اہم خبریں

نواز شریف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنا اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ۔۔۔! ایسی پیش گوئی کر دی گئی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

  پیر‬‮ 17 ستمبر‬‮ 2018  |  0:29
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار حذیفہ رحمن اپنے کالم پاکستانی سیاست اور نواز شریف میں لکھتے ہیں کہ کچھ ایسے حادثے بھی زندگی میں ہوتے ہیں کہ انسان بچ تو جاتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔شاید مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ کی موت بھی نوازشریف کے لئے ایسا ہی حادثہ ہے۔نواز شریف کے لئے اب کھونے کو زنجیریں ہیں اور پانے کو سارا جہاں ہے۔جیل سے عبوری رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی تصویر میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف خاصے کمزور اور ٹوٹے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ظاہر ہے 47سالہ رفاقت کوئی کم نہیں

(خبر جا ری ہے)

ذاتی طور پر پہلی مرتبہ نوازشریف کو کمزور ہوتے دیکھا تھا۔مگر نوازشریف سنبھل چکے ہیں۔بہت بڑا حادثہ تھا مگر فولادی اعصاب کا مالک نوازشریف اس میں بھی نہیں گرا۔واقعی نوازشریف بہت بہادر ہے مگر کمزوروں کے لشکر میں ہے۔کلثوم نوازکی جدائی کے غم کے بعد نوازشریف اگر سنبھل سکتا ہے تو نوازشریف سے کچھ بھی توقع لگائی جاسکتی ہے۔شاید میں نے اپنی زندگی میں اتنے مضبوط اعصاب اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا شخص نہیں دیکھا۔نوازشریف سنبھل چکا ہے۔کلثوم نواز کی موت نے نوازشریف کو ہلایا ضرور ہے مگر نوازشریف کا حوصلہ ہم سب کی سوچ سے بھی زیادہ ہے۔انتہائی دکھ اور تکلیف کے باوجود جنازہ گاہ میں خود گاڑی چلا کر آنا،ایک واضح پیغام تھا کہ میں اب بھی فرنٹ سے لیڈ کروں گا۔نواز شریف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنا اب تقریباََ ناممکن ہوچکا ہے۔نوازشریف کا نعم البدل بھی نوازشریف ہی ہے۔ آج سے چند سال قبل کسی نے لکھا تھا کہ نوازشریف گوال منڈی کا وہ نوجوان ہے جو اپنی قسمت خود لکھ کر پیدا ہوا ہے، نوازشریف کی قسمت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ سچ ثابت ہورہا ہے۔آج اگر نوازشریف جیل میں نہ ہوتے،پاناما اور ڈان لیکس کا اسکینڈل نہ آیا ہوتا۔عدالتی نااہلی نہ ملی ہوتی،بیگم کلثوم نواز اس انداز میں فوت نہ ہوتیں تو آج نوازشریف بھی درجنوں سابق وزرائے اعظم کی طرح ایک عام سا سیاستدان ہوتا۔پاناما لیکس سے جیل تک کے تمام مرحلے نے نوازشریف کو سابق وزیراعظم سے مسلم لیگ ن کا سپریم لیڈر بنا دیا ہے۔کلثوم نوازصاحبہ کی بیماری قدرت کی طرف سے تھی۔جس نوعیت کا انہیں کینسر تھا،شاید ہی دنیا میں اس مرض کا کوئی مریض محفوظ رہا ہو۔میری اطلاعات کے مطابق ڈاکٹرز کی چند ماہ پہلے یہی رائے تھی کہ محترمہ کلثوم نواز جتنا عرصہ بھی زندہ رہیں گی یہ ایک بونس ہوگا۔کینسر سے لڑتے لڑتے وہ اپنی قدرتی عمر چند ماہ پہلے ہی مکمل کرچکی تھیں۔مگر نوازشریف کو یوں بیمار بیوی کو چھوڑ کر پورے حوصلے سے پاکستان آنا اور پھر گرفتاری دے کر جیل چلے جانا۔سہالہ ریسٹ ہاوس میں قیام سے انکار کرنا۔جیل میں عام قید ی کی طرح زندگی گزارنا۔لاڈلی بیٹی کو جیل کی سختی کاٹتے دیکھنا۔ہفتے میں صرف چند منٹ کے لئے بیمار بیوی کی آواز سننا۔اسپتال کے صدارتی کمرے کو لڑ جھگڑ کر چھوڑکر واپس جیل آنا،جس کا معیار فائیواسٹار ہوٹل جیسا ہو۔کلثوم نواز کی موت کی خبر سن کر حوصلے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا۔اپنے بھائی شہباز شریف کی کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود پیرول کی درخواست پر دستخط نہ کرنا۔یہ سب اقدامات اپنی قسمت خود ہی لکھنے کے مترادف ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ کلثوم نواز کی موت نے نوازشریف کوتوڑ دیا ہے مگر میں جس نوازشریف سے ملا ہوں۔میری رائے میں کلثوم نواز کینسر سے لڑتے لڑتے خود تو گر گئیں مگر نوازشریف کو کھڑا کرگئیں۔نوازشریف سے بہت سے اختلافات ہوسکتے ہیں،ان کی طرز سیاست کو زیر بحث لایا جاسکتا ہے۔مگر نوازشریف پاکستان کا آیت اللہ خمینی اور طیب اردوان بن چکا ہے۔ کینسر کا اختتام موت پر ہوتا ہے۔ڈاکٹرز سمجھتے ہیں کہ اگر کینسر کا علاج نہ کیا جائے تو انسان کینسر سے مرجاتا ہے اور اگر اس کا علاج کیا جائے تو علاج سے مرجاتا ہے۔یہ ایسا موذی مرض ہے کہ جس کا علاج بھی انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے۔اچھے بھلے انسان کی قوت مدافعت جواب دی جاتی ہے۔کسی کی بھی موت پر سیاست نہیں ہونی چاہئے مگر ہمیشہ شریف خاندان پر طنز کے نشتر برسائے جاتے تھے کہ شریف خاندان نے کوئی خون نہیں دیا۔تمام خون بھٹو خاندان نے دئیے ہیں۔لیکن محترمہ کلثوم نواز جاتے جاتے اپنے خاندان سے یہ داغ بھی دھو کر چلی گئیں۔عام حالات میں کلثوم نواز کی موت کبھی بھی سیاسی نہ ہوتی مگر آج ہم لاکھ انکار کریں،ایک بات طے ہے کہ کلثوم نواز کی موت ایک سیاسی موت بن چکی ہے۔ گزشتہ روز کلثوم نواز مرحومہ کے جنازے میں جانے کا اتفاق ہوا۔بلاشبہ عوام کا سمندر تھا۔گاڑی کئی کلومیٹر دور کھڑی کرنے کے بعدپیدل چل کر جنازہ گاہ میں پہنچا تھا۔سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں ہی قطاریں تھیں۔حد نگاہ گاڑیوں کی پارکنگ ہی پارکنگ نظر آرہی تھی۔زیادہ نہیں تو پندرہ سے بیس ہزار گاڑیاں تو ان گنہگار آنکھوں نے خود دیکھیں۔جتنے لوگ جنازہ گاہ کے اندر تھے اس سے کئی گنا لوگ باہر کھڑے ہوئے تھے۔صاف لگ رہا تھا کہ لوگ دل سے آئے ہیں۔ہر آنکھ اشک بار تھی۔اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت مرحومہ کے نیک اور پرہیز گار ہونے کی علامت شمار کیا جاسکتا ہے۔کلثوم نواز کا جنازہ ان کے جنتی ہونے کی بار بار ضمانت دے رہا تھا۔نوازشریف کیبھی پورے حوصلے کے ساتھ شرکت دراصل کلثوم نواز کی روح کو سکون پہنچانے کے لئے کافی تھی۔اس مشکل اور آزمائشی وقت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہمت اور حوصلہ ہی خاندان کے افراد کو مزید ٹوٹنے سے بچائے گا۔شاید اب ان کی صاحبزادی مریم نواز کو ان کی اشد ضرورت ہوگی۔ماں کی جدائی کا غم بہت بڑا اور تکلیف دہ ہے۔اللہ ہم سب کی ماؤں کا سایہ ہمارے سر پر ہمیشہ سلامت رکھے۔مگر اب نوازشریف کو سیاسی آزمائشوں کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کا بھی خوب خیال رکھنا ہے۔نوازشریف واحد آدمی ہیں جو شریف خاندان کو اس گرداب سے نکال سکتے ہیں۔

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار حذیفہ رحمن اپنے کالم پاکستانی سیاست اور نواز شریف میں لکھتے ہیں کہ کچھ ایسے حادثے بھی زندگی میں ہوتے ہیں کہ انسان بچ تو جاتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔شاید مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ کی موت بھی نوازشریف کے لئے ایسا ہی حادثہ ہے۔نواز شریف کے لئے اب کھونے کو زنجیریں ہیں اور پانے کو سارا جہاں ہے۔جیل سے عبوری رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی تصویر میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف خاصے کمزور اور ٹوٹے ہوئے نظر آرہے تھے۔

ظاہر ہے 47سالہ رفاقت کوئی کم نہیں ہوتی۔میں نے ذاتی طور پر پہلی مرتبہ نوازشریف کو کمزور ہوتے دیکھا تھا۔مگر نوازشریف سنبھل چکے ہیں۔بہت بڑا حادثہ تھا مگر فولادی اعصاب کا مالک نوازشریف اس میں بھی نہیں گرا۔واقعی نوازشریف بہت بہادر ہے مگر کمزوروں کے لشکر میں ہے۔کلثوم نوازکی جدائی کے غم کے بعد نوازشریف اگر سنبھل سکتا ہے تو نوازشریف سے کچھ بھی توقع لگائی جاسکتی ہے۔شاید میں نے اپنی زندگی میں اتنے مضبوط اعصاب اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا شخص نہیں دیکھا۔نوازشریف سنبھل چکا ہے۔کلثوم نواز کی موت نے نوازشریف کو ہلایا ضرور ہے مگر نوازشریف کا حوصلہ ہم سب کی سوچ سے بھی زیادہ ہے۔انتہائی دکھ اور تکلیف کے باوجود جنازہ گاہ میں خود گاڑی چلا کر آنا،ایک واضح پیغام تھا کہ میں اب بھی فرنٹ سے لیڈ کروں گا۔نواز شریف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنا اب تقریباََ ناممکن ہوچکا ہے۔نوازشریف کا نعم البدل بھی نوازشریف ہی ہے۔ آج سے چند سال قبل کسی نے لکھا تھا کہ نوازشریف گوال منڈی کا وہ نوجوان ہے جو اپنی قسمت خود لکھ کر پیدا ہوا ہے، نوازشریف کی قسمت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ سچ ثابت ہورہا ہے۔آج اگر نوازشریف جیل میں نہ ہوتے،پاناما اور ڈان لیکس کا اسکینڈل نہ آیا ہوتا۔عدالتی نااہلی نہ ملی ہوتی،بیگم کلثوم نواز اس انداز میں فوت نہ ہوتیں تو آج نوازشریف بھی درجنوں سابق وزرائے اعظم کی طرح ایک عام سا سیاستدان ہوتا۔پاناما لیکس سے جیل تک کے تمام مرحلے نے نوازشریف کو سابق وزیراعظم سے مسلم لیگ ن کا سپریم لیڈر بنا دیا ہے۔

کلثوم نوازصاحبہ کی بیماری قدرت کی طرف سے تھی۔جس نوعیت کا انہیں کینسر تھا،شاید ہی دنیا میں اس مرض کا کوئی مریض محفوظ رہا ہو۔میری اطلاعات کے مطابق ڈاکٹرز کی چند ماہ پہلے یہی رائے تھی کہ محترمہ کلثوم نواز جتنا عرصہ بھی زندہ رہیں گی یہ ایک بونس ہوگا۔کینسر سے لڑتے لڑتے وہ اپنی قدرتی عمر چند ماہ پہلے ہی مکمل کرچکی تھیں۔مگر نوازشریف کو یوں بیمار بیوی کو چھوڑ کر پورے حوصلے سے پاکستان آنا اور پھر گرفتاری دے کر جیل چلے جانا۔سہالہ ریسٹ ہاوس میں قیام سے انکار کرنا۔جیل میں عام قید ی کی طرح زندگی گزارنا۔

لاڈلی بیٹی کو جیل کی سختی کاٹتے دیکھنا۔ہفتے میں صرف چند منٹ کے لئے بیمار بیوی کی آواز سننا۔اسپتال کے صدارتی کمرے کو لڑ جھگڑ کر چھوڑکر واپس جیل آنا،جس کا معیار فائیواسٹار ہوٹل جیسا ہو۔کلثوم نواز کی موت کی خبر سن کر حوصلے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا۔اپنے بھائی شہباز شریف کی کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود پیرول کی درخواست پر دستخط نہ کرنا۔یہ سب اقدامات اپنی قسمت خود ہی لکھنے کے مترادف ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ کلثوم نواز کی موت نے نوازشریف کوتوڑ دیا ہے مگر میں جس نوازشریف سے ملا ہوں۔

میری رائے میں کلثوم نواز کینسر سے لڑتے لڑتے خود تو گر گئیں مگر نوازشریف کو کھڑا کرگئیں۔نوازشریف سے بہت سے اختلافات ہوسکتے ہیں،ان کی طرز سیاست کو زیر بحث لایا جاسکتا ہے۔مگر نوازشریف پاکستان کا آیت اللہ خمینی اور طیب اردوان بن چکا ہے۔ کینسر کا اختتام موت پر ہوتا ہے۔ڈاکٹرز سمجھتے ہیں کہ اگر کینسر کا علاج نہ کیا جائے تو انسان کینسر سے مرجاتا ہے اور اگر اس کا علاج کیا جائے تو علاج سے مرجاتا ہے۔یہ ایسا موذی مرض ہے کہ جس کا علاج بھی انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے۔اچھے بھلے انسان کی قوت مدافعت جواب دی جاتی ہے۔

کسی کی بھی موت پر سیاست نہیں ہونی چاہئے مگر ہمیشہ شریف خاندان پر طنز کے نشتر برسائے جاتے تھے کہ شریف خاندان نے کوئی خون نہیں دیا۔تمام خون بھٹو خاندان نے دئیے ہیں۔لیکن محترمہ کلثوم نواز جاتے جاتے اپنے خاندان سے یہ داغ بھی دھو کر چلی گئیں۔عام حالات میں کلثوم نواز کی موت کبھی بھی سیاسی نہ ہوتی مگر آج ہم لاکھ انکار کریں،ایک بات طے ہے کہ کلثوم نواز کی موت ایک سیاسی موت بن چکی ہے۔ گزشتہ روز کلثوم نواز مرحومہ کے جنازے میں جانے کا اتفاق ہوا۔بلاشبہ عوام کا سمندر تھا۔گاڑی کئی کلومیٹر دور کھڑی کرنے کے بعد

پیدل چل کر جنازہ گاہ میں پہنچا تھا۔سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں ہی قطاریں تھیں۔حد نگاہ گاڑیوں کی پارکنگ ہی پارکنگ نظر آرہی تھی۔زیادہ نہیں تو پندرہ سے بیس ہزار گاڑیاں تو ان گنہگار آنکھوں نے خود دیکھیں۔جتنے لوگ جنازہ گاہ کے اندر تھے اس سے کئی گنا لوگ باہر کھڑے ہوئے تھے۔صاف لگ رہا تھا کہ لوگ دل سے آئے ہیں۔ہر آنکھ اشک بار تھی۔اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت مرحومہ کے نیک اور پرہیز گار ہونے کی علامت شمار کیا جاسکتا ہے۔کلثوم نواز کا جنازہ ان کے جنتی ہونے کی بار بار ضمانت دے رہا تھا۔نوازشریف کی

بھی پورے حوصلے کے ساتھ شرکت دراصل کلثوم نواز کی روح کو سکون پہنچانے کے لئے کافی تھی۔اس مشکل اور آزمائشی وقت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہمت اور حوصلہ ہی خاندان کے افراد کو مزید ٹوٹنے سے بچائے گا۔شاید اب ان کی صاحبزادی مریم نواز کو ان کی اشد ضرورت ہوگی۔ماں کی جدائی کا غم بہت بڑا اور تکلیف دہ ہے۔اللہ ہم سب کی ماؤں کا سایہ ہمارے سر پر ہمیشہ سلامت رکھے۔مگر اب نوازشریف کو سیاسی آزمائشوں کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کا بھی خوب خیال رکھنا ہے۔نوازشریف واحد آدمی ہیں جو شریف خاندان کو اس گرداب سے نکال سکتے ہیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں