اہم خبریں

ۭزیر زمین پانی کی سطح کیسے بہتر کی جا سکتی ہے، سولر ٹیوب ویلز کے ذریعے بچت نہیں بلکہ پاکستان کا کیا نقصان ہو رہا ہے؟اہم انکشافات

  ہفتہ‬‮ 10 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  17:05
کوئٹہ (نیوز ڈیسک )جماعت اسلامی کے صوبائی امیرمولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ ڈیموں کی تعمیر کے بغیر سولرٹیوب ویلزکے منصوبے الٹاپانی کی کمی اورسرمائے کے نقصان کا باعث بنیں گے زمین زمین پانی ڈیموں سے ہی بڑھ سکتا ہے بلوچستان بھر میں ڈیمز بناکر زمین زمین پانی کی سطح پر بہتراور پانی کی کمی ختم زراعت کی ترقی پر توجہ دی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستا نمیں پانی کی کمی وزراعت کو تباہی سے بچانے کیلئے صرف سولرٹیوب ویلزکے منصوبے کارآمد نہیںحکومت سرمائے کے نقصان کے بجائے مشاورت وماہرین کے مشورے سے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دیں۔ سپریم

(خبر جا ری ہے)

حکومت کی جانب سے نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے فنڈ ریزنگ اور عوام میں شعور بیدارکرنا اگرچہ خوش آئند ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیم بنانے کے حوالے سے عملاً اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں۔ بلوچستان زرعی صوبہ ہے مگر حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے خشک سالی کیساتھ زراعت تباہ ہورہی ہے حکومت کوصوبہ بھر میں چھوٹے بڑے ڈیم فوری تعمیر کرنا چاہئیںنئے ڈیمزبلوچستان کی بقاکی ضمانت ہیں۔پانی زندگی ہے مگر اہل بلوچستان ان زندگی سے محروم ہونے کے قریب ہے بلوچستان کے حکمرانوں نے پانی کی کمی کا کوئی نوٹس نہیں لیا ڈیم بنانے پر توجہ نہیں دی زراعت کو تباہی وبربادی سے بچانے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایاجس کی وجہ سے آج یہاں کے عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں صوبے میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے جس کی وجہ سے زراعت ومعیشت تباہی وبربادی کی قریب ہے کئی کئی گھنٹوں پر محیط لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا براحال کردیا ہے۔ترقیاتی کاموں اور کھمبوں کی تبدیلی کے نام پر لوڈشیڈنگ کے علاوہ بریک ڈائون،ٹرپنگ اور بغیر کسی شیڈول کے بجلی کی بندش سے عوام کیزندگی اجیرن ہوچکی ہے۔لوگوں میں اضطراب پایاجاتاہے حکمران مسائل پر توجہ دینے کی بجائے نمائشی اقدامات کررہے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت توانائی کابحران شدیدہوچکاہے جس کی وجہ سے زراعت تباہ،روزگار ناپید نوجوان اور مزدور بے روزگار ہورہے ہیں۔ ملک کودرپیش آبی مسائل کاحل صرف ایک دو ڈیمزکی تعمیر سے ممکن نہیں۔ہمیں بڑے بڑے ڈیمز فی الفور بناناچاہیےاور اس اہم مسئلے پر بھی سب کو متحد کرنا ہوگا۔بڑے ڈیمز سے جہاںایک طرف سستی بجلی وافر دستیاب ہوگی وہاں دوسری طرف روزگارکے نئے مواقع بھی ملیں گے۔المیہ یہ ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کاپانی سمندر بردہوجاتاہے۔ہم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاکرہر سال اربوں ڈالرکاپانی بچاسکتے ہیں۔

کوئٹہ (نیوز ڈیسک )جماعت اسلامی کے صوبائی امیرمولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ ڈیموں کی تعمیر کے بغیر سولرٹیوب ویلزکے منصوبے الٹاپانی کی کمی اورسرمائے کے نقصان کا باعث بنیں گے زمین زمین پانی ڈیموں سے ہی بڑھ سکتا ہے بلوچستان بھر میں ڈیمز بناکر زمین زمین پانی کی سطح پر بہتراور پانی کی کمی ختم زراعت کی ترقی پر توجہ دی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستا نمیں پانی کی کمی وزراعت کو

تباہی سے بچانے کیلئے صرف سولرٹیوب ویلزکے منصوبے کارآمد نہیںحکومت سرمائے کے نقصان کے بجائے مشاورت وماہرین کے مشورے سے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دیں۔ سپریم کورٹ اور حکومت کی جانب سے نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے فنڈ ریزنگ اور عوام میں شعور بیدارکرنا اگرچہ خوش آئند ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیم بنانے کے حوالے سے عملاً اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں۔ بلوچستان زرعی صوبہ ہے مگر حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے خشک سالی کیساتھ زراعت تباہ ہورہی ہے حکومت کوصوبہ بھر میں چھوٹے بڑے ڈیم فوری تعمیر کرنا چاہئیںنئے ڈیمزبلوچستان کی بقاکی ضمانت ہیں۔پانی زندگی ہے مگر اہل بلوچستان ان زندگی سے محروم ہونے کے قریب ہے بلوچستان کے حکمرانوں نے پانی کی کمی کا کوئی نوٹس نہیں لیا ڈیم بنانے پر توجہ نہیں دی زراعت کو تباہی وبربادی سے بچانے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایاجس کی وجہ سے آج یہاں کے عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں صوبے میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے جس کی وجہ سے زراعت ومعیشت تباہی وبربادی کی قریب ہے کئی کئی گھنٹوں پر محیط لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا براحال کردیا ہے۔ترقیاتی کاموں اور کھمبوں کی تبدیلی کے نام پر لوڈشیڈنگ کے علاوہ بریک ڈائون،ٹرپنگ اور بغیر کسی شیڈول کے بجلی کی بندش سے عوام کیزندگی اجیرن ہوچکی ہے۔لوگوں میں اضطراب پایاجاتاہے حکمران مسائل پر توجہ دینے کی بجائے نمائشی اقدامات کررہے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت توانائی کابحران شدیدہوچکاہے جس کی وجہ سے زراعت تباہ،روزگار ناپید نوجوان اور مزدور بے روزگار ہورہے ہیں۔ ملک کودرپیش آبی مسائل کاحل صرف ایک دو ڈیمزکی تعمیر سے ممکن نہیں۔ہمیں بڑے بڑے ڈیمز فی الفور بناناچاہیے

اور اس اہم مسئلے پر بھی سب کو متحد کرنا ہوگا۔بڑے ڈیمز سے جہاںایک طرف سستی بجلی وافر دستیاب ہوگی وہاں دوسری طرف روزگارکے نئے مواقع بھی ملیں گے۔المیہ یہ ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کاپانی سمندر بردہوجاتاہے۔ہم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاکرہر سال اربوں ڈالرکاپانی بچاسکتے ہیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں