اہم خبریں

نواز شریف اور مریم نواز کو قید سے نکالنے کیلئے سعودی عرب کی عمران خان کو بڑی پیش کش، سابق وزیراعظم کو ڈیل دلوانے کیلئے کس طرح بلیک میلنگ کی جا رہی ہے، کپتان نے بھی دھماکہ خیز فیصلہ سنا دیا، قومی اخبار کے تہلکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 1 اگست‬‮ 2018  |  14:40
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کی سعودی پیش کش عمران خان نے مسترد کر دی، قومی اخبار کا دعویٰ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مؤقر قومی اخبار کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ عمران خان نے نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کیلئے سعودی عرب کی پیش کش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی سفیر نےتین روز قبل عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان تک اپنی حکومت کا پیغام پہنچایا تھا کہ عمران خان کے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل ہی

(خبر جا ری ہے)

غرض سے نواز شریف کو بیرون ملک بھجوا دیا جائے بعد میں انسانی ہمدردی کے تحت ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی رہا کرا کے بیرون ملک بھیج دیا جائے لیکن عمران خان نے یہ کہتے ہوئے سعودی پیش قبول نہیں کہ سعودی عرب چند دن کے اندر اپنے شہزادوں سے لوٹ مار کے اربوں، کھربوں ڈالر واپس لے سکتی ہے تو نواز شریف کی لوٹ مار کی رقم کی واپسی میں کیوں رکاوٹ ڈالی جائے حالانکہ نواز شریف کی بیرون ملک بلیک منی ہے جس کیلئے دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت وہ رعایت کے مستحق نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں نگران حکومت سے بھی رابطہ کیا گیا مگر اس نے تمام دبائو عمران خان کی طرف منتقل کردیا کہ انہیں چند روز تک اقتدار سنبھالنا ہے لہٰذا فیصلہ بھی وہی کرینگے لیکن عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ رقم واپس کئے بغیر نواز شریف کو جیل سے رہائی نہیں ملے گی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کی طرف سے امریکہ میں کام کرنیوالی لابنگ فرم نے امریکی حکومتی عہدیداروں کو بھی یہ باور کرایا ہے کہ نواز شریف کے ملتان میں سرل المیڈا کے انٹرویو میں عائد کئے گئے الزامات کے بعد ہی ساری مشکلات پیدا ہوئی ہیں اوراگر اس موقع پر نواز شریف کی مدد نہیں کی جاتی تو اس خطے میں امریکہ کو سیاسی حمایت کیلئے کوئی بھی سیاستدان نہیں ملے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کے کہنے پر ہی رہائی کی تجویز دی تھی۔واضح رہے کہ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ہم اس بات پر نظر رکھیں گے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ممکنہ مالی پیکیج کو چینی قرضوں کیادائیگی کیلئے استعمال نہ کرنے پائے۔ امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو کوئی غلط نہیں کرنی چاہئے۔ ایسے بیل آئوٹ کا کوئی جواز نہیںجس سے چینی قرضے ادا کئے جائیں ، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، ہم اس حوالے سے آئی ایم ایف کےاقدامات پر نظر رکھیں گے۔ غیر ملکی فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 12ارب ڈالر قرض کے پیکیج کی تیاریاں کر رہا ہے تاہم آئی ایم ایف کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی قسم کے بیل آئوٹ پیکیج کی کوئی درخواست نہیں ملی اور نہ ہی اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے کوئی بات ہوئی ہے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کی سعودی پیش کش عمران خان نے مسترد کر دی، قومی اخبار کا دعویٰ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مؤقر قومی اخبار کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ عمران خان نے نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کیلئے سعودی عرب کی پیش کش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سعودی سفیر نےتین روز قبل عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان تک اپنی حکومت کا پیغام پہنچایا تھا کہ عمران خان کے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل ہی علاج کی غرض سے نواز شریف کو بیرون ملک بھجوا دیا جائے بعد میں انسانی ہمدردی کے تحت ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی رہا کرا کے بیرون ملک بھیج دیا جائے لیکن عمران خان نے یہ کہتے ہوئے سعودی پیش قبول نہیں کہ سعودی عرب چند دن کے اندر اپنے شہزادوں سے لوٹ مار کے اربوں، کھربوں ڈالر واپس لے سکتی ہے تو نواز شریف کی لوٹ مار کی رقم کی واپسی میں کیوں رکاوٹ ڈالی جائے حالانکہ نواز شریف کی بیرون ملک بلیک منی ہے جس کیلئے دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت وہ رعایت کے مستحق نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں نگران حکومت سے بھی رابطہ کیا گیا مگر اس نے تمام دبائو عمران خان کی طرف منتقل کردیا کہ انہیں چند روز تک اقتدار سنبھالنا ہے لہٰذا فیصلہ بھی وہی کرینگے لیکن عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ رقم واپس کئے بغیر نواز شریف کو جیل سے رہائی نہیں ملے گی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کی طرف سے امریکہ میں کام کرنیوالی لابنگ فرم نے امریکی حکومتی عہدیداروں کو بھی یہ باور کرایا ہے کہ نواز شریف کے ملتان میں سرل المیڈا کے انٹرویو میں عائد کئے گئے الزامات کے بعد ہی ساری مشکلات پیدا ہوئی ہیں اوراگر اس موقع پر نواز شریف کی مدد نہیں کی جاتی تو اس خطے میں امریکہ کو سیاسی حمایت کیلئے کوئی بھی سیاستدان نہیں ملے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کے کہنے پر ہی رہائی کی تجویز دی تھی۔

واضح رہے کہ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ہم اس بات پر نظر رکھیں گے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ممکنہ مالی پیکیج کو چینی قرضوں کیادائیگی کیلئے استعمال نہ کرنے پائے۔ امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو کوئی غلط نہیں کرنی چاہئے۔ ایسے بیل آئوٹ کا کوئی جواز نہیں

جس سے چینی قرضے ادا کئے جائیں ، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، ہم اس حوالے سے آئی ایم ایف کےاقدامات پر نظر رکھیں گے۔ غیر ملکی فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 12ارب ڈالر قرض کے پیکیج کی تیاریاں کر رہا ہے تاہم آئی ایم ایف کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی قسم کے بیل آئوٹ پیکیج کی کوئی درخواست نہیں ملی اور نہ ہی اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے کوئی بات ہوئی ہے۔

موضوعات:

loading...