اہم خبریں

پی ایس او میں پٹرولیم مصنوعات کی سٹوریج کے نام پر کروڑوں کی کرپشن و مالی بد عنوانی کا نیا سکینڈل سامنے آگیا،اہم سیاسی خاندان کی کمپنی کو ٹھیکے دیئے گئے

  پیر‬‮ 17 ستمبر‬‮ 2018  |  0:33
اسلام آباد(آن لائن)پی ایس او میں پٹرولیم مصنوعات کی سٹوریج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن اور مالی بد عنوانی کا نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ پی ایس او افسران نے اپنی مصنوعات کی سٹوریج کا ٹھیکہ پاکستانی ہاؤس انٹر نیشنل لمیٹڈ نامی کمپنی کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر دے رکھا ہے اور سالانہ 8کروڑ روپے بھی ادا کیے جارہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کمپنی کا مالک ایک سیاسی خاندان ہے جس نے سیاسی اثرو رسوخ پر یہ ٹھیکہ حاصل کیا تھا ۔ پی ایس او کے ٹینڈرپر اس کمپنی نے 225روپے فی میٹرک

(خبر جا ری ہے)

کی بولی دی جو متعلقہ افسران نے بغیر تحقیقات کے منظور کرلی اور ٹھیکہ کمپنی کو دے دیا ۔ قواعد کے مطابق پی ایس او کو دوبارہ ٹینڈر دے کر مزید کمپنیوں سے دلچسپی طلب کرلی لیکن کرپٹ افسران نے کمپنی کو منظور کرے 8کروڑ بھی جاری کردئیے۔ ٹینڈر میں 55ملین کا ٹھیکہ ظاہر کیا گیا لیکن ادائیگی پہلی قسط کے طور پر 135ملین کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے پاور کمپنی ساؤتھرن الیکٹرک کمپنی سے فرنس آئل کی مد میں ساڑھے تیرہ کرروڑ روپے بھی وصول نہیں کرسکی ہے۔ پی ایس او افسران کی ملی بھگت سے ریکوری کا یہ مقدمہ عدالت عالیہ سندھ میں کئی سال سے لٹکا ہوا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے 2018پٹرول پمپوں سے 53کروڑروپے کے بقایا جات ہیں جبکہ کرپٹ افسران نے وصول کرنے کی بجائے یہ ریکوری یعنی عدالت عالیہ اسلام آباد کے رحم و کرم پر چھوڑی رکھی ہے اور ریکوری لٹکی ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مشاورت کے نام پر وزارت پٹرولیم کے ریٹائرڈ افسران نے بھاری تنخواؤں پر پی ایس او میں ملازمتیں حاصل کررکھی ہیں۔ سابق ڈی جی آئل بھی ملازمت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ اس حوالے سے پی ایس او کے ایم ڈی جواب دینے سے قاصر ہیں کیونکہ نیب حکام حاضر سروس ایم ڈی پی ایس او کی کرپشن پر تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں

اسلام آباد(آن لائن)پی ایس او میں پٹرولیم مصنوعات کی سٹوریج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن اور مالی بد عنوانی کا نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ پی ایس او افسران نے اپنی مصنوعات کی سٹوریج کا ٹھیکہ پاکستانی ہاؤس انٹر نیشنل لمیٹڈ نامی کمپنی کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر دے رکھا ہے اور سالانہ 8کروڑ روپے بھی ادا کیے جارہے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ اس کمپنی کا مالک ایک سیاسی خاندان ہے جس نے سیاسی اثرو رسوخ پر یہ ٹھیکہ حاصل کیا تھا ۔ پی ایس او کے ٹینڈرپر اس کمپنی نے 225روپے فی میٹرک ٹن ریٹس کی بولی دی جو متعلقہ افسران نے بغیر تحقیقات کے منظور کرلی اور ٹھیکہ کمپنی کو دے دیا ۔ قواعد کے مطابق پی ایس او کو دوبارہ ٹینڈر دے کر مزید کمپنیوں سے دلچسپی طلب کرلی لیکن کرپٹ افسران نے کمپنی کو منظور کرے 8کروڑ بھی جاری کردئیے۔ ٹینڈر میں 55ملین کا ٹھیکہ ظاہر کیا گیا لیکن ادائیگی پہلی قسط کے طور پر 135ملین کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے پاور کمپنی ساؤتھرن الیکٹرک کمپنی سے فرنس آئل کی مد میں ساڑھے تیرہ کرروڑ روپے بھی وصول نہیں کرسکی ہے۔ پی ایس او افسران کی ملی بھگت سے ریکوری کا یہ مقدمہ عدالت عالیہ سندھ میں کئی سال سے لٹکا ہوا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے 2018پٹرول پمپوں سے 53کروڑروپے کے بقایا جات ہیں جبکہ کرپٹ افسران نے وصول کرنے کی بجائے یہ ریکوری یعنی عدالت عالیہ اسلام آباد کے رحم و کرم پر چھوڑی رکھی ہے اور ریکوری لٹکی ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مشاورت کے نام پر وزارت پٹرولیم کے ریٹائرڈ افسران نے بھاری تنخواؤں پر پی ایس او میں ملازمتیں حاصل کررکھی ہیں۔ سابق ڈی جی آئل بھی ملازمت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ اس حوالے سے پی ایس او کے ایم ڈی جواب دینے سے قاصر ہیں کیونکہ نیب حکام حاضر سروس ایم ڈی پی ایس او کی کرپشن پر تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں