور بے مثال قوت بخش پھل ہ،ے اسے صحت و توانائی اور فرحت و انبساط فراہم کرنے کے لحاظ سے ایک اچھوتا اور پر کشش پھل تصور کیا جاتا ہے۔انگور میں کاربوہائیڈریٹس‘ پروٹین‘ وٹامن اے‘ وٹامن سی‘کیلشیم اور آئرن پائے جاتے ہیں جو انسانی صحتکیلئے بہت مفید ہوتے ہیں، یہ ہر عمر کی خواتین کی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ جسم میں تازہ اور مصفی خون پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ غذائیت ہوتی ہے۔ اس کا رس نہ صرف معدے کی رطوبت کو مزید ہاضم بناتا ہے، بلکہ نظام انہضام کے بعد خون میں شامل ہو کر خون کو صحت مند بھی بناتا ہے۔انگور کا رس آدھے سر کے درد اور معدے کی بیماریوں، تپ دق یا قبض، کھانسی، جسم کی کمزوری، خون کی کمی اور دیگر امراض کے لیے بہت مفید ہے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانوں کیلئے بے شمار نعمتیں عطا کیں، جن میں بہت سی ضروریات زندگی جن میں خوراک، پانی، پناہ گاہ اور خدا کی دیگر قدرتی تحفے شامل ہیں، غذا دنیا میں ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی عادت مبارک یہ تھی کہ جس قسم کا کھانا سامنے آتا اسے تناول فرما لیتے اور نہ ہی کسی خاص قسم کے کھانے کے لئے اہتمام فرماتے۔ہمارے حضور نبی محمدؐ ان غذاؤں کو انکے ذائقے اور فوائد کے وجہ سے بہت پسند فرماتے تھے۔کھجور:کھجور اہل عرب عموماً خوراک کے

طور پر استعمال کرتے تھے ، حضور نبی کریمؐ نے کھجور کی بڑی تعریف فرمائی خصوصاً عجوہ کھجور کی۔حضور نبی کریمؐ کو کھجور بہت زیادہ پسند تھی اور اس کا بہت استعمال فرماتے تھے۔رسولؐ کا ارشاد ہے کہ جو شخص روزانہ صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن زہر اور جادو سے کوئی نقصان نہیں ‌پہنچا سکتا۔ایک اور جگہ ارشاد ہے عجوہ جنت کا پھل ہے۔ اس میں زہر سے شفا دینے کی تاثیر ہے۔فوائد:کھجور ایک مقوی غذا ہے۔ سب پھلوں میں سے زیادہ توانائی بخش ہے۔ جسم انسانی کو جس قدر حیاتین کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر کھجور میں‌ہے۔ کھجور جسم کو فربہ کرتی ہے۔ صالح خون پیدا کرتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو قوت بخشنے کے لیے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔روغن زیتون:حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے روغن زیتون کو بہت پسند فرمایا ہے، نبی کریم روٹی کو روغن زیتون سے چوپڑ کر تناول فرمایا۔قرآن میں زیتون کا ذکرآیا ہے ،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا تیل کھاؤ اور مالش میں استعمال کرو۔ اس لئے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا ہوتا ہے۔فوائد:زیتون کا تیل دنیا کاواحد تیل ہے، جو چربی میں تبدیل نہیں ہوتا یہ امراض قلب اور موٹاپے سے بچنے کیلئےانتہائی مفید ہے، روغن زیتوںاستعمال کرنے والے افراد دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتےہیں۔زیتون جوڑوں اورپٹھوں کے درد، سانس کی بیماریوں، کولیسٹرول کےمسائل، بلڈ پریشر، گردوں کےامراض، موٹاپے اورفالج سمیت مختلف امراض سے انسان کو محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔دودھ:دودھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذا رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ بہت پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر گائے اور بکری کادودھ استعمال فرماتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کوئی چیز ایسی نہیں جو طعام اور مشروب دونوں کا کام دیتی ہو، سوائے دودھ کے۔حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ گائے کے دودھ کو اپنے لئے لازم قرار دے دو، کیونکہ یہ شفا بخش ہے اور اس کا گھی دوا ہے۔فوائد:حضرت انسان کے لیے ایک مکمل غذا ہے اور اس سے بہتر غذا شاید ہی ہو۔ دودھ میں‌ جسم کیضرورت کے مطابق تمام اجزا موجود ہیں جن سے جسم صحت مند رہ سکتا ہے اور اس کی نشونما صحیح ہو سکتی ہے۔ جن علاقوں کے لوگ دودھ استعمال کرتے ہیں ان کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔شہد:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد بہت پسند تھا۔ اور اس کا بہت استعمال فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پسند فرماتےتھے۔ شہد کی شفا بخشی کا ذکر قرآن میں‌بھی آیا ہے اور اسےموت کے علاوہ ہر مرض کا علاج قرار دیا گیا ہے۔فوائد:شہد کے بارے میں‌ یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ بہت سے امراض میں مفید ہے۔ اور اس کا استعمال جسم کو امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ تمام تر کاوشوں کے باوجود اب تک شہد کا متبادل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ شہد کی ایک خوبی اس کے رس کا جلد اثر کرنا اور قدرتی انٹی بایوٹک ہونا ہے۔ یہ حلق سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچے سے لے کر جاں بلبمریض تک سب کے لئے غذا اور دوا ہے۔کدو:حضور اکرم کو سبزیوں میں کدو بہت پسند تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ آپ ﷺ کو ایک دعوت میں جو کی روٹی اور کدو گوشت کا شوربہ پیش کیا گیا، میں نے حضور نبی کریم کو دیکھا کہ پیالے کے کناروں سے کدو تلاش فرما کر تناول فرما رہے تھے۔ میں اس روز کے بعد ہمیشہ کدو کو پسند کرنے لگا۔فوائد:کدو ایک سبزی ہے، جو ذائقہ میں لذیذ اور تاثیرمیں‌ زود ہضم ، صحت بخش اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے والا ہے، کدو مفرح قلب، جگر اور اعصاب کے لیے مفید سبزی ہے۔جو کی روٹی:نبی کریمؐ کی مرغوب غذاؤں میں جو بھی شامل ہے، حضرت محمد ﷺ جو کی روٹی کو بہت پسند فرماتے تھے۔ حضور ﷺ نے اپنی ساری زندگی میں کبھی بھی میدہ کی روٹی تناول نہیں فرمائی۔ابو داؤد میں حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھی اورفرمایا کہ یہ اس کا سالن ہے اور تناول فرما لیا۔فوائد:قدرت نے جو میں جسمانی قوت کا بیش بہا خزانہ چھپا کر ہمیں بخشا ہے، قدیم زمانے سے جو کا استعمال بطور علاج اور قوت بخش غذا میں ہوتا چلا آرہا ہے۔جو میں جسم کو توانائی بخشنے والے اجزاءکی خاصی مقدار پائی جاتی ہے، اس میں 80فیصد نشاستہ‘ لحمیات اور فاسفورس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔جو بلڈ پریشر کو فائدہ پہنچاتا ہے حدت کوکم کرتا ہے‘ پیاس بجھاتا ہے‘ جوڑوںکے درد کو فائدہ پہنچاتا ہے چونکہ زہریلے مادوں کو اخراج کرتا ہے اس لیے مہاسے‘ چہرے کے دانوں اور اس سلسلے میں دوسری جلدی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔یہ ہماری جسمانی صحت کے لیے ٹانک کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہیں اپنی روزمرہ کی غذا میں شامل رکھیں اور صحت مند رہیں۔ سرکہ:ہمارے پیارے نبی ﷺ کو سرکہ بھی بہت پسند تھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف سرکہ کو تناول فرمایا بلکہ اس کی تعریف بھی فرمائی۔حدیثمیں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ سرکہ بھی کیسا بہترین سالن ہے۔حضرت اُ مّ ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : کیا تیرے پاس کھانے کے لئے کوئی شے ہے ؟ میں نے عرض کیا سوکھی ہوئی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ بھی نہیں ، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ، وہی لے آؤ وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس گھر میں سرکہ ہو۔فوائد:سرکہ کا استعمال ذیابیطس اورخون میں گلوکوز کی مقدار کو درست کرنے کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے، سرکہ کا کھانے میں استعمال اس احساس کو بڑھا دیتا ہے کہ اب بھوک نہیں یعنی انسان کم کھاتا ہے اور اس طرح نظام انہضام بہتر رہتا ہے۔گوشت:گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا و جنت دونوں جگہ سب کھانوں کا سردار گوشت ہے۔حضور اکرم ﷺ نے شوربے والا اور بُھنا ہوا گوشت شوق سے تناول فرمایا۔حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں کہیں سے بکری کا گوشت آیا۔ اس میں سے دست کا گوشت خدمت اقدس میں پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے اس کو دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا۔فوائد:گوشت جسم انسانی کی صحت و توانائی کے لئے بہت مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں‌ جسم کی طاقت و توانائی کے لئے اہم اجزا ہوتے ہیں۔انجیر:انجیر بھی حضرت محمد کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک ہے،حضرت محمد نے فرمایا انجیر جنت کا پھل ہے۔فوائد:انجیر کا پھل بڑھاپے کو روکتا ہے، یعنی اس پھل کے کھانے سے بڑھاپا جلدی نہیں آتا ، یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا ہے، ماہرین طب کا کہنا ہے کہ روزانہ انجیر کھانے سے موٹاپے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انجیر کے اندر پروٹین، معدنی اجزاء، شکر، کیلشیم، فاسفورس پائے جاتے ہیں، دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میںہوتے ہیں۔ وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں، ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے۔اسکا استعمال ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اس میں فولاد‘ کیلشیم اور فاسفورس جیسے اجزاء شامل ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک انجیر انسانی جسم کو درکار فولاد کی دو فیصد ضرورت کو پوری کرتا ہے۔ انگور:حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو انگور کےخوشے اس طرح تناول فرماتے ہوئے دیکھا کہ (چھوٹا سا ) خوشہ منہ میں لے کر دانے توڑے اور تنکول کو باہر کھینچ لیتے۔اللہ کی نعمتوں میں ایک نعمت انگور ہے، جو انتہائی لذیذ اور بے مثال قوت بخش پھل ہ،ے اسے صحت و توانائی اور فرحت و انبساط فراہم کرنے کے لحاظ سے ایک اچھوتا اور پر کشش پھل تصور کیا جاتا ہے۔انگور میں کاربوہائیڈریٹس‘ پروٹین‘ وٹامن اے‘ وٹامن سی‘کیلشیم اور آئرن پائے جاتے ہیں جو انسانی صحتکیلئے بہت مفید ہوتے ہیں، یہ ہر عمر کی خواتین کی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ جسم میں تازہ اور مصفی خون پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ غذائیت ہوتی ہے۔ اس کا رس نہ صرف معدے کی رطوبت کو مزید ہاضم بناتا ہے، بلکہ نظام انہضام کے بعد خون میں شامل ہو کر خون کو صحت مند بھی بناتا ہے۔انگور کا رس آدھے سر کے درد اور معدے کی بیماریوں، تپ دق یا قبض، کھانسی، جسم کی کمزوری، خون کی کمی اور دیگر امراض کے لیے بہت مفید ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں