اہم خبریں

‘‘قرآن کی ایسی آیت کہ بڑے سے بڑا چور بھی تالا نہ کھول سکے’’ ، جلیل القدر صحابی رسول ؐ کے ہاتھوں جب شیطان چوری کرتے پکڑ ا گیا پکڑے جانے کے بعد شیطان نے اس آیت کے متعلق کیا کہا تھا ؟ایمان افروز واقعہ

  ہفتہ‬‮ 10 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  16:37
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آیۃ الکرسی کی فضیلت و اہمیت بہت زیادہ ہے۔ قرآن کے تیسرے سپارے میں موجود یہ آیت جہاں آپ کی حفاظت کرتی ہے وہیں یہ رب تعالیٰ کی بڑائی اور ربوبیت کا بھی اظہار ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے فطرہ کی حفاظت پر مقرر فرمایا (یعنی صحابہ کرام جو اپنےصدقے وفطرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں حاضر کرجاتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خود فقراء میں تقسیم فرمادیں کہ آپ کے ہاتھ کی

(خبر جا ری ہے)

رب تعالیٰ قبول فرمالے اس جمع شدہ فطروں کی حفاظت اس دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد ہوئی) تو ایک شخص آیا غلے سے لپ بھرنے لگا (یعنی فطرے کا گندم چرانے اور لے جانے لگا میں نے اسے یہ حرکت کرتے دیکھ لیا) تومیں نے اسے پکڑ لیا اور کہا میں تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلوں گا۔اس پر وہ بولا میں محتاج ہوں میرے بال بچے ہیں اور مجھے سخت حاجت ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ۔جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابوہریرہ آج رات تمہارے قیدی کا کیا بنا (یعنی جب میں نماز فجر کے لیے حاضر بارگاہ ہوا تو بغیرمیرے کچھ عرض کئے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال فرمایا ،معلوم ہوا کہ حضورا نور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ہر ظاہر و چھپی چیزیں دیکھتی ہے کوئی چیز ان سے مخفی نہیں وہ توقبر کے اندر کے عذاب اور دلوں کے حال سے خبردار ہیں)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اس نے سخت حاجت اور بال بچوں کا عذربیان کیا اس پر مجھے رحم آیا تو اس کو چھوڑدیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر لوٹے گا (اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب ثابت ہوا ۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ ہونے والے واقعات کا ر ب تعالیٰ نے علم بخشا جو آئندہ ہونے والا ہے وہ بتارہے ہیں) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ لوٹ کر آئے گا میں اس کی تاک میں رہا(یعنی آج شب کو میں خوب چوکنا رہا سویا نہیں،غافل نہ رہا،کیونکہ اسے پکڑنا تھا) وہ پھر آیا اور غلے کے لپ بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا اب کی بار تو تجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بہت بوجھ ہے میں اب نہ آؤں گا،مجھے رحم آگیا اسے رہا کردیا ۔ جب صبح ہوئی تو مجھےرسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابو ہریرہ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اس نے سخت محتاجی اور بال بچوں کا عذر بیان کیا مجھے اس پر رحم آگیا اسے رہا کردیا۔فرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر آئے گا۔ مجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے سے وہ پھر آئے گا یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا میں گھات میں رہا وہ آیا غلےسے لپیں بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا تو کہا کہ اب تجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا کیونکہ تو کہہ جاتا ہے کہ نہ آئے گا پھر آجاتا ہے ۔وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں آپ کو چند ایسے کلمات سکھائے دیتا ہوں کہ اﷲان کی برکت سے آپ کو نفع دے گا (یعنی میں آپ پر ایک عمل مجرب بتا کر احسان کرتا ہوں آپ اس کے عوض مجھ پر یہ احسان کردیںکہ مجھے چھوڑ دیں کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے ابلیس کی اس خوشامد سے معلوم ہوا کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہونےسے بہت گھبراتا ہے ورنہ وہ حاضر ہوجانے پر راضی ہوجاتاہے اب جس کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت نہ ہو وہ شیطان سے بدتر ہے ۔شیطان یا تو خدا سے ڈرتاہے یا جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ،اس لیے مسلمان کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی ہیبت چاہیےتاکہ شیطان دور رہے۔ تو شیطان نے عمل یہ بتایا کہ) جب آپ بستر میں جائیں تو آیۃ الکرسی اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم آخر تک پڑھ لیں تو اﷲ کی طرف سے حافظ رہے گا (یعنی خود رب تعالیٰ یا اس کا مقرر کردہ فرشتہ آپ کے جان و مال کی حفاظت کرے گا کہ گھر تو گر جانے یا آگ لگ جانے وغیرہ سے محفوظ رہے گااور مال چوری وغیرہ سے امان میں رہے گا جیسا کہ دوسری احادیث میں وارد ہے(یہ عمل بہت ہی مجرب ہے) اور صبح تک شیطان آپ کے قریب نہ بھٹکے گا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا ۔جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا بنا تمہارے قیدی کا ؟ میں نے عرض کی: اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اﷲ مجھے نفع دے گا،حضور نے فرمایا وہ ہے تو جھوٹا مگر تم سے سچ بول گیا، کیا جانتے ہو کہ تم تین دن سے کس سے گفتگو کررہے ہو ؟میں نے کہا نہیں، فرمایا یہ شیطان ہے (بخاری)

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آیۃ الکرسی کی فضیلت و اہمیت بہت زیادہ ہے۔ قرآن کے تیسرے سپارے میں موجود یہ آیت جہاں آپ کی حفاظت کرتی ہے وہیں یہ رب تعالیٰ کی بڑائی اور ربوبیت کا بھی اظہار ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے فطرہ کی حفاظت پر مقرر فرمایا (یعنی صحابہ کرام جو اپنےصدقے وفطرے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں حاضر کرجاتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خود فقراء میں تقسیم فرمادیں کہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے رب تعالیٰ قبول فرمالے اس جمع شدہ فطروں کی حفاظت اس دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد ہوئی) تو ایک شخص آیا غلے سے لپ بھرنے لگا (یعنی فطرے کا گندم چرانے اور لے جانے لگا میں نے اسے یہ حرکت کرتے دیکھ لیا) تومیں نے اسے پکڑ لیا اور کہا میں تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلوں گا۔اس پر وہ بولا میں محتاج ہوں میرے بال بچے ہیں اور مجھے سخت حاجت ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ۔جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابوہریرہ آج رات تمہارے قیدی کا کیا بنا (یعنی جب میں نماز فجر کے لیے حاضر بارگاہ ہوا تو بغیرمیرے کچھ عرض کئے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال فرمایا ،معلوم ہوا کہ حضورا نور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ہر ظاہر و چھپی چیزیں دیکھتی ہے کوئی چیز ان سے مخفی نہیں وہ توقبر کے اندر کے عذاب اور دلوں کے حال سے خبردار ہیں)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اس نے سخت حاجت اور بال بچوں کا عذربیان کیا اس پر مجھے رحم آیا تو اس کو چھوڑدیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر لوٹے گا (اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب ثابت ہوا ۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ ہونے والے واقعات کا ر ب تعالیٰ نے علم بخشا جو آئندہ ہونے والا ہے وہ بتارہے ہیں) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ لوٹ کر آئے گا میں اس کی تاک میں رہا

(یعنی آج شب کو میں خوب چوکنا رہا سویا نہیں،غافل نہ رہا،کیونکہ اسے پکڑنا تھا) وہ پھر آیا اور غلے کے لپ بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا اب کی بار تو تجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بہت بوجھ ہے میں اب نہ آؤں گا،مجھے رحم آگیا اسے رہا کردیا ۔ جب صبح ہوئی تو مجھے

رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابو ہریرہ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اس نے سخت محتاجی اور بال بچوں کا عذر بیان کیا مجھے اس پر رحم آگیا اسے رہا کردیا۔فرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر آئے گا۔ مجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے سے وہ پھر آئے گا یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا میں گھات میں رہا وہ آیا غلے

سے لپیں بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا تو کہا کہ اب تجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا کیونکہ تو کہہ جاتا ہے کہ نہ آئے گا پھر آجاتا ہے ۔وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں آپ کو چند ایسے کلمات سکھائے دیتا ہوں کہ اﷲان کی برکت سے آپ کو نفع دے گا (یعنی میں آپ پر ایک عمل مجرب بتا کر احسان کرتا ہوں آپ اس کے عوض مجھ پر یہ احسان کردیں

کہ مجھے چھوڑ دیں کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے ابلیس کی اس خوشامد سے معلوم ہوا کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہونےسے بہت گھبراتا ہے ورنہ وہ حاضر ہوجانے پر راضی ہوجاتاہے اب جس کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت نہ ہو وہ شیطان سے بدتر ہے ۔شیطان یا تو خدا سے ڈرتاہے یا جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ،

اس لیے مسلمان کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی ہیبت چاہیےتاکہ شیطان دور رہے۔ تو شیطان نے عمل یہ بتایا کہ) جب آپ بستر میں جائیں تو آیۃ الکرسی اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم آخر تک پڑھ لیں تو اﷲ کی طرف سے حافظ رہے گا (یعنی خود رب تعالیٰ یا اس کا مقرر کردہ فرشتہ آپ کے جان و مال کی حفاظت کرے گا کہ گھر تو گر جانے یا آگ لگ جانے وغیرہ سے محفوظ رہے گا

اور مال چوری وغیرہ سے امان میں رہے گا جیسا کہ دوسری احادیث میں وارد ہے(یہ عمل بہت ہی مجرب ہے) اور صبح تک شیطان آپ کے قریب نہ بھٹکے گا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا ۔جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا بنا تمہارے قیدی کا ؟ میں نے عرض کی: اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اﷲ مجھے نفع دے گا،

حضور نے فرمایا وہ ہے تو جھوٹا مگر تم سے سچ بول گیا، کیا جانتے ہو کہ تم تین دن سے کس سے گفتگو کررہے ہو ؟میں نے کہا نہیں، فرمایا یہ شیطان ہے (بخاری)

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں