اہم خبریں

سی پیک منصوبہ امریکا کو کھٹکنے لگا ! پاکستان میں چینی سرمایہ کاری روکنے کیلئے کونسا پلان تیار کر رہا ہے؟ گلوبل ٹائمز نے پاکستان اور چین کو خبر دار کر تے ہوئے انکشافات سے بھرپور’ رپورٹ‘ جاری کر دی

  جمعہ‬‮ 3 اگست‬‮ 2018  |  17:37
بیجنگ(آئی این پی)چین اور پاکستان کی نئی حکومت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کیخلاف ہونے والے پراپیگنڈے پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے،امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پمپیو نے گذشتہ دونوں انتباہ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان کی نئی حکومت کیلئے بیل آئوٹ پیکیج چینی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ واضح طور پر پاکستان کیلئےرکاوٹیں پیدا کر رہا ہے،جو بیل آئوٹ پیکیج کی امید لگائے ہوئے ہے۔ان خیالات کا اظہار چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز نے چینی ماہرین کے حوالے سے کیا ہے،ادھر

(خبر جا ری ہے)

نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسلام آبادکے حکام نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ بیل آئوٹ پیکیج کے بدلے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی چینی سرمایہ کاری روکنا چاہتا ہے،پاکستان کو اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران کا سامنا ہے،جو واشنگٹن کو ایک موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کی مالی مشکلات کو سی پیک کے منصوبوں اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کیخلاف ضرب کے طور پر استعمال کرے،پمپیو کے الفاظ کے پیچھے اس کے سوا کیا ہے کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اخبار لکھتا ہے کہ جنوری میں امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ جب کہ پاکستانی حکومت دہشتگردی ملکوں کیخلاف اپنی سرحدوں کے اندر فیصلہ کن اقدام نہیں کرتی اس کی سیکیورٹی کیلئے دی جانے والی امداد معطل کر دی جائیگی، یہ بات قابل توجہ ہے کہ واشنگٹن اس وقت چین اور پاکستان کے درمیان قریبی اقتصادی تعلقات کو ناپسند کر رہا ہے،جب وہ اسلام آباد پر دبائو ڈالنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے سابق امریکی نمائندے مارک سوبل کا حوالہ دیتے ہوئے فنانشل ٹائمز کا کہناہے کہ آئی ایم ایف کو سی پیک کے تمام قرضوں،شرائط اور فریقین کا جامع ڈیٹا یاد رکھنے کی ضرورت ہے،ہمیں معلوم نہیں کہ اگر امریکہ کے اتحادی آئی ایم ایف سے کوئی مدد چاہتے ہیں تو فنڈز حاصل کرنے کیلئے ان تمام ممالک کے ایک جامع ڈیٹا اور سرمایہ کاری منصوبوں جن میں امریکہ اور دیگر تیسرے فریقین شامل ہوں گے کی ضرورت ہو گی۔اگر نہیں تو امریکہ کو آئی ایم ایف سے یہ کہنیکا حق بھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کوئی خصوصی سلوک کرے،امریکہ آئی ایم ایف کا سب سے بڑا شراکت دار ہےلیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ واشنگٹن جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔اخبار کے مطابق سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ کا اہم منصوبہ ہے امریکہ نے اب تک اس میں شامل ہونے کیلئے کوئی واضح عندیہ نہیں دیا،اس لیےامریکہ کے لیے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ چین پاکستان یا اور بین الاقوامی تنظیموں کو مجبور کرے کہ وہ سی پیک کے قرضوں اور سرمایہ کاری منصوبوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کریں۔چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں اس لیے واشنگٹن کو چین کے گردوپیش کے علاقوں میں اقتصادی بے چینی پیدا کرنے سے باز رہنا چاہیے۔

بیجنگ(آئی این پی)چین اور پاکستان کی نئی حکومت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کیخلاف ہونے والے پراپیگنڈے پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے،امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پمپیو نے گذشتہ دونوں انتباہ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان کی نئی حکومت کیلئے بیل آئوٹ پیکیج چینی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔اس سے پتہ چلتا ہے

کہ امریکہ واضح طور پر پاکستان کیلئےرکاوٹیں پیدا کر رہا ہے،جو بیل آئوٹ پیکیج کی امید لگائے ہوئے ہے۔ان خیالات کا اظہار چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز نے چینی ماہرین کے حوالے سے کیا ہے،ادھر فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسلام آبادکے حکام نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ بیل آئوٹ پیکیج کے بدلے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی چینی سرمایہ کاری روکنا چاہتا ہے،پاکستان کو اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران کا سامنا ہے،جو واشنگٹن کو ایک موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کی مالی مشکلات کو سی پیک کے منصوبوں اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کیخلاف ضرب کے طور پر استعمال کرے،پمپیو کے الفاظ کے پیچھے اس کے سوا کیا ہے کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اخبار لکھتا ہے کہ جنوری میں امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ جب کہ پاکستانی حکومت دہشتگردی ملکوں کیخلاف اپنی سرحدوں کے اندر فیصلہ کن اقدام نہیں کرتی اس کی سیکیورٹی کیلئے دی جانے والی امداد معطل کر دی جائیگی، یہ بات قابل توجہ ہے کہ واشنگٹن اس وقت چین اور پاکستان کے درمیان قریبی اقتصادی تعلقات کو ناپسند کر رہا ہے،جب وہ اسلام آباد پر دبائو ڈالنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے سابق امریکی نمائندے مارک سوبل کا حوالہ دیتے ہوئے فنانشل ٹائمز کا کہناہے کہ آئی ایم ایف کو سی پیک کے تمام قرضوں،شرائط اور فریقین کا جامع ڈیٹا یاد رکھنے کی ضرورت ہے،ہمیں معلوم نہیں کہ اگر امریکہ کے اتحادی آئی ایم ایف سے کوئی مدد چاہتے ہیں تو فنڈز حاصل کرنے کیلئے ان تمام ممالک کے ایک جامع ڈیٹا اور سرمایہ کاری منصوبوں جن میں امریکہ اور دیگر تیسرے فریقین شامل ہوں گے کی ضرورت ہو گی۔

اگر نہیں تو امریکہ کو آئی ایم ایف سے یہ کہنیکا حق بھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کوئی خصوصی سلوک کرے،امریکہ آئی ایم ایف کا سب سے بڑا شراکت دار ہےلیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ واشنگٹن جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔اخبار کے مطابق سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ کا اہم منصوبہ ہے امریکہ نے اب تک اس میں شامل ہونے کیلئے کوئی واضح عندیہ نہیں دیا،اس لیے

امریکہ کے لیے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ چین پاکستان یا اور بین الاقوامی تنظیموں کو مجبور کرے کہ وہ سی پیک کے قرضوں اور سرمایہ کاری منصوبوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کریں۔چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں اس لیے واشنگٹن کو چین کے گردوپیش کے علاقوں میں اقتصادی بے چینی پیدا کرنے سے باز رہنا چاہیے۔

موضوعات:

loading...