اہم خبریں

وہ وقت جب فوجی آمرپرویز مشرف بیگم کلثوم نواز سے خوفزدہ ہو گیا انکی تحریک سے تنگ آکر جنرل مشرف نے شریف خاندان کی جلاوطنی کیلئےپہلی شرط ہی یہ رکھی تھی کہ۔۔جاوید ہاشمی ایسی بات سامنے لے آئے جو آج تک کسی کو پتہ نہیں تھی

  بدھ‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2018  |  13:40
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز جنہوں نے طاقتور ترین فوجی آمر پرویز مشرف کی نیندیں حرام کر کے رکھ دیں، شریف فیملی کو سعودی عرب جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا گیا توپرویز مشرف نے سب سے پہلی شرط یہی رکھی تھی کہ باقی شریف خاندان کے ساتھ بیگم کلثوم نواز بھی سعودی عرب جائیں گی، مشرف دور میں بکھری ہوئی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم اے آر ڈی پر اکٹھا کرنے کا سہرا بھی بیگم کلثوم نواز کے سر تھا، جاوید ہاشمی کا نجی ٹی وی پروگرام میں سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کو شاندار خراج

(خبر جا ری ہے)

جمہوریت کیلئے ان کی خدمات اور وژن کو بے مثال قراردیدیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے بیگم کلثوم نواز کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ ایک اچھی بیوی، اچھی ماں اور اچھی بہو تھیں اور ان کا کردار ایک گھریلو خاتون کا تھا ، ان کومطالعہ کا بہت شوق تھا اور وہ اردو ادب سے بے پناہ شغف رکھتی تھیں اور اردو پر ان کی مہارت اور دسترس بے مثال تھی ہمیں بھی جب کبھی کوئی الفاظ اپنی تقریر میں لکھوانا ہوتا اور سمجھ نہ آرہی ہوتی تو ہم ان سے رابطہ کرتے تھے ، وہ بہت اچھی تقاریر لکھا کرتی تھیں۔ جاوید ہاشمی نے بتایا کہ جب فوجی آمر پرویز مشرف نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تو اس وقت ساری شریف فیملی جیلوں میں تھی ایسے وقت میں ہم نے سوچا کہ اگر بیگم کلثوم نواز ہماری تحریک کی قیادت کریں تو یہ زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے اور ہم یہ سوچ لیکر نواز شریف اور شہباز شریف کے والد میاں محمد شریف کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ بیگم کلثوم نواز کو ہماری تحریک کی ذمہ داری سونپیں جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ بیگم کلثوم نواز کے سامنے آتے ہی حالات تیزی سے بدلنے لگے، اس وقت تمام جماعتیں بکھری ہوئی تھیں اور ن لیگ سے ان کے اختلافات تھے جن میں جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی ، نوابزادہ نصر اللہ وغیرہ سر فہرست تھیں۔ بیگم کلثوم نواز نے نوابزادہ نصر اللہ سے ملاقات کی ، دیگر جماعتوں کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا سہرہ بھی انہی کے سر تھا۔ اے آر ڈی کو منظم کرنے کے بعد انہوں نے ملک گیر تحریک شروع کی اور ملک کے طول و عرض میں گئیں۔ پرویز مشرف ان سے اس قدر تنگ آچکا تھا اور اس کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں کہ جب شریف خاندان کو سعودی عرب جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس نے پہلی شرط یہی رکھی تھی کہ شریف خاندان کے ساتھ بیگم کلثوم نواز بھی سعودی عرب جلاوطن ہونگی۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز جنہوں نے طاقتور ترین فوجی آمر پرویز مشرف کی نیندیں حرام کر کے رکھ دیں، شریف فیملی کو سعودی عرب جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا گیا توپرویز مشرف نے سب سے پہلی شرط یہی رکھی تھی کہ باقی شریف خاندان کے ساتھ بیگم کلثوم نواز بھی سعودی عرب جائیں گی، مشرف دور میں بکھری ہوئی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم اے آر ڈی پر اکٹھا کرنے کا سہرا بھی بیگم کلثوم نواز کے سر تھا،

جاوید ہاشمی کا نجی ٹی وی پروگرام میں سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کو شاندار خراج تحسین ، جمہوریت کیلئے ان کی خدمات اور وژن کو بے مثال قراردیدیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے بیگم کلثوم نواز کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ ایک اچھی بیوی، اچھی ماں اور اچھی بہو تھیں اور ان کا کردار ایک گھریلو خاتون کا تھا ، ان کومطالعہ کا بہت شوق تھا اور وہ اردو ادب سے بے پناہ شغف رکھتی تھیں اور اردو پر ان کی مہارت اور دسترس بے مثال تھی ہمیں بھی جب کبھی کوئی الفاظ اپنی تقریر میں لکھوانا ہوتا اور سمجھ نہ آرہی ہوتی تو ہم ان سے رابطہ کرتے تھے ، وہ بہت اچھی تقاریر لکھا کرتی تھیں۔ جاوید ہاشمی نے بتایا کہ جب فوجی آمر پرویز مشرف نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تو اس وقت ساری شریف فیملی جیلوں میں تھی ایسے وقت میں ہم نے سوچا کہ اگر بیگم کلثوم نواز ہماری تحریک کی قیادت کریں تو یہ زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے اور ہم یہ سوچ لیکر نواز شریف اور شہباز شریف کے والد میاں محمد شریف کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ بیگم کلثوم نواز کو ہماری تحریک کی ذمہ داری سونپیں جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ بیگم کلثوم نواز کے سامنے آتے ہی حالات تیزی سے بدلنے لگے، اس وقت تمام جماعتیں بکھری ہوئی تھیں اور ن لیگ سے ان کے اختلافات تھے جن میں جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی ، نوابزادہ نصر اللہ وغیرہ سر فہرست تھیں۔ بیگم کلثوم نواز نے نوابزادہ نصر اللہ سے ملاقات کی ، دیگر جماعتوں کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا سہرہ بھی انہی کے سر تھا۔ اے آر ڈی کو منظم کرنے کے بعد انہوں نے ملک گیر تحریک شروع کی اور ملک کے طول و عرض میں گئیں۔ پرویز مشرف ان سے اس قدر تنگ آچکا تھا اور اس کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں کہ جب شریف خاندان کو سعودی عرب جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس نے پہلی شرط یہی رکھی تھی کہ شریف خاندان کے ساتھ بیگم کلثوم نواز بھی سعودی عرب جلاوطن ہونگی۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں